بابا رحمتے ان ٹربل! …………….. تحریر ، اورنگزیب اعوان

پاکستان کی عدلیہ کئی دہائیوں سے اسٹیبلشمنٹ کے زیر نگیں ہے. اس لیے عوام اس کی طرف سے دیئے جانے والے اکثر فیصلہ جات کو شکوک کی نظر سے دیکھتی ہے. اس فرسودہ روایت کے قلع قمع کے لیے آمر پرویز مشرف کے دور میں عدلیہ بحالی تحریک کے نام سے جدوجہد کا آغاز کیا گیا. آمر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کرکے ملکی آئین کو معطل کر دیا تھا . اور عدلیہ کے تمام ججز کو پی سی او کے تحت حلف لینے کا حکم دیا تھا . جس پر اکثریت نے لبیک کہا. مگر کچھ با ضمیر ججوں نے اس کالے قانون کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے. اس کے تحت حلف لینے سے واضح طور پر انکار کر دیا. جن کو عتاب کا نشان بتایا گیا. اسی دور میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جس انداز میں معطل کیا گیا. اس کی مثال نہیں ملتی. پولیس والوں کے ہاتھوں ان کی تذلیل کروائی گئی. جس کو دیکھتے ہوئے. ملک بھر کے وکلاء رہنماؤں نے عدلیہ کی عظمت و وقار کی بحالی کے لیے ایک منظم تحریک کا آغاز کیا. جس کے روح رواں میں ایک قابل قدر نام انسانی حقوق کی علمبردار محترمہ عاصمہ جہانگیر کا ہے. جن کی یاد میں گزشتہ روز لاھور میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی. جس میں چیف جسٹس آف پاکستان، مختلف ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، پاکستان بار کونسل کے عہدیداران، ملک کے نامور وکلاء رہنماؤں کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی شخصیات نے ان کی گرا قدر خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا. علی احمد کرد جو اپنی شعلہ بیانی کی بدولت وکلاء رہنما میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں . انہوں نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے. جس انداز میں ملکی اسٹیبلشمنٹ کو للکارتے ہوئے. عدلیہ کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی ہے. اس کی مثال نہیں ملتی. جس کے جواب میں چیف جسٹس آف پاکستان کو کہنا پڑا. کہ انہوں نے اپنی عدالتی زندگی میں کبھی کسی کا دباؤ قبول نہیں کیا. میں نے ہمیشہ حق و سچ پر مبنی فیصلہ جات دیئے ہیں. میرے ماتحت ججز بھی ایسا ہی کر رہے ہیں.

اگر کوئی ایک واقع بھی ایسا ہے. جس میں انصاف کا قتل ہوا ہے. تو مجھے بتائیں. اسی کانفرنس میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار بھی تشریف فرما تھے. علی احمد کرد شاید انہیں سے مخاطب تھے. مگر جواب موجودہ چیف جسٹس کو دینا پڑا. اس کے اگلے ہی روز اسی کانفرنس سے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے لندن سے بذریعہ انٹرنیٹ خطاب کیا. جس کو اسٹیبلشمنٹ نے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا. مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکی. میاں محمد نواز شریف نے اس کانفرنس میں انتہائی دلیری سے ایک طرف محترمہ عاصمہ جہانگیر کی انسانیت اور عدلیہ کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے. ان کے لیے تعریف کلمات بولے. وہی اسٹیبلشمنٹ کے گندے کھیل کا ذکر کرتے ہوئے. اس کی کھلے الفاظ میں مذمت کی. اور اس کو اپنی آئینی حدود میں رہنے پر زور دیا. انہوں نے وکلا برادری سے درخواست کی. کہ وہ اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے. کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اپنی طاقت کے نشے میں چور ہو کر دیگر ملکی اداروں کی سالمیت پر حملہ آور ہوتی ہے. جس سے نہ صرف ان اداروں کی بلکہ ملکی سالمیت کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں. وکلا کیونکہ کسی بھی معاشرے کا سب سے باشعور طبقہ ہوتا ہے. اس لیے اس کی ذمہ داری دیگر طبقات سے زیادہ ہوتی ہے. کہ وہ اس غیر آئینی فعل کا ڈٹ کر مقابلہ کرے. گزشتہ روز ہی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک آڈیو ٹیپ بھی منظر عام پر آگئی ہے. جس میں وہ واضح طور پر بتا رہے ہیں. کہ ان انہیں حکم دیا گیا ہے. کہ میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز شریف کو ہر صورت سزا دینی ہے. کیونکہ ہم نے عمران خان کوحکومت میں لانا ہے. موصوف اس وڈیو کو جعلی قرار دے رہے ہیں. مگر ان کے کہنے سے اب کچھ نہیں ہو گا. اس سے قبل چیف جج گلگت بلتستان بھی ان پر الزام لگا چکے ہیں. اس آڈیو ٹیپ کے ساتھ امریکہ کی ایک مستند فریزک کمپنی کا تصدیقی سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا ہے. جو اس کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے. ثاقب نثار المعروف بابا رحمتے اب مشکل میں پھنس چکے ہیں. موجودہ چیف جسٹس کو اس واقع کا فوری از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کی سماعت کرنی چاہیے. اور عدلیہ کے ماتھے پر لگے ہوئے سیاہ دھبے کو دھونا چاہیے. یہ پہلا واقع نہیں. اسی طرح کے ان گنت سیاہ واقعات سے عدلیہ کی تاریخ بھری پڑی ہے. سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی غیر منصفانہ پھانسی بھی انہیں میں سے ایک ہے. جس کو آج تک درست کرنے کی کسی چیف جسٹس نے کوشش نہیں کی. کیونکہ وہ اس کے ذمہ داران سے ڈرتے ہیں. چلے کہی سے تو حقیقی انصاف کا آغاز کر دے. تاکہ عوام کا اعتماد عدلیہ ہر بحال ہو سکے. برطانیہ میں میں عدلیہ نے اپنی طاقت کو منوانے کے لیے ایک سابق آرمی چیف کی میت کو قبر سے نکلوا کر علامتی پھانسی دی تھی. مگر ہمارے ہاں ہمیشہ سیاسی رہنماؤں اور عوام کو ہی سولی پر لٹکایا جاتا ہے. فوجی جرنیل تو مقدس ترین ہستیاں ہیں. جن کے خلاف مقدمات سننا بھی گناہ کبیر تصور کیا جاتا ہے. یہ لوگ شروع دن سے ہی ملکی سیاست میں اپنی من مرضی کرتے چلے آ رہے ہیں. انہوں نے ہی محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دے کر آمر ایوب خان کو ملک پر مسلط کیا. انہوں نے ہی منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا. انہوں نے ہی عوام کی منتخب کردہ اسمبلیوں کو بار بار غیر آئینی طریقہ سے ٹوڑا ہے. مگر ان کے خلاف آج تک کوئی کاروائی نہیں ہو سکی. کیونکہ ان کے سامنے کھڑے ہونے کی کسی میں ہمت نہیں. جو یہ ہمت کرتا ہے. اسے یہ لوگ نشان عبرت بنا دیتے ہیں. چیف جسٹس نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں علی اعلان کہا ہے. کہ مجھے کوئی ایک واقع بتا دے. میں اس پر خود کاروائی کرو گا. تو شاید وہ ملکی سیاسی تاریخ سے ناواقف ہے. یہاں تو اسے واقعات سے اوراق بھرے پڑے ہیں. جو چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں. کہ کس طرح سے انصاف کا گلا گھونٹا گیا ہے.

موجودہ حکومت آیندہ الیکشن الیکڑانگ ووٹنگ مشین سے کروانے پر بضد ہے. اس کے پیچھے بھی یہی طاقت کارفرما ہے. جو عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خطاب کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ کاٹنے پہنچ گئی تھی. سابق چیف جسٹس ثاقب نثار المعروف بابا رحمتے اپنے دور میں ہر حکومتی فعل میں ٹانگ آڑا دیتے تھے. کیونکہ انہیں دیہات کے کلچر کے مطابق بابا رحمتے بننے کا بہت شوق تھا. شاید وہ ملکی عدلیہ کو بھی دیہات کی پنچائت سمجھ کر فیصلہ سازی کرتے تھے. دیہاتی پنچائت میں چوہدری کے سامنے بولنے کی کسی کی جسارت نہیں ہوتی. وہ ہر جائز و ناجائز فیصلہ صادر کر دیتا ہے. عدلیہ کے نظام میں ایسا ہرگز نہیں یوتا. یہاں ججوں کے فیصلہ جات کو چیلنج کیا جاتا ہے. بابا رحمتے اپنے غیر منصفانہ فیصلہ جات کی بدولت بڑی مشکل میں پھنسنے جا رہے ہیں. عدالت عظمیٰ کو چاہیے کہ وہ اس کیس کو مکمل ایمان داری سے سنے. اور سازش کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے. تاکہ آیندہ کوئی جج کسی بھی دباؤ میں غیر منصفانہ فیصلہ سازی کرنے کی ہمت نہ کر سکے. دیہاتی کلچر میں تو شاید بابائے رحمتے قابل قدر ہو. مگر عدلیہ کی تاریخ میں بابا رحمتے ایک گھناؤنہ کردار رہا ہے. جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہیں. اس کے من پسند اور دباؤ کے تحت دیئے گئے فیصلہ جات نے ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے. عدلیہ کو اب ایسے کرداروں سے اپنا دامن صاف کرنا ہو گا. کہنے سے کوئی بابا رحمتے نہیں بن جاتا. اس کے فیصلہ جات اس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں. اللہ تعالیٰ اس ملک وقوم کو ایسے کرداروں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھے آمین.

یہ احتساب عجب ہے کہ محتسب ہی نہیں
رکاب تھامنے والے حساب مانگتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں