پہیے کی بار بار ایجاد ! ……………… ڈاکٹر ظفراقبال رندھاوا

پاکستانی قوم مجموعی طور پر میلے ٹھیلے پسند کرنے والی لکیر کی فقیر اور جزباتی افراد کا مجمع ہے – ہم لوگ ہر وقت چھٹی اور تہوار منانے پر آمادہ رہتے ہیں – کسی بھی ایک سال میں کم و بیش چار سے چھ ماہ تک دفاتر اور تعلیمی اداروں میں کسی نہ کسی حوالے سے چھٹی ہوتی ہے – اس طرح کی غیر سنجیدگی کی توقع عوام الناس سے تو کی جا سکتی ہے لیکن وزراء ، بیوروکریٹس ، تعلیم اداروں کے سربراہان کا اس غیر سنجیدگی کے طوفان میں بہہ جانا ایسے ہی ہے جیسے کسی کشتی کا ملاح عین منجدھار میں کشتی ڈبونے پر تل چکا ہو – پہلے بات تو یہ ہے کہ ایسے حضرات باربار پہیہ ایجاد کرنے پر بضد ہیں اور ہر مرتبہ یہی دعوی کرتے ہیں کہ یہ پہیہ ہم نے آج ہی ایجاد کیا ہے –

دوسری بات پھر اس پہیے کی رسم رونمائ میں کسی وزیر کبیر وغیرہ وغیرہ کو دعوت دیتے ہیں – تیسری بات اس وزیر کبیر کے استقبال کے لئے ایک بھیڑ نما عوامی اجتماع کا اہتمام کرتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ دانشور حضرات کو دعوت دی جاتی ہے جو پہیے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں – چوتھی بات یہ کہ اس بھیڑ کو اکھٹا کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ ، کھانے پینے ، دیگر خاطر مدارات اور تقسیم انعامات پر بے دریغ رقم خرچ کی جاتی ہے – پھر متعلقہ سربراہان ادارہ جات وزیر کبیر بیوروکریٹس آخری رسم کے طور پر ان کی گاڑی میں اپنے ادارہ کی نمایئندگی کرتے ہوئے مارکیٹ سے خریدے پراڈکٹس پر اپنے ادارے کا ٹھپہ لگا کر رکھ دیتے ہیں – یوں پی آر کی ایک کھڑکی کھل جاتی ہے وزیر یا بیوروکریٹ موصوف کو پتہ چل جاتا ہے کہ “سربراہ ادارہ گناہ پر آمادہ ہیں” اور جب یہ شرم و حیا کر پردہ چاک ہو جاتا ہے تو پھر اس طرح کے موثر حلقوں کے گھروں میں نہ صرف پھل فروٹ بلکہ اور بھی بہت کچھ بھیجنا شروع کر دیا جاتا ہے – اور یوں یہ ناجائز تعلق بڑی ڈھٹائ کے ساتھ پی آر کے نام پر پروان چڑھتا ہے – عوام الناس پر رعب دبدبہ رکھنے کے لئے آئے روز اس طرح کے میلے ٹھیلے کروا کر اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے سربراہان نہ صرف اپنی بلکہ اپنے ماتحت سٹاف کے وقار کا بھی سودا کرتے ہیں – اور یہ رقص بسمل چلتا رہتا ہے جس کی بھینٹ یہ قوم چڑھ کر قربانیاں دیتی رہتی ہے چلاتی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں