تھیٹر اور ڈرامے! ………… تحریر ، شفقت اللہ مشتاق

زیر نظر سطور قلمبند کرنے کا خیال اس لئے آیا کہ مجھے اپنے سرکاری فرائض سے فرصت ہی نہیں ملتی کہ میں کچھ وقت نکال کر فنون لطیفہ تھیٹر یا فلم سے محظوظ ہو سکوں. تاہم میرے دو دوست ایسے ہیں جو ہمیشہ خوش رہتے ہیں بیک وقت صوفی بھی ہیں اور درویش بھی. شب بیدار اور نمازی بھی ہیں اور فنون لطیفہ کی مختلف اصناف سےبھی لطف اٹھاتے ہیں لہذا چار پانچ دن پہلے ایک دوست نے کہا کہ ڈرامہ دیکھا جائے. تھیٹر کے مالک میرے دوست کے دوست ہیں اور وہ ہمارے لئے چشم براہ تھے انہوں نے ہمیں کھلے دل سے ویلکم کیا اور فوری چائے کا آرڈردیا لیکن ہمارے چہروں پربھوک کے آثار دیکھ کرفوری کہنے لگے کہ پہلے آپ کو کھانا کھلائیں گے اور چائے چلے گی اور بعد ازاں ڈرامہ دیکھیں گے. ڈرامے کا آغاز قومی ترانے سے ہوا اور کردار پیش ہوئے جو ایک دوسرے کو کھری کھری سنا رہے تھے اسی اثنا یں ایک نشئی کا کردار کرنے والا آرٹسٹ آیا جس نے کردار کو خوب نبھایا اورڈرامے کو زعفران زار بنا دیا مزید کچھ گانے بھی سٹیج پر پیش کئے گئے. اسی دوران میرے ایک دوست کی غیرت جاگ گئی تھی میری غیرت سوئی جاگ رہی تھی جبکہ تیسرے دوست تو مکمل طور پر انجوائے کرنے کے موڈمیں تھے اور دوران ڈرامہ ادھر ادھر دیکھنے کے پوری طرح خلاف ہوچکے تھے. جبکہ ہمارے معزز میزبان ہماری خاطر مدارت میں مگن تھے اور ہم ڈرامہ دیکھنے میں لیکن میرا اول الذکر دوست آج کل کے ڈراموں میں ماحول کی وجہ سے ویسے ہی تھک چکا تھا. یہ ایک حقیقت ہے کہ بوریت, تھکاوٹ, پریشانی, مایوسی اور غیر یقینی حالت کا علاج فنون لطیفہ میں ہی مضمر ہے. لیکن کیا ہمارے آج کے ڈرامے فنون لطیفہ کے معیار پر پورا اترتے ہیں-

فنون لطیفہ جمالیاتی حس کے اظہار کا ذریعہ ہے اس کی پانچ قسمیں ہیں.موسیقی,مصوری,شاعری,سنگتراشی اور رقص. جہاں تک ڈرامہ کا تعلق ہے. ڈرامہ ایک ایسی کہانی ہے جو کرداروں کے عمل سے اور زبان سے ادا ہوتی ہے. ڈرامے کی اس تعریف میں جہاں کہانی, کردار, عمل اور مکالمے کو ضروری عناصر قرار دیا گیا ہے وہاں سٹیج اور تماشائی بھی اس کے دو اہم کردار ہیں. سٹیج کی ضرورتوں کو مدنظر رکھے بغیر اچھا ڈرامہ نہیں لکھا جا سکتا ہے. بنیادی طور پر ڈرامہ یونانی لفظ ڈراء سے بنا ہے. اردو ڈرامے کے مشہور ناقد ڈاکٹر محمداسلم قریشی اس کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں”ڈرامہ سٹیج پر فطرت کی نقالی کا ایک ایسا فن ہے جس میں اداکاروں کے ذریعے زندگی کےغیر معمولی اورغیر متوقع حالات کے “قوت ارادی”کا مظاہرہ تماشائی کے روبرو ایک معین وقت اور مخصوص انداز میں کیا جاتا ہے” جس طرح سٹیج کی ضرورتوں کا خیال رکھے بغیر اچھا ڈرامہ نہیں لکھا جا سکتا اس طرح تماشائیوں کی نفسیات اور ان کی پسند کودھیان میں رکھے بغیر بھی ڈرامے کی کامیابی ممکن نہیں. ڈرامے کی مندرجہ ذیل چند اہم اقسام ہیں. ۱.المیہ یا ٹریجڈی۲. طربیہ یا کامیڈی۳.میلو ڈرامہ۴.فارس ۵. برلیس. مزید یہ کہ ڈرامے کے چھ فنی عناصر ہیں. پلاٹ, کردار, مکالمہ, زبان, موسیقی اور آرائش.یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پست اور گھٹیا مزاح ہی کو برلیس کہتے ہیں. قارئین کرام: ویسے تو ڈرامہ کی کئی اقسام ہیں اور دنیا کے سارے ممالک میں یہ مقبول ہیں .تاریخی طور پر بھی اگردیکھا جائے تو یہ ہمیشہ ہی مقبول رہا ہے. پاکستان میں ریڈیو اور ٹی وی ڈرامے بڑے ہی مقبول ہوئے. بدقسمتی سے فلموں کے زوال کی وجہ سے اور”بازاروں” کے خاتمے کی وجہ سے سینما گھر تھیٹروں میں تبدیل ہو گئے اور پھر طنزو مزاح کا نام گالی گلوچ اور پھکڑبازی ٹھہرا اور موسیقی اور رقص مجروں میں تبدیل ہو گئے.اس غیر اخلاقی ماحول نے پاکستان میں ڈراموں کے کلچر کو بالکل تبدیل کردیا. اب تھئٹرز میں کوئی بھی شریف آدمی بیٹھ کر دیکھنے کی جرات نہیں کرسکتا کیونکہ کسی وقت بھی غل غپاڑہ ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں اغواء اور پھر قتل. چونکہ ان چیزوں کا قوی امکان تو ہوتاہی ہےاس لئے پولیس کے چھا پے کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا. اس لئے بہتر ہے کہ صنف نازک کے رقص پر جتنا جلدی ہو غیرت جاگ جائے اور بندہ لوئے لوئے گھر پہنچ جائے. ان حالات و واقعات کی روشنی میں ہم سب کو سوچنا ہے کہ تفریح, مجرے اور پھکڑ بازی میں بڑا فرق ہوتا ہے.لوگوں کو تفریح فراہم کرنا آرٹ اور کلچر کا حصہ ہے. ماضی میں بننے والی پاکستانی فلموں اور ڈراموں نے بڑی شہرت حاصل کی ہے اور آج صورتحال بڑی ہی مایوس کن ہے. حکومت اور عوام کو اس پہلو پر سوچنا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں