جذباتی قوم کے جذباتی لیڈر! …………… تحریر ، اورنگزیب اعوان

ملک میں آج کل وڈیو لیکس کا دور دورہ ہے. ہر سیاسی جماعت دوسری سیاسی جماعت کو نیچا دیکھانے کے چکر میں اس کے رہنماؤں کی وڈیو لیکس کر رہی ہے. عوام بھی ان وڈیوز پر اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتی دیکھائی دے رہی ہے. ہر شخص اپنے رہنما کا دفاع اور مخالف کی کردار کشی میں مصروف عمل ہے. جذبادیت کی رو میں بہہ کر سیاسی رہنما اور قوم اس بات پر غوروفکر نہیں کرتی. کہ آخر کار یہ وڈیوز لیکس کون کر رہا ہے. اس کو ریکارڈ کس نے کیا ہے. اور اس کے مذموم مقاصد کیا ہیں. یہ گھناؤنہ کھیل وہی خفیہ طاقتیں کھیل رہی ہیں. جو ہر بار چھپ کر اپنا کھیل سر انجام دیتی ہے. وہ ہر کسی کو یہ باور کروا رہی ہیں. کہ ہم آپ کے ساتھ مخلص ہیں. ہم آپ کی سیاسی جماعت اور اس ملک کے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں ہیں. اس لیے ہم آپ کو آپ کے سیاسی مخالف کا مکروہ چہرہ اور ارادہ بتانا چاہتے ہیں. اس لیے بطور ثبوت ہم آپ کو ان کی کچھ وڈیوز دے رہے ہیں. جس سے آپ ان کو عوام میں بے نقاب کر سکتے ہیں . اس کھیل کے پس پردہ ان کے اپنے مقاصد پوشیدہ ہوتے ہیں. یہ پوشیدہ طاقتیں ہر کھیل کے لیے اپنے قوانین و اصول مراتب کرتیں ہیں. کبھی یہ کھل کر فرنٹ فٹ پر کھیلتی ہیں. تو کبھی یہ پوشیدہ رہ کر وار کرتیں ہیں. ان کا مقصد ہر صورت فتح یاب ہونا ہوتا ہے. یہ شکست کسی صورت برداشت نہیں کرتیں. ان کے گھناؤنے کھیل کےمطلوبہ کھلاڑیوں میں سیاسی رہنما، آئینی اداروں کے سربراہان اور عوام ہوتی ہے. یہ ان کو آپس میں دست و گریبان کروا کر خود لطف اندوز ہوتے ہیں. ہماری عوام، سیاسی رہنما اور آئینی اداروں کے سربراہان اس قدر معصوم ہیں. کہ وہ ہر بار ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں. مولا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے. کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا. اس قول میں ایمان والوں کے لیے سبق پوشیدہ ہے. کہ جہاں سے آپ کو تکلیف یا درد ملے. اس جگہ یا شخص پر دوسری بار اعتبار نہیں کرنا چاہیے. مگر آج کل کے مسلمان صرف نام کے مومن ہیں. ان کا ایمان ہر وقت ڈگمگاتا رہتا ہے. اسی لیے یہ بار بار ایک ہی طاقت کے فریب میں آتے ریتے ہیں. اس طاقت کا طریقہ واردات ہر دفعہ پہلے سے مختلف ہوتا ہے. کبھی یہ انتخابات میں اپنی من پسند جماعت کو واضح برتری سے جتواتی ہے. تو کبھی اس کے خلاف آئینی اداروں، مخالف سیاسی جماعتوں اور عوام کو سڑکوں پر لا کر اس کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دیتی ہے. اس کا واحد مقصد خود کو طاقت کا سرچشمہ ثابت کرنا ہوتا ہے. جس میں وہ ہر دور میں کامیاب رہی ہے. کیونکہ اسے بخوبی اندازہ ہے. کہ اس دھرتی کے باسی کس قدر جذباتی ہیں. بس ان کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے معقول وجہ تلاش کرنے کی ضرورت ہوتی ہیں.

کبھی کسی پر ملک سے غداری کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے. کبھی کسی پر گستاخ رسول ہونے کا. تو کبھی کسی پر کرپشن کا الزام عائد کر دیا جاتا ہے. عوام جذبات کی رو میں بہہ کر اس کو نست و نابود کر دیتی ہے. کچھ عرصہ بعد پھر سے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اسے ایک بار پھر سے محب الوطن، ایماندار اور مذہب پسند بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے. اس بار بھی عوام اس کو گلے سے لگا کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا دیتی ہے. کیا کبھی آئینی اداروں کے سربراہان، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عوام نے سنجیدگی سے سوچا ہے. کہ اس سارے کھیل میں فائدہ کس کا ہوتا ہے. اور نقصان کس کا. یقینا نہیں. کیونکہ جس دن اس قوم نے اس بات پر غور کرنا شروع کر دیا. یہ گھناؤنہ کھیل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی موت آپ مر جائے گا. آیندہ سے کوئی خفیہ طاقت اس ملک وقوم کی تقدیر سے کھیلنے کی جرآت نہیں کرے گی. حالیہ وڈیو لیکس کے کھیل میں سیاسی جماعتوں کو سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. اپنی ذمہ داریوں کو حسن طریقہ سے سر انجام دیتے ہوئے. اس بات کا تعین کرنا ہوگا. کہ ہماری وڈیوز بنائیں کس نے تھیں. اور اس کے مقاصد کیا تھے. کیونکہ آئین پاکستان کے تحت کسی بھی شخص کی جاسوسی یا اس کی خلوت میں بجا دخل اندازی قابل جرم عمل سمجھا جاتا ہے. جس کی سزا آئین پاکستان میں درج ہے. ان خفیہ طاقتوں کو یہ اختیارات کس نے تفویض کیے ہیں. کہ وہ لوگوں کی فون کالز کو ٹیپ کرے. اور ان کی خلوت میں خفیہ وڈیو بناتی پھرے. اب وقت کا تقاضا ہے. کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے. تمام سیاسی جماعتوں، آئینی اداروں کے سربراہان اور عوام کو ان سازشی عناصر کے خلاف یک جان ہوکر آواز بلند کرنا ہو گی. اور ان کے مکروہ کھیل کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سدباب کرنا ہو گا. بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کے کھیل سے کنارہ کشی کرتے ہوئے. عوام کو بتانا ہوگا. کہ یہ وڈیوز انہیں کون فراہم کرتا ہے. ظاہر ہے. کہ ہر سیاسی جماعت کو دوسری جماعت کے خلاف وڈیو کوئی نہ کوئی شخص فراہم کرتا ہے. اور یہ کوئی عام شخص نہیں ہو سکتا. جو برسر اقتدار لوگوں کے فون ٹیپ کرتا. اور بند کمروں میں ان کی وڈیوز بناتا ہے. حالیہ سینٹ الیکشن کے موقع پر ان خفیہ طاقتوں کے مکروہ چہرے کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے عیاں کیا تھا. کہ کس طرح سے انہوں نے بیلٹ بکس، پولنگ اسٹیشن کے اندر خفیہ کیمرے نصب کر رکھے تھے. تاکہ وہ ارکان اسمبلی کی مانیٹرنگ کر سکے. اور اپنے مطلوب امیدوار کو جتوانے کے لیے راہ ہموار کرسکے . اس واقعہ پر خود شور شرابہ برپا ہوا. مگر کیونکہ اس طاقت کے سامنے سب بے بس ہے. اس لیے اس معاملہ پر مٹی ڈال دی گئ.

چوہدری شجاعت حسین پاکستان کی سیاست کے جہاندیدہ سیاست دان ہے. ان کی سیاسی بصیرت کے سبھی سیاست دان متعرف ہیں. آج کل وہ شدید علیل ہے. اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے آمین. ان کی سیاسی تھیوری ہے. کہ ہر وہ مسئلہ جس سے آپ کی شخصیت کو خطرہ لاحق ہو. اس پر مٹی ڈال دیں. مطلب اسے دفن کر دے. اس پر کسی بھی قسم کی گفتگو و شنید نہ کرے. یہ سیاسی تھیوری کئی مسائل کا حل تھا. مگر اب وقت کا تقاضا ہے. کہ اس تھیوری سے باہر نکل کر سازش کرنے والے عناصر کا کھل کر مقابلہ کیا جائے. کیونکہ سمجھوتے کی سیاست نے ملک کو ناتلافی نقصان پہنچایا ہے. آج ملک جس نہج پر پہنچ چکا ہے. اس کا سبب یہی سمجھوتہ کی پالیسی ہے. جو ہر بار ہمارے سیاست دان مقتدر حلقوں سے کرتے ہیں. جس کے نتیجہ میں تشکیل پانے والی حکومت دیرپا نہیں ہوتی. کیونکہ یہ حکومت عارضی سہاروں کے بل بوتے پر تشکیل پاتی ہے. اس کو عوام کا اعتماد حاصل نہیں ہوتا. یہ ان عارضی سہاروں کی خوشنودی میں لگی رہتی ہے. یہ سہارے ہر بار انہیں دھوکہ دیتے ہیں. موجودہ صورتحال میں سیاست دانوں کو ایک دوسرے سے دست گریبان ہونے کی بجائے. ان چہروں کو بے نقاب کرنا چاہیے. جو انہیں ایک دوسرے کے خلاف وڈیوز دے رہے ہیں. یہ لوگ ایک دن ایک جماعت کو وڈیو دیتے ہے. کہ اسے میڈیا پر جاری کرکے اپنے سیاسی مخالف کی کردار کشی کرو. تو دوسرے دن دوسری سیاسی جماعت کو پہلی کے خلاف وڈیو فراہم کرتے ہیں. کہ اب تم اس پر کیچڑ اچھالو. اس کھیل میں ان کی جیت ہی جیت ہے. شکست ہر صورت سیاسی رہنماؤں، آئینی اداروں اور عوام کے مقدر میں آتی ہے. یہ خفیہ طاقتیں ہر دور میں کامیابی کے مزے لوٹتی ہیں. آجکل آن طاقتوں نے وڈیوز کو اپنا ہتھیار بنایا ہوا ہے اور اس کے آلہ کار سیاسی جماعتوں کے رہنما بنے ہوئے ہیں. جو پریس کانفرنسیں کر کے گلے پھاڑ پھاڑ کر ان کی دی ہوئی. وڈیوز پر ایک دوسرے کی تذلیل کرنے میں مگن ہیں. ان خفیہ طاقتوں نے اب اپنے نشانے پر ملک کی عدلیہ کو رکھا ہوا ہے. جو جماعت عدلیہ کی ڈسی ہوئی ہے. اس کو عدلیہ کے ججوں کی وڈیو فراہم کی جا رہی ہیں. اور برسر اقتدار جماعت کو اس جماعت کی وڈیوز دے کر ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے. اس سارے کھیل میں نقصان عوام کا ہو رہا ہے . اور یہ خفیہ طاقتیں ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں. اب تو عام آدمی بھی سوچنے پر مجبور ہے. کہ آخر کار انہیں یہ وڈیوز دیتا کون ہے. منتخب وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ساتھ ان طاقتوں کا ایک نمائندہ بریف کیس میں خفیہ کیمرہ لگا کر ان کے ساتھ ساتھ گھومتا ہے. ان عہدیداران کی سرکاری رہائش گاہوں میں خفیہ کیمرے لگائے جاتے ہیں. حکومت وقت کو اس روش کو تبدیل کرتے ہوئے. ان کے نمائندوں کو ڈیوٹی سے ہٹا کر اپنے پرائیویٹ لوگوں کو بطور سیکرٹری تعینات کرنا چاہیے. اور سرکاری رہائش گاہوں میں رہائش سے قبل مکمل طور پر چیکنگ کروانی چاہیے . کہ کہی کوئی خفیہ کیمرہ یا دیگر ڈیوائس تو نصب نہیں. عوام ابھی واٹس ایپ عدالتوں کی داستان کو نہیں بھولی. کہ کس طرح سے ایک منتخب وزیراعظم کو نااہل کروانے کےلیے واٹس ایپ پر عدالتیں تشکیل دی گئی. اور ان عدالتوں کے سربراہان کو واٹس ایپ کال پر کیا ہدایات جاری کی گئیں. اب حکومت وقت بڑے معصومانہ انداز میں ان کا دفاع کرتے ہوئے. کہتی ہے. کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو سامنے لاؤ. جب نبوت آتا ہے. تو اس کو جعلی ثابت کرنے کے لیے ساری سرکاری مشینری کو استعمال کیا جاتا ہے. ایسے میں ان خفیہ طاقتوں کے حوصلے اور بڑھ جاتے ہیں. اب وقت کا تقاضا ہے. کہ قوم اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو جذبادیت سے باہر نکل کر اس ملک کی بہتری کے لیے سوچتے ہوئے. ان مکروہ چہروں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرے. جو ان کے سہولت کار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں. یہ کسی کے بھی سہولت کار نہیں ہوتے. یہ اپنے مفادات کا دفاع کرتے ہیں. خدارا ان کے ہاتھوں میں کھیلنے سے اجتناب کریں. اس ملک وقوم کی بہتری کے لیے مل جل کر کام کرے. ایک دوسرے کی کردار کشی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا. مل جل کر بھائی چارے کی فضا پیدا کرکے ہی اس مفاد پرست ٹولے کو شکست فاش سے دوچار کیا جاسکتا ہے. اللہ تعالیٰ اس ملک وقوم پر اپنا رحم فرمائے . اور انہیں توفیق عطا کرے . کہ یہ سازشی عناصر کے چنگل سے نکل پائے.

اب نہیں کوئی بات خطرے کی.
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں