مذہبی جنونیت!……………. اورنگزیب اعوان

م مذہب کسی بھی مہذب قوم کی پہچان ہوتا ہے. مذہب ہی طرز زندگی کی عکاسی کرتا ہے. دنیا بھر میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقوام آباد ہیں. دین اسلام اور اس کے پیروکار تمام مذاہب اور اقوام پر فوقیت رکھتے ہیں. کیونکہ دین اسلام نے زندگی بسر کرنے کے وہ سنہری اصول واضح کئے ہیں. جن کی نظیر دوسرے مذاہب میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی. دین اسلام کی تعلیمات کے دو پہلو نمایاں ہیں. ایک حقوق اللہ اور دوسرا حقوق العباد . کوئی بھی شخص دین اسلام کو سمجھنے کے لیے ان دو پہلو کا مطالعہ کر لے. تو اسے مکمل سمجھ آ جائے گی. علماء کرام نے اس کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا ہے. کہ عام انسان کی سمجھ بوجھ سے باہر کر دیا گیا ہے. لوگ دین اسلام کی اصل روح کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے. اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے. کہ میرے حقوق جو لوگوں پر فرض ہے. یہ میرا اور میرے بندے کا آپسی معاملہ ہے. ان حقوق کی کوتاہی و نافرمانی کو میں نظر انداز کر سکتا ہو . مگر حقوق العباد میں کسی قسم کی کوتاہی ناقابل معافی ہے. اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے. کہ دین اسلام انسانیت کی عظمت پر کس قدر زور دیتا ہے.

یہ دین اسلام ہی ہے. جو اپنے پیروکاروں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے حقوق کا بھی تعین کرتا ہے. دین اسلام غیر مسلموں کو مکمل مذہبی آزادی دیتا ہے. غیر مسلم اسلامی ریاست کی حدود میں مکمل آزادی سے اپنے مذہبی تہوار منا سکتے ہیں. ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی. اسلامی تعلیمات پر عمل کرتےہوئے. اسلامی ریاستیں غیر مسلموں کے مذہبی و دیگر حقوق کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے. انہیں مکمل تحفظ فراہم کرتیں ہیں. مگر بدقسمتی سے مذہبی جنونیت نے اسلامی تشخص کو بری طرح سے مسمار کر کے رکھ دیا ہے. کچھ مذہبی جنونیت کے حامل افراد نے اپنے منفی طرز عمل کی بدولت اس امن کے گہوارہ مذہب کو دہشت گردی کی علامت بنا دیا ہے. آج دنیا بھر میں دین اسلام کو دہشت گردوں کے گروہ کے طور پر پہچنا جاتا ہے. ایسا کیوں ہے. دین اسلام تو اپنے پیروکاروں کو پیار و محبت کا درس دیتا ہے. پھر آج ایسا کیوں ہے. کہ مسلمان دنیا بھر میں دہشت گردی کی علامت بن چکے ہیں. کہی القاعدہ تو کہی داعش جیسی شدت پسند تنظیمیں بنا کر دنیا کے امن کو برباد کیا جا رہا ہے. انہیں دہشت گرد تنظیموں کی بدولت دین اسلام دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہو رہا ہے.

ملک پاکستان جو مذہب کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا. اس کو غیر مسلموں کے لیے بھی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا گیا تھا. مگر آج اس ملک میں غیر مسلم خود کو عدم تحفظ کا شکار سمجھ رہے ہیں. سانحہ سیالکوٹ نے تو مذہبی جنونیت کی حدیں پار کر دی ہے. ہمارے پیارے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے تو اپنے حسن سلوک سے غیر مسلموں کے دل جیتے تھے. ہم ان کے ماننے والے تشدد کے راستے پر کیسے گامزن ہو سکتے ہیں. ہمارے آقا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو اخلاق کے بلند ترین درجے پر تعینات تھے. ان کی ساری زندگی انسانیت کی عظمت کی تکمیل میں گزری ہے. انہوں نے انسانیت کی عزت و احترام پر جتنا زور دیا ہے. اتنا کسی اور مسئلہ پر نہیں دیا. مگر افسوس حد افسوس کہ آج ہم بحیثیت مسلمان ان کی تعلیمات سے مکمل طور پر انحراف کر چکے ہیں. انہوں نے کس جگہ درس دیا تھا. کہ گستاخ رسول کو بغیر اپنی صفائی کا موقع فراہم کیے قتل کر دیا جائے. سانحہ سیالکوٹ نے تو انسانی قدروں کو ہی پامال کر دیا ہے. ایسے تو غیر مسلم بھی نہیں کرتے. جیسا خود کو مسلمان کہنے والے حیوانوں نے کیا ہے. یہ مسلمان نہیں. محض کلمہ پڑھ لینے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا. جب تک وہ دین اسلام کی تعلیمات پر تہہ دل سے عمل پیرا نہ ہو. مذہبی جنونیت اور دہشت گردی کی ہر مکتبہ فکر کو حوصلہ شکنی کرنی چاہیے. یہ فعل کسی بھی طرح قابل دفاع نہیں. مذہبی طبقات اور حکومت کو مل کر توہین رسالت کے قوانین کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے. ورنہ ہر کوئی اس قانون کو اپنی منشاء کے مطابق استعال کرتا رہے گا. ایک غیر مسلم شہری جیسے دین اسلام کی تعلیمات کا پتہ ہی نہیں. وہ کیونکر ان کی بے حرمتی کرے گا. اور الزام لگانے والے بھی وہ لوگ ہیں. جن کا مذہب سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں. انہوں نے اپنی ذاتی رنجش کی بنا کر سری لنکن فیکڑی مینجر کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر جان سے مار دیا. بات یہی ختم نہیں ہوئی. ان وحشی درندوں نے تو اسلام کے تقدس کو ہی پامال کر دیا. دین اسلام کسی کی لاش کی بے حرمتی کی اجازت ہرگز نہیں دیتا. ان درندوں نے اس کی لاش کو آگ لگا دی. کیا یہ خود کو عاشق رسول کہلوانے کے حق دار ہیں. ہرگز نہیں. عاشق رسول تو اپنے اعلی اخلاق کی بدولت لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں. یہ بد بخت تو جہنمی لوگ ہیں. جہنوں نے ایک بے گناہ غیر ملکی شہری کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر ملک پاکستان کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی کروائی ہے. ان درندوں کو سخت سے سخت سزا دینے ہو گی. تاکہ آیندہ کوئی ایسا فعل کرنے سے پہلے سو بار سوچے.

واقعہ سیالکوٹ پر حکومتی اقدامات قابل تعریف ہے. وفاقی اور صوبائی حکومت نے فوری طور پر اس واقع کا نوٹس لیتے ہوئے. اس کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی. اور انہیں گرفتار کرکے قانون کے سامنے پیش کیا. سیاسی ، دینی و مذہبی جماعتوں کا کردار بھی قابل ستائش ہے. جہنوں نے یک زبان ہو کر اس فعل کی بھرپور مذمت کی ہیں. موجودہ حالات اسی یکجہتی کا تقاضہ کرتے ہیں. ہمیں بحیثیت قوم فرقوں میں تقسیم ہونے کی بجائے. یک جان ہو کر ایسے غیر انسانی افعال کی روک تھام کرنی ہو گی. مذہبی جنونیت ایک ایسا کینسر ہے.جو دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی سلامتی کے لیے بھی زہر قاتل ہے. اس کا جس قدر ممکن ہو جلد از جلد حل تلاش کر لینا چاہیے. ورنہ یہ بہت زیادہ نقصان دہ ہو گا. مذہبی جنونیت کی لہر کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے. حکومت وقت کو تمام مکاتب فکر کی مشاورت سے ایسے قوانین تشکیل دینے چاہیے. جو اس ناسور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں