” ترلا ، مرلہ اور پھرلا “ …………………….. تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

ایک دوشیزہ، جن کے نین نشیلے تھے، ہر اُس شخص کو میخانے کا پتہ بتا دیتی تھیں،جو دستِ سوال دراز کرتا تھا۔ بہت سارے دیگر اسرار و رموز سے بھی آشنا کر دیتی تھیں۔انہوں نے ناحق تو کیا بجا طور پر بھی کسی سے ناراض ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔ان کو سمجھایا گیا کہ ہمارے معاشرے کا یہ چال چلن نہیں ہے۔یہاں تو نشیلے نینوں والے گاہے بگاہے، بلاوجہ، عادتاََ ناراض ہوتے رہتے ہیں۔انہوں نے محتاط رہنے کا وعدہ کیا مگر کچھ دنوں بعد پھر چال چلن کا یہ عالم ہو گیا کہ بقول یوسفی صاحب چال سے صرف چلن ہی ٹپکنے لگا۔ وجہ پوچھی گئی تو بہت معصومیت سے بتایا گیا ” میں کیا کروں لوگ ترلے ہی بہت کرتے ہیں “۔

ہمارے ہاں بعض لوگوں کی زندگی ترلے کرتے اور بعض کی ترلے کرواتے گزر جاتی ہے۔کئی لوگ ترلے صرف اس لیے کرتے ہیں کہ مرلے بنا سکیں۔ کئی لوگوں کے ترلے نہیں گنے جاسکتے تو کئی لوگوں کے مرلے نہیں گنے جا سکتے۔ بہت سے لوگ زندگی کے تمام مرحلوں سے گزر جاتے ہیں اور ایک مرلہ بنا نہیں پاتے۔ اپنے نام زمین لکھا نہیں پاتے اور خود زمین کا رزق بن جاتے ہیں۔تہہ خاک چلے جاتے ہیں۔ کبھی واپس نہ آتے ہیں۔

ہمارے ہاں خوش نصیب اُسے سمجھا جاتا ہے جس کو مرلے مل جائیں، زندگی” پھرلوں ” سے بچ جائے اور اسے کسی کے ترلے نہ کرنا پڑیں۔ ترلے کروانا ایک نشہ ہے تو ترلے کرنا بھی ایک ایسی لت ہے جس کے بغیر گزارہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔یہ روگ جس کو لگ جائے، پھر اسکا سوگ ہی منایا جا سکتا ہے،اسے بچایا نہیں جا سکتا۔اقتدار کا نشہ دراصل ترلوں، مرلوں اور پھرلوں کا نشہ ہے۔ اقتدار سے محروم ہو جانے والے لوگ ہر گام پر یہ سوچتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے کبھی یہاں ان کے ترلے کیئے تھے اور انہوں نے ان کے نام مرلے کیئے تھے۔”تیرا ترلا میرا مرلہ” بہت سے لوگوں کا پسندیدہ کھیل ہے۔ ان کے لیئے زندگی اسی کھیل کا دوسرا نام ہے۔یہی ان کی صبح، یہی ان کی شام ہے۔

ترلوں،مرلوں کی یہ تجارت معاشرے کی ترقی کے لیئے سم قاتل ہے۔ترلوں اور مرلوں کی ہوس بہت سے لوگوں کو زندگی بھر کے لیے اپاہج بنا دیتی ہے۔ وہ نہ صرف اپاہج ہوتے ہیں بلکہ ذہنی مریض بھی ہوتے ہیں۔ بظاہر خاصے کی چیز ہوتے ہیں مگر نرے ناچیز ہوتے ہیں۔ترلے اور مرلے کے پجاری در حقیقت بھکاری ہوتے ہیں۔ عقل و شعور سے عاری ہوتے ہیں۔معاشرے کے لیے بیماری ہوتے ہیں۔ قوم کے لیے نری خواری ہوتے ہیں۔

دنیا میں اللہ کے ترلے کر لینے چاہیئے جبکہ ظالم کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے۔ دنیا میں مگر لوگ ظالموں کے یا اپنے بالموں کے ترلے کرتے رہتے ہیں۔ کئی لوگ افسروں کے ترلے کرتے رہتے ہیں۔ بندہ ترلا کرلے اور” پھرلے “سے بچ جائے۔ “پھرلا ” دفتروں میں جواب طلبی والے خط کو کہا جاتا ہے۔کئی لو گ عمر بھر ترلے، مرلے اور پھرلے کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ لوگ دنیاوی نمبرداروں کی چوکھٹ چومتے رہتے ہیں۔ جو ذات شہ رگ سے قریب ہے۔ اصل حبیب ہے۔ سچا طبیب ہے۔ وہ اس انتظار میں رہتی ہے کہ کب کسی کی آنکھ سے ایک اشک ندامت بہے اور اس کی دل کی زمین پر سکون کی فصلِ بہار اگادی جائے۔

فانی دنیا میں بہت سارے لوگ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ ترلوں کے حقدار وہی ایک ذات ہے جس نے انسان اور پوری کائنات کو لفظ” کُن” سے تخلیق کیا۔وہ ذات ہر لحظہ نئی شان کی مالک ہے۔وہ رحمن اور رحیم ہے تو جبار اور قہار بھی ہے۔ حساب لینا اسی کا اختیار بھی ہے اوروہ ایک دن ہم سے حساب لینے کے لیے تیا ر بھی ہے۔وہ کسی کام سے عاجز نہیں مگر انسان کی عاجزی سے اُسے پیار ہے۔ وہی تمام ترلوں کی حقدار ہے۔ندامت بھرے دل کو نوازنے کے لیے بیقرارہے، وہی پاک پرور دگار ہے جو فرماتا ہے:-

“ہر جاندار کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے)پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا،وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا، اور یہ دنیوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں “۔

اصل” پھرلا “ایک دن ہم سب کے ہاتھ آنا ہے۔اس دن مگر نہ ترلے نہ مرلے کام آئیں گے۔ اعمال گنے نہیں تولے جائیں گے۔ و ہی در حقیقت جزا سزا کا دن ہے۔اس خدا کا دن ہے، جو اپنے بندوں کی توبہ کے انتظار میں رہا۔بندوں کا جم غفیر مگر اپنے خمار میں رہا۔وہ مرلے مرلے کرتے رہے اور “پھرلے “کو بھولے رہے۔ پیغمبر خدا نے فرمایا” میں حاشرہوں قیامت کے دن لوگ میرے قدموں پر جمع کیئے جائیں گے “۔ اللہ پاک فرماتے ہیں “تمام انسانوں کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے اور ہمارے ذمہ ان کا حساب لینا ہے” اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں ” قیامت کے دن ہم انصاف کا ترازو قائم کریں گے پھر کسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا تو اسے بھی ہم لے آئیں گے اور ہم ہی حساب لینے کے لیے کافی ہیں “۔ الہامی کتاب پکارتی ہے کہ اس دن سے ڈر جاؤ جب کچھ کام نہ آئے گا سچا عمل ہی ساتھ نبھائے گا۔خدا عدالت لگائے گا تو اپنا کیا ہی بچائے گا۔اللہ پاک فرماتے ہیں ” کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا”۔ فرقان انسان کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ دنیا سے محبت رکھتا ہے اور آخرت کو چھوڑے بیٹھا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات قیات کے دن کی قسم کھا کر کہتی ہے کہ” قیامت کے دن نگاہ پتھرا جائے گی، چاند بے نور ہو جائے گا،سورج اور چاند جمع کر دیئے جائیں گے۔انسان کہے گا آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے مگر اس دن کوئی پنا ہ گاہ نہ ہوگی۔ پروردگار انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاہ کردے گا۔انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہوگا۔بھلے کتنے ہی بہانے پیش کرے۔اس دن بہت سے چہرے ترو تازہ اور بہت سے چہرے بد رونق اور سیاہ ہونگے۔ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا اور ان کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا “۔

ہمارے بزرگ ہمیشہ سے یہ دعا مانگتے آرہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ترلا نہ کرنا پڑے۔ ہماری بھی ذات باری تعالیٰ سے یہی گزارش ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دنیا و آخرت کی تمام خوبیاں اور بھلائیاں عطا فرمائیں۔روزِ جزا ہمارا چہرہ تروتازہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کا رحم ہمیشہ ہمارے شامل حال رہے۔ ہم اسی کے ترلے کریں اور زندگی کے تمام مرحلے ذات باری تعالیٰ کو سونپ کر پرسکون رہیں۔آمین

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں