پروفیسر عظمت اللہ خان مرحوم و مغفور! …………….. تحریر ، پروفیسر ریاض قادری


پروفیسر ریاض قادری

گائوں کیا شہر کیاہر کوچہ و بازار انﷺ کا
جو علاقہ ہے یہاں زندگی آثار انﷺ کا
فتح مکہ سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے
امن کے شہر بساتا ہے ہر اک وار انﷺ کا
پروفیسر عظمت اللہ خانؒ

آج ۲۷ دسمبر ۲۰۲۱ پروفیسر عظمت اللہ خان کی ۲۰ ویں برسی منائی جا رہی ہے۔
ممتاز دانش ور ادیب شاعر کالم نگار اور ڈرامہ نویس جناب پروفیسر عظمت اللہ خان ۲۷ دسمبر ۲۰۰۱ کو قضائے الٰہی سے انتقال فرماگئے ۔ آپ گورنمنٹ کالج سمن آباد فیصل آباد میں شعبہ اردو سے وابستہ تھے اور یکم جنوری ۲۰۰۲ کو آپ کی ریٹائرمنٹ تھی اس طرح اپنی ریٹائرمنٹ سے ۴روز قبل ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!

آپ ۲ جنوری ۱۹۴۲ کو جالندھر میں ڈی ایس پی پولیس خان شوکت اللہ خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے ۵ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے ۔ آپ کے بڑے بھائی پروفیسر عصمت اللہ خان تھے جو گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں بطور لکچرر جائن ہوئے اور ۳۸ سال سروس کر نے کے بعد بطور پرنسپل ریٹائر ہوئے۔ ۹ جولائی ۲۰۱۲ کو انتقال کر گئے آپ کے چھوٹے بھائی حشمت اللہ خان پرنسپل گورنمنٹ کالج آف کامرس کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے اور ۲۷ نومبر ۲۰۲۰ کو انتقال فرماگئے ۔ آپ کے سب سے چھوٹے بھائی شہادت اللہ خان ڈسٹرکٹ پاپولیشن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے ۔ آپ چند سال قبل انتقال فرماگئے۔ اور آپ کی ہمشیرہ محترمہ جو اردو کی پروفیسر تھیں وہ بھی ۵ سال قبل انتقال فرماگئیں۔ اس طرح سب بہن بھائی اللہ کے حضور پیش ہو چکے ہیں۔

جھنگ بازار میں ان کی رہائش گاہ کے باہر جو نیم پلیٹ لگی ہوتی تھی وہ خاصی توجہ کا مرکز تھی۔ اوپر والد صاحب کا نام اور نیچے ان سب بیٹوں کے نام ۔ ہر ایک کے آگے ایم اے اردو کی تعلیم ۔ بڑا حسین امتزاج تھا اور منفرد اتفاق۔ سب گھرانے نے ای اے اردو کر رکھا تھا۔ اردو اشعار کا مقابلہ ہوتا۔ بیت بازی ہوتی۔ علمی مکالمہ ہوتا۔ الفاظ کے تلفظ پر بحث ہوتی ۔ سب بہن بھائی ایک دوسرے کی تعلیم و تدریس میں لگے رہتے ۔ بڑا نستعلیق گھرانہ تھا۔ اردو لکھنوی لہجے میں بولتے لوگ انہیں بولتا ہوا سن کر اپنا تلفظ درست کر لیتے تھے۔

زمانہ طالب علمی میں تینوں بھائیوں کی زبردست ٹیم بن گئی تھی۔پاکستان بھر کے کل پاکستان بین الکلیاتی مقابلہ جات جیت لاتے گردشی نشان ظفر بھی جیت لاتے۔ ٹرافیاں اور کپ اٹھا لاتے۔ ان کے گھر کی سب الماریاں ان کپوں اور ٹرافیوں سے بھری پڑی تھیں۔ جہاں بھی جاتے میدان مار لیتے۔ کوئی ان سے جیت نہ سکتا تھا۔ تمام بھائی ان مقابلوں کے ونر ہوتے تھے، جس بھی مقابلہ میں جاتے مخالفین کی سٹی گم ہوجاتی ۔گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول کوتوالی روڈ سے میٹرک ، گورنمنٹ اسلامیہ کالج فیصل آباد سے ایف اے اور بی اے کر نے کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے ایم اے اردو کرلیا ۔ ۱۹۷۵ میں گورنمنٹ ملت انٹر کالج فیصل آباد میں لیکچرر اردو تعینات ہوئے۔ یہ کالج ان دنوں میونسپل لائبریری نڑوالہ چوک کے پہلوانوں کے اکھاڑہ کے پاس ہوا کرتا تھا۔ آپ نے بچوں کے لئے بھی کتب ’’ شرارتی بلی ‘‘ اور ’’ چالاک بندر‘‘ لکھیں جنہیں فیاض بکڈپو امین پور بازار نے شائع کیا۔ ۱۹۸۵ میں آپ کی کتاب ’’ عظمت شائع ہو ئی۔ اس کے ساتھ ہی آپ کے شاگرد مطلوب ساجد آف گوجرہ کی کتاب ’’ طالب و مطلوب ‘‘ شائع ہوئی۔ ان دونوں کی تقریب رونمائی مشترکہ طور پر میونسپل لائبریری میں منعقد ہوئی۔ پھر آپ اسسٹنٹ پروفیسر بن کر گورنمنٹ کالج آف سائنس فیصل آباد میں آگئے۔۱۹۹۵ میں ایسو سی ایٹ پروفیسر آف اردو کی ترقی پاکر گورنمنٹ کالج سمن آباد آگئے۔ ۱۹۹۹ میں ان کی نعتیہ کتاب ’’ گلشن صل علیٰ‘‘ شائع ہوئی اس کی تقریب رونمائی پرائم ریسٹورنٹ علامہ اقبال روڈ میں منعقد ہوئی۔آپ نے رسائل و اخبارات میں کالم بھی لکھے۔ ان کی لکھی ہوئی غزلوں اور نظموں پر ان کے طلبہ نے آل پاکستان بورڈ اور یونیورسٹی مقابلے جیتے۔
پہلے ریز ہوٹل اور پھر پرائم ہوٹل ان کا ادبی ڈیرہ ہوتا تھا جہاں بے شمار ادیب شاعر آن کر بیٹھتے اور ان سے علمی و ادبی موضوعات پر مکالمہ کرتے ۔آخری عمر میں گنٹھیا کے مرض میں مبتلا ہوئے اور ۲۷ دسمبر۲۰۰۱ کو اچانک انتقال فرماگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

اللہ کا شکر ہے کہ مجھے ۱۹۹۴ تا ۲۰۰۱ ان کا رفیق کار ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ وہ انتہائی خوبصورت اور خوب سیرت شخصیت تھے۔ ان کا کھنکتا ہوا لہجہ کسے بھول سکتا ہے ۔ کئی نسلیں ان کی شاگرد ہیں۔زبان و بیان پر انہیں عبور حاصل تھا۔ عروض ان کی انگلیوں پر رقص کرتا تھا۔ شاعری ہاتھ باندھے ان کی غلام بنے رہتی۔ ڈرامہ نگاری ان پر ختم تھی۔ کالم نگاری میں وہ طاق تھے۔ دیباچہ نگاری اور مضمون نویسی ان پر فدا تھی ۔ تقریر کے وہ بے تاج بادشاہ تھے۔ سب سے بڑھ کر ایک ہمدرد نرم دل نرم مزاج انسان خدمت خلق ان کا شیوہ تھا۔ ذیشان احمد خان مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے ان کا بیٹا ہونے کا حق ادا کردیا ہے اور ہر سال ان کو یاد رکھتے ہیں۔اور ان کی برسی کی تقریب انتہائی تزک و احتشام سے مناتے ہیں۔

پروفیسر عظمت اللہ خان ایک عظیم استاد تھے ان جیسی ہستیاں اب کہاں ملتی ہیں وہ گورنمنٹ گریجو ایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد کی شان تھے۔ ان پر یہ ادارہ ناز کرتا ہے ۔

لو لگالی ہے نبیﷺ سے عظمت
چھوڑ کے دہر کو بیٹھا ہے الگ

یہ شعر ان کی لوح مزار پر بھی کندہ ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں