ادارے اور ملکی تعمیر وترقی! ………….. تحریر ، شفقت اللہ مشتاق

بہترین منتظم اور ہونہار استاد ڈاکٹر جام سجاد حسین گلشن کا کاروبار چلانے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں ہفتہ عشرہ پہلے بھی انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں لاہور اور دوسرے شہروں کے کچھ اہل قلم کو میرے دوست اور نستعلیق ماہر تعلیم اور وائس چانسلر آئی یو بی ڈاکٹر اظہر محبوب سے ملوایا۔ ان کا فون آیا کہ آج رات آٹھ بجے ڈاکٹر نظام دین کے اعزاز میں ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا ہے آپ بھی تشریف لائیں۔ چنانچہ میں وقت مقرر پر ان کے ہاں پہنچ گیا۔ وہاں جو موضوع زیر بحث آیا وہ کچھ یوں تھا کہ وطن عزیز میں یہ تاثر عام ہے کہ ہمارے سارے مسائل کا حل شرح خواندگی میں اضافے ہی میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شعبہ تعلیم ہمارے ہاں ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ ہر حکومت نے اس شعبہ پر خصوصی توجہ دینے کا عزم کیا۔ ہر دور میں اس سلسلے میں کچھ اقدامات بھی کئے گئے لیکن ان ساری باتوں کے باوجود اس شعبے میں مطلوبہ نتائج کا حصول خواب ہی رہا اور ہم ان ممالک کی صف کا حصہ نہ بن سکے جہاں سو فیصد لٹریسی ریٹ ہے۔ کاش ہم احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے اور علم کے حصول کو لازمی قرار دے دیتے تو آج پڑھا لکھا پنجاب ہوتا اور اس کے فیوض و برکات سے خود بخود پنجاب ہرا بھرا بھی ہوجاتا۔ بہرحال شاید ہم خواب دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں اور حقیقت کی دنیا سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ حقائق کیا ہے۔ بہتری کس طرح ممکن ہے۔ سوچ بچار اس ضمن میں کتنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں ہماری کون لوگ آور ادارے راہنمائی کرسکتے ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ہم سب کی سوچ کی لہروں پر تیر رہے ہوتے ہیں لیکن ان سوالوں کے جواب حاصل کرنے کی شاید آج تک شعوری کوشش نہیں کی گئی ہے۔

دوستوں کی یہ مجلس اپنی نوعیت کے لحاظ سے علمی، ادبی اورفکری نشست کی شکل اختیار کرگئی۔ ڈاکٹر صاحب نے ماضی میں ویسے تو مختلف حیثیتوں میں کام کیا ہے۔ وہ معلم تو ہیں ہی سہی۔ انہوں نے بطور ڈسٹرکٹ آفیسر پاپولیشن کے طور پر بھی کام کیا ہے۔وہ اس بات پر معترض تھے کہ ڈپٹی کمشنر کی ہر محکمے کے کام میں مداخلت سے اس محکمے کی مجموعی کارکردگی پر برا اثر پڑتا ہے۔ اور اس کی اہم حیثیت کی وجہ سے لوگ سول کلب میں اس سے تعلق بناتے بھی ہیں اور پھر اس سے گیم ہار کر تعلق نبھاتے بھی ہیں۔ ان کی اس بات سے مکمل طور پر اختلاف تو نہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کرنے کی ضرورت تھی ورنہ یہ حقیقت سچ قرار دی جاتی “مجھاں مجھاں دیاں بھیناں ہندیاں نیں”۔ تاہم اپنے تجربات کی روشنی میں میں نے انہیں بتایا کہ بنیادی طور پر ڈی سی کا کام حکومت کی پالیسی ہائے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ ہاں البتہ من حیث القوم ہم افراط وتفریط کا شکار ہیں۔ کاش ہم اعتدال کی پالیسی پر گامزن ہوجائیں تو ہر کوئی اپنے اپنے مدار میں رہے۔ پاپولیشن کے شعبے میں بھی انہوں نے کام کیا ہے لیکن شاید لوگ اس وقت ان کی بات سننے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ وہ آبادی کم کرنے کی بات کرنے والوں کو اچھا بھی نہیں سمجھتے تھے کاش اس وقت جوش کی بجائے ہوش سے کام لیا جاتا تو آج ملکی تعمیر و ترقی کا کام آسان ہو جاتا۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ریسرچ سکالر کی حیثیت سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ریسرچ کا ہمارے ہاں معیار روز بروز گرتا جا رہا ہے۔ جس کی بے شمار وجوہات ہیں اور اس کے لئے شعبہ جاتی تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے۔ میرٹ پر اساتذہ کی تعیناتیاں ، ان کا تربیتی پروگرام،ان کی فنانشل خودمختاری اور ریسرچ پروجیکٹس کے لئے مناسب فنڈز کا ہونا ریسرچ کلچر کو فروغ دے سکتا ہے۔ افسر شاہی کی اس سلسلے میں بےجا مداخلت کی بیخ کنی کو بھی وہ اشد ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ گجرات یونیورسٹی کے فاونڈنگ وائس چانسلر رہے ہیں اور ان کے دور میں مذکورہ یونیورسٹی پہلے اپنے پاوں پر کھڑی ہوئی اور پھر اس نے سو کی سپیڈ سے بھاگنا شروع کیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی یونیورسٹی کو محض تدریس تک محدود کردینا دانشمندی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے وقت میں سیمینار، مذاکرے، ڈرامے اور دیگر بے شمار پروگرام کروائے اور آج کے دور میں جب تک نوجوان نسل کی گرومنگ نہیں ہوتی وہ کسی طرح بھی انٹر نیشنل سٹینڈرڈ پر پورا نہیں اتر سکتے۔ اداروں کی کارکردگی کی باقاعدہ مارکیٹنگ کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ مقابلے کا ماحول پیدا کیا جاسکے اس سے کوالٹی ایجوکیشن کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کی بہتر کارکردگی کی بدولت ان کی ملازمت کی مدت میں توسیع بھی کی گئی ہاں البتہ اس سلسلے میں قانون کو موم کرنے کے طریقے پر عمل کرتے ہوئےایک کمیٹی بنائی گئی جس نے یہ کام بااحسن سر انجام دیا البتہ اس کمیٹی کا اپنا وجود ڈاکٹر صاحب کے لئے کسی لطیفے سے کم نہیں تھا۔ کمیٹی کام کر گئی اور ادارہ اور سربراہ ادارہ دونوں مستفید ہوئے۔

جو لوگ ادارے بناتے ہیں وہ امر ہو جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر نظام دین نے پبلک سیکٹر میں کام کیا اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ انہوں نے اداروں کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ وہ آج بھی اداروں کے تابناک مستقبل کے لئے پر امید ہیں۔ وہ سوشل سائنسز کی تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اپلائیڈ سائنسز کی تعلیم کو روزگار کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ نوجوان نسل کو ایسی تعلیم دی جائے جس سے وہ آن لائن کاروبار کے شعبے سے وابستہ ہو سکیں۔ اس بات کا ہم سارے لوگوں کو احساس تھا کہ بے شمار والدین اپنے بچوں کو اپنے کم وسائل کی وجہ سے پڑھا نہیں سکتے اور اس سلسلے میں پرائیویٹ سیکٹر کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر رہا ہے بلکہ پرائیویٹ اداروں کی فیسیں ان کی مالی منفعت کی خاطر آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور ہم سب غریب طلباء و طالبات کے بارے میں ہوا میں باتیں کررہے ہیں۔ خیر باتیں ہونی چاہیئیں باتوں سے ہی بات آگے بڑھتی ہے۔ باتوں سے ہی دماغ کی کھڑکیاں کھلتی ہیں اور قوم سوچنا شروع کردیتی ہے۔ سوچ بچار کرنے سے ہی تبدیلی کا امکان ہے۔ اب وہ ایک کالج چلا رہے ہیں اور ایک نئی پرائیویٹ یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ یقیننا پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز مل کر ہی اس ملک کی تقدیر بدلنے کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔ ہم سب نے آخر پر ان سے اس بابت جاننے کی کوشش کی کہ کیا ان کے نزدیک ہم بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ انہوں نے بڑے ہی اعتماد سے اس بات کا جواب ہاں میں دیا۔ بلاشبہ ہم بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ زیرو بجٹ سے اپنی معیشت کا آغاز کرنے والے ملک کے لوگ کاش آج اپنے رہن سہن کو غور سے دیکھیں اور پھر سوچیں کہ ان کو اپنے اپنے حصے کی شمع جلانا ہے۔ اس سوچ سے ہی ترقی کے چشمے پھوٹیں گے اور ہم ایک دوسرے کو خواہ مخواہ دوش نہیں دیں گے بلکہ عملی طور پر اس ملک کے گلشن کو کام،کام اور کام کے پھولوں سے بھردیں گے۔ قارئین کرام۔مجھے قوی امید ہے کہ نئی تعمیر ہونے والی مذکورہ یونیورسٹی میں غریب طلباء و طالبات کے لئے مفت تعلیم کا نظام قائم کرکے ڈاکٹر نظام دین ایک نئے انداز سے ایک نیا ماڈل پیش کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں