سانحہ مری! ……………… تحریر ، اورنگزیب اعوان

پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے. جہاں سانحات کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے. دنیا میں کہی بھی جب کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے. تو وہ اس سے آیندہ کے لیے کچھ سیکھتے ہیں. مگر ہمارے ہاں اس کے برعکس روایات ہیں. ہر حکومت اپنے پانچ سال دور اقتدار کو مکمل کرنے کے چکر میں ہوتی ہے. اسے عوام کے مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا. پاکستان کی 72 سال تاریخ میں کئ سانحات رونما ہو چکے ہیں. جن پر سوائے کمیشن بنانے کے کچھ نہیں کیا گیا. ستم ظرفی تو یہ ہے. کہ ان کمیشنز کی رپورٹس کو آج تک منظر عام پر نہیں لایا گیا. کمیشن بنانے کا مقصد اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنا مقصود ہوتا ہے. جب تحقیقاتی کمیشن اپنی رپورٹ تیار کرکے حکومت وقت کے سپرد کرتا ہے. جس میں حکومتی نااہلیوں کا واضح ذکر ہوتا ہے. تو حکومت اس رپورٹ کو شائع کرنے سے گریز کرتی ہے. کاش کسی ایک کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جا چکی ہوتی. تو آیندہ ایسے سانحات رونما نہ ہوتے. قدرتی آفات اور غفلت میں بہت فرق ہوتا ہے. جب محکمہ موسمیات نے حکومت کو بروقت آگاہ کر دیا تھا. کہ 5 جنوری سے 8 جنوری تک مری میں برفانی طوفان آئے گا. لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود رکھا جائے. مگر اس کے باوجود حکومت نے بروقت کوئی اقدامات نہیں کیے. بلکہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری تو عوام کے جم غفیر کو معیشت کی مضبوطی سے تعبیر کرتے رہے. اور بڑے فخر سے مری کے ہوٹلوں کے کرایہ جات میں بے پناہ اضافہ کو سراہتے رہے.

اسی طرح سے وزیراعلیٰ پنجاب بزدار مری کی انتظامیہ کو شاباش دیتے رہے. کیا اس وقت ان لوگوں نے متعلقہ حکام سے پوچھنے کی کوشش کی. کہ آپ مقررہ حد سے زیادہ لوگوں کو مری میں داخل کیوں کرتے جا رہے ہیں. جبکہ محکمہ موسمیات نے برفانی طوفان کی پیش گوئی کی ہوئی ہے. جب مری میں انسانیت تڑپ تڑپ کر جانوں سے ہاتھ دھو رہی تھی. وزیر اعلیٰ پنجاب بزدار پارٹی کی مضبوطی کیلئے میٹنگ میں مصروف عمل تھے. کہ کس طرح سے صوبہ پنجاب میں پارٹی کو مضبوط کیا جائے. جس کے مثبت اثرات آیندہ بلدیاتی انتخابات پر رونما ہو سکے. یہ ہے اس حکومت کی بے حسی کا منظر. جسے عوام سے کچھ لینا دینا نہیں. سوائے اپنے اقتدار کو طول دینے کے. ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قدرو قیمت نہیں. یہ انسانی جان کے ضیاع پر کچھ رقم اس کے لواحقین کو دیکر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں. کیا امدادی رقم کسی خاندان کے دکھوں کا مداوا کر سکتی ہے. ہرگز نہیں. سانحہ مری کے دلخراش واقع نے پاکستان بھر کی عوام کو خون کے آنسو رولا کے رکھ دیا ہے. اسلام آباد پولیس کے اسٹنٹ سب انسپکٹر کے واٹس ایپ مسیج نے حکومتی نااہلی کا پول کھول کر رکھ دیا. یہ اپنے دوست کو مسیج کر کے بتا رہا ہے. کہ ہمیں برف میں پھنسے ہوئے بیس گھنٹے گزر گئے ہیں. ابھی تک کوئی ہماری مدد کو نہیں پہنچا. پتہ کرو. کہ گرین برف ہٹانے کے لیے پہنچ گئی ہے کہ نہیں. اسلام آباد سے مری کا راستہ بمشکل ایک گھنٹے کا ہو گا. لوگوں کو برف میں پھنسے بیس گھنٹے گزر گئے. اور وزیراعظم خواب غفلت میں سوتے رہے . جب مری کی مقامی آبادی نے لوگوں کی گاڑیوں کے اندر جابحق ہونے کی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں . تو پورے پاکستان میں گہرام مچ گیا. تب حکمرانوں کی آنکھیں کھولیں. اس پر بھی حکومتی وزراء ڈرامہ بازی سے باز نہ آئے. وزیر داخلہ شیخ رشید احمد موٹروے پر کھڑے ہو کر وڈیو بناتے رہے. کہ وہ ٹریفک کی روانی کو کنڑول کر رہے ہیں. انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے تھے. ایسے میں وزیر موصوف کو ڈرامہ بازی سوجھ رہی تھی. سانحہ مری میں حکومتی نااہلی کا پول کھل کر عوام کے سامنے آ گیا ہے. سانحہ رونما ہو جانے کے ایک دن بعد وزیراعلیٰ پنجاب بزدار ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر جائے وقوعہ کا جائزہ لینے پہنچے. وزیراعظم کو ابھی یہ توفیق حاصل نہیں ہوئے. یہ غریب قوم کے امیر حکمران ہیں. جو مرحومین کے لواحقین سے اظہار ہمدردی بھی شاہی سواری پر سوار ہو کر کرنے جاتے ہیں.

مری ایک سڑک پر مشتمل تفریح مقام ہے. جس پر بمشکل تین ہزار گاڑیاں کھڑی ہو سکتی ہے. چاہیے تو یہ کہ اسلام آباد سے میٹرو طرز پر شٹل سروس مری کے لیے چلائی جائے. ملک بھرسے جتنے لوگ بھی مری کی سیروتفریح کی غرض سے آتے ہیں. ان کی ذاتی گاڑیوں کو اسلام آباد میں رکا جائے. اور یہ شٹل بس سروس پر سوار ہو کر مری جائے. اس سے دو فائدے ہو گے. ایک تو ٹریفک کا مسئلہ حل ہو جائے گا. دوسرا ایک مقررہ حد تک لوگوں کو داخلے کی اجازت ہو گی. ظاہر ہے. یہ انتظامیہ کے ہاتھ میں ہو گا. کہ کتنی شٹل سروسز چلانی ہیں. ایک دن میں کتنے لوگوں کو مری میں داخل ہونے کی اجازت دینی ہے. حکومت کو مری میں زیادہ سے زیادہ سرکاری سرپرستی میں ہوٹل قائم کرنے ہو گے. جن کے نرخ ایک مقررہ حد تک ہو. اس طرح سے ہوٹل مافیا سے بھی عوام کی جان بچ جائے گی. اور حکومت کی آمدن میں بھی خطیر رقم جمع ہو گی. وزیراعظم عمران خان تو سیاحت کے فروغ میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں. پھر وہ ان مسائل پر توجہ مرکوز کیوں نہیں کرتے. جو سیاحت کے فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں. ہوٹل مافیا عوام کی جانوں سے کھیلتا ہے. ایک تو یہ انتہائی ناقص معیار کے کھانے لوگوں کو من پسند نرخوں پر دیتے ہیں. دوسرا ایک رات کے لیے کمرہ کا کرایہ ایسے لیتے ہیں. جیسے انہوں نے ماہانہ کرایہ پر کمرہ لینا ہو. حکومت نے مری سانحہ پر انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ہے. جس کی وجہ سے کئی قمتیی جانوں کا ضیاع ہوا. اگر حکومت محکمہ موسمیات کی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے. سیاحوں کو مری جانے سے روک دیتی. تو کوئی قیامت برپا نہیں ہو جانے تھی. مگر شائد حکومت کی ترجیحات میں عوام کی جان و مال کا تحفظ شامل نہیں. ایک طرف حکومت رویت ہلال کمیٹی کے مسئلہ پر سائنسی طریقہ جات کو نافذ کرنے کے حق میں کھڑی ہو جاتی ہے. یہی وزیر موصوف جب وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے قلمدان پر براجمان تھے. ان کا کہنا تھا. کہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے فرسودہ نظام سے چھٹکارا حاصل کرکے سائنسی طریقہ جات سے مستفید ہونا ہوگا. اب جب محکمہ موسمیات نے جدید سائنسی تحقیق کی مدد سے مری میں خراب موسم کی پیش گوئی کی. تو اس پر حکومت نے کوئی عمل درآمد نہیں کیا. اس حکومت کے بھی دوہرے معیار ہیں. یہاں اس کو اپنا مفاد نظر آتا ہے. یہ اس کام کے حق میں ہزاروں دلیلیں دیتی نظر آتی ہے. جس کام میں اسے کوئی مفاد نہ ہو. اس پر کوئی توجہ نہیں دیتی. اب سانحہ مری پر ایک تحقیقاتی کمیشن بنا کر کچھ سرکاری افسران کی نااہلی دیکھا کر حکومتی غفلت اور نالائقی پر ملبہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی. اگر حکومتوں کا کام سانحات رونما ہونے کے بعد محض ان کی تحقیقات کروانا ہی ہے. تو پھر عوام کا اللہ ہی حافظ ہے. یہ کام تو عوام بھی کرسکتی ہے. عوام بتا سکتی ہے. کہ کس جگہ کس کی عفلت تھی. حکومت کا کام عفلت برتنے والوں کو قرار واقعی سزا دینا ہوتا ہے. اور ایسے سانحات کی روک تھام کیلئے مناسب اقدامات کرنا ہوتے ہیں. سانحہ مری انسانیت کی تذلیل ہے. کس طرح سے لوگ اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ سرد موسم میں بے یارو مددگار سڑک پر سسک سسک کر جانیں دیتے رہے. بیس گھنٹے کے اندر اندر اگر بحالی آپریشن شروع کر دیا جاتا. تو بہت سی قمیتی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکتا تھا. مگر ان بیس گھنٹوں کے دوران حکومت کے لیے لوگوں کی جان ومال سے بڑھ کر پارٹی کی تنظیم سازی زیادہ اہمیت کی حامل تھی. اس لیے وہ اس کام میں مصروف عمل رہے. بعد میں دکھاوے کے لیے بہت سے اقدامات کیے جاتے ہیں. جن کا کوئی فائدہ نہیں. کاش حکومت شو بازی سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرے. ہیلتھ کارڈ، راشن کارڈ، احساس پروگرام، لنگر خانے، پناہ گاہوں سے باہر نکل کر عوام کو جدید سفری سہولیات دینے پر توجہ مرکوز کرے . ایسے سانحات رونما ہونے کی صورت میں جدید ترین مشینری کے حصول کو بھی یقینی بنانا چاہیے. تاکہ بروقت لوگوں کی مدد کی جاسکیں. یہ کام ہوتے ہیں. حکومتوں کے کرنے کے. مگر شاید ہماری حکومتیں شو بازی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہیں. اس لیے ایسے سانحات روز بہ روز برپا ہوتے رہتے ہیں. اللہ تعالیٰ عوام کو ایسے سانحات سے محفوظ رکھے آمین

ہم اتنے بھی گئے گزرے نہ تھے اے جان فراز
کے تجھ کو ساری خدائی کے بعد یاد آئے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں