مفت کے صحافی ! ……………………….. تحریر، افضال تتلہ

چند دن پہلے مجھے ایک دوست کی فون کال آئی حال احوال پوچھنے بعد بولے کیا آپ فلاں نیوز چینل جوائن کریں گئیں؟میں نے فوراً حامی بھر لی حالانکہ مجھے ٹیلی ویژن کی صحافت کا بالکل بھی تجربہ نہیں ہے میں نے سوچا چلیں سیکھنے کا موقع ہے ہاتھ سے نہ جائے اوپر سے ٹی وی سکرین کا شوق بھی تھا اس لیے دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ کسی کی سفارش کے بغیر ہی موقع مل رہا ہے تو چھوٹنے نہ پائے لہذا دوست کے بتائے ہوئے وقت پر نیوز چینل کے دفتر پہنچ گیا وہاں پر استقبالیہ میں بیٹھے ہوئے شخص کو جاکر بڑے صاحب کے بارے دریافت کیا تو معلوم ہوا صاحب دفتر میں موجود نہیں خیر اپنا سی وی صاحب کے دفتر میں پہنچا کر خود انتظار میں بیٹھ گیا تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد صاحب دفتر میں تشریف لائے اور پھر مزید آدھا گھنٹہ انتظار کروانے کے بعد مجھے اندر سے بلاوا آیا خیر جیسے ہی دفتر میں داخل ہوا بیٹھتے ہی سوال ہوا آپ ہمارے ساتھ کام کرینگے میں نے فوراً حامی بھر لی دوسرا سوال یہ تھا پہلے کہا کام کیا ہے میں نے وہ سارے اخبارات گنوا دیے یہاں کسی نہ کسی دور میں کام کیا تھا یہ سنتے ہی صاحب نے کہا تو آپ کو پتہ ہے ہم تنخواہ نہیں دیتے یہ تو میں گھر سے ہی سوچ کر گیا تھا کہ یہ کام سیکھنے کی غرض سے کرنا ہے اس لیے بطور ٹرینی مفت میں بھی کرنا پڑا تو نہ نہیں کرنا اس لیے فوراً مان گیا کہ قبول ہے صاحب کا اگلا سوال تھا کہ آپ کی اب کیا مصروفیات ہیں تو میں نے اپنی موجودہ نوکری سے آگاہ کیا جسے سنتے ہی صاحب کے ماتھے پر شکنیں پڑ گئی-

انہوں نے کہا کہ آپ کو وہ نوکری چھوڑنی ہوگی یہ سن کر میں پریشان ہوگیا کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ہی تو انہوں واضع کیا تھا کہ مجھے ان کے ساتھ مفت میں کام کرنا ہے جس کی میں نے حامی بھی اسی لیے بھری تھی کہ چلیں کچن تو اپنی موجودہ نوکری کی تنخواہ سے چلاتا رہونگا یہاں مفت میں رگڑا بھی قبول مگر جب انہوں واضع کیا کہ موجودہ نوکری بھی چھوڑنی ہوگی تو میں پریشان ہوگیا کہ یہ کیسی شرط ہے ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک اور وضاحت کی گئی آپ کی شکایت بھی نہیں آنی چاہیے نوکری بالکل ایمانداری سے ہونی چاہیے ابھی میں نے اس بات کا جواب دینے کےلئے لب کھولے ہی تھے کہ پوچھا گیا آپکی تعلیم کیا ہے ؟ تو میں نے فوراً بتایا کہ ایم اے ماس کمیونیکیشن، خیر انہوں نے یہ بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا آپ جائیں ٹی وی کے لیے بیپر کروا لیں پھر ہم آپ سے رابط کریں گے میں نے بڑے فخر سے بتایا کہ رپورٹنگ کے ساتھ میں کالم بھی لکھ رہا ہوں صاحب نے یہ سنتے ہی کہا کہ کالم نگاری تو فضول کام ہے میں تو اس کو صحافت ہی نہیں سمجھتا یہ سنتے ہی مجھے ان صاحب سی ہمدردی سی پیدا ہوئی کہ یہ بھی عام سے ہی سوچ کے انسان نکلے حالانکہ میں ان کے بارے میں بہت سن چکا تھا کہ برے ماہر صحافی ہیں خیر اس سارے سین کے بعد میں ان کے دفتر سے نکلا بیپر کروایا اور وہاں سے چلتا بنا کیوں کہ مجھے سو فیصد امید تھی مجھ جیسا بندہ یہاں فیل ہی فیل ہے اور مجھے اس کا افسوس بھی نہیں تھا کیونکہ میں خود کو جانتا ہوں کہ میں حسب ذائقہ نہیں اس لیے تھوک دیا جاتا ہوں مگر یہ تجربہ ذہین میں کئی سوالات پیدا کرگیا جو یہاں اپنی اس تحریر کے ذریعہ پوچھنا چاہتا ہوں سب سے پہلے تو یہ کہ کیا کوئی ایسا شخص جس کا کوئی بھی ذریعہ معاش نہ ہو آپ اسے اپنے ادارے میں رکھے اور وہ بھی تنخواہ کے بغیر اور پھر اسے سے ایمانداری کی توقع بھی رکھے کیا یہ ممکن ہے؟خود کو معاشرے کی آنکھ کان اور زبان کہنے والا شعبہ اپنے آپ سے وابستہ لوگوں کو گونگا بہرہ اور اندھا رہنے کی تقلید کررہا ہو تو یہ منافقت کی کون سی سطح ہے؟معاشرے کے چوتھے ستون کی حیثیت رکھنے والے شعبہ میں سب سوالات کے بعد سرسری سا تعلیم کے بارے میں پوچھا جائے اور جواب سنے بغیر ہی اگلا سوال تھوپ دیا جائے تو پھر اس شعبہ میں ڈگری ہولڈرز کی بجائے گیس ری فیلر، کھلا پیٹرول بیچنے والے، تھانوں میں ٹاوٹی کرنے والے،ناجائز فروش جائیں گے کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے ڈگری ہولڈرز؟ یہاں تک میں جانتا ہوں کسی بھی مضمون میں ماسٹرز ڈگری لینے کے لیے کم از کم اٹھارہ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے ماسٹرز کرنے کے بعد بھی اس مضمون میں مہارت حاصل کرنے میں فیلڈ ورک کرنا پڑتا ہے پھر کہی جاکر اس شعبہ میں قدم جمائے جاسکتے ہیں مگر مجھے برے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پر رہا ہے کہ ہمارے ہاں میڈیا واحد ایسا ادارہ ہے جس میں تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں اور اس شعبہ میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کا صحافت کی ڈگری سے کوئی تعلق نہیں مگر میں یہاں پر ان لوگوں کی بجائے ان اداروں کو قصوروار ٹھہراؤ گا جو ایسے لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں جنہیں تنخواہ کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

شاید ادارے اس بات سے واقف نہیں کہ مفت کہ صحافی ان کی ساکھ کو کس طرح تباہ کر رہے ہیں یہ پٹواریوں سے اشتہار لینے کے لیے سارا سارا دن پٹواریوں کے دفاتر کی چوکھٹ سے جڑے رہتے ہیں یہ سیاستدانوں کے ڈرائیور،خانساماں اور چوکیدار بن جاتے ہیں یہ تھانوں میں آنے والے مظلوموں کی سودے بازی کرتے رہتے ہیں یہ چوہدریوں کی چوپالوں میں بیٹھ کر ان کی خوش آمد میں مشغول رہتے ہیں یہ سرکاری دفاتر میں جاکر ایک ایک کپ چائے کے لیے بابو لوگوں کے کاغذات سیدھے کرتے رہتے ہیں مگر جو ان کا کام ہوتا ہے وہ پورا نہیں کرتے کیونکہ یہ خود تو ایک خبر تک نہیں لکھ سکتے خبر تک رسائی کیسے حاصل کرپائیں گئیں
آخر میں انٹرویو میں لینے والے صاحب کے لیے ایک نصیحت کہ آپ کالم نگاروں کو بے شک نکما،ویلا اور نکھٹو ہی سمجھیں مگر خدارا اپنے ادارے میں کم از کم پڑھے لکھے لوگوں کو ترجیح دیں نہ کہ مفت کام کرنے والے یعنی مفت کے صحافیوں کو۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں