”رپورٹ اورسپورٹ“ ……………….. تحریر، ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

کسی غریب آدمی کی طبی رپورٹ ٹھیک نہ آئے تو اُس کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتے ہیں۔ کسی دنیا دار آدمی کو کسی دور میں کسی طاقتور کی سپورٹ حاصل رہی ہو اور پھر وہ اُس سپورٹ سے محروم ہوجائے تو اُس کے پیٹ میں بھی مروڑ اُٹھنے لگتے ہیں۔ رپورٹ اور سپورٹ میں بڑا قریبی رشتہ ہے۔ بعض اوقات کوئی رپورٹ کسی کو سپورٹ کرجائے تو اُس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھی بدقسمتی سے کسی کورپورٹ کی سپورٹ تو حاصل ہوتی ہے مگر رپورٹ کی تشریح کرنے والا کا نقطہ نظر رپورٹ کی قدروقیمت اخروٹ برابر نہیں رہنے دیتا۔

بہت سارے ڈاکٹر مریض کو پہلے معائنے کے دوران، پہلی سے آخری تک، تمام رپورٹس تجویز کرتے ہیں۔ مریض جب رپورٹوں کا پلندہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ہر رپورٹ پر لکھا ہوتا ہے ”رپورٹ کا نتیجہ اپنی علامات کے ساتھ ملا کر تجزیہ کریں“۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اگر آپ کی علامات اور رپورٹ میں تفاوت ہے تو فکر کی بات ہے۔ اگر رپورٹ اور علامات میں مطابقت ہے تو شدید فکر کی بات ہے۔ دونوں صورتوں میں آپ نے ڈاکٹر سے ذکر کرنا ہے اور اپنے بینک بیلنس کی فکر کرنا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے بعض لیبارٹری والوں کی سوچ اتنی مثبت تھی کہ اگر شوہر بھی اپنا سمپل رپورٹ کیلئے بھیجتا تھا تو حمل کی رپورٹ مثبت آجاتی تھی۔ اُس دور میں چونکہ خواتین کی بابت عمومی رویہ منفی ہوتاتھا تو خاتون کے سمپل کی رپورٹ بھی منفی آتی تھی۔ ہمارے غریب ہم وطنوں کی اکثریت اپنے خاندان کی سپورٹ کیلئے بیرون ملک جاکر محنت کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ وہ خلیجی ممالک یا یورپ جانے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔اس خواب کو شرمندہِ تعبیر کرنے کیلئے چند لیبارٹریوں سے رپورٹ لینا پڑتی ہے۔ اُن لیبارٹریز میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو درخواست گزاران کو سپورٹ کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں مگرانسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت نہیں۔ اُن کا نعرہ یہ ہوتا ہے ”تو مجھے سپورٹ کر، میں تجھے سپورٹ کروں“۔

کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے ڈاکٹر بہت ساری لیبارٹریز کی رپورٹس پراعتبار نہیں کرتے تھے۔ رپورٹ کرنے والوں کو سپورٹ حاصل نہیں تھی۔ پھر لیبارٹری والوں نے ڈاکٹروں کی سپورٹ حاصل کرنے کی تگ ودو شروع کردی۔ اب بھی بعض شہروں میں بعض ڈاکٹر اُسی لیبارٹری کی رپورٹ کااعتبار کرتے ہیں جو اُن کو سپورٹ کرتی ہے۔ بعض حضرات اس فعل سے کسی صورت بازنہیں آتے۔ رپورٹ اور سپورٹ کے اس رشتے کی تحقیق کی جائے تو بہت سارے فرشتے بے نقاب ہوجائیں۔ بہت ساری لیبارٹریز جو مریضوں کو رپورٹ دیتی ہیں اگر اُن کی اپنی رپورٹ لی جائے تو بہت ساری نئی علامات ظاہر ہوں۔

دفاتر میں بھی لوگ پٹواری اورکلرک حضرات سے اپنی من پسند رپورٹ لینے کیلئے اُن کی اتنی سپورٹ کرتے ہیں کہ وہ ربورٹ تک خرید سکتے ہیں۔ دنیا کا مہنگا ترین مشروب پی سکتے ہیں۔ اسی سپورٹ کے سہارے ہنسی خوشی جی سکتے ہیں۔ رپورٹ اور سپورٹ کا یہ چکر عوام کی زندگی کوگھن چکر بنا چکا ہے۔ رپورٹ اور سپورٹ کا یہ نظام معاشرے کے چند طبقات کے نظام انہظام کو بہت قویٰ کر گیا۔ اُن کیلئے مقویٰ ثابت ہوا مگر مجموعی طور پر معاشرے کی ذہنی، جسمانی اور روحانی صحت کا دیوالیہ نکل گیا۔

کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے لوگ بہت سارے معاملات میں کردار کی رپورٹ لینا ضروری سمجھتے تھے۔ کریکٹر سرٹیفکیٹ ضروری سمجھا جاتا تھا۔ اب کردار کی رپورٹ کی بجائے بندے کی سپورٹ دیکھی جاتی ہے۔ کس کو کون سپورٹ کررہا ہے اور کون کسی کو کتنا سپورٹ کر سکتا ہے، یہی ہماری سوچوں کا محور رہ گیا ہے۔ پہلے دو خاندانوں کے دومیان رشتے داری ہوتی تھی۔ نیا رشتہ کرتے ہوئے صرف ایک دوسرے کے چال چلن کی رپورٹ لی جاتی تھی۔ اب رشتہ داری کی بنیاد بھی سپورٹ ہی ہوگئی ہے۔ بہت سے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کسی امیر باپ کے گھر پیدا نہیں ہوئے تو یہ اُن کی غلطی نہیں ہے لیکن اگر وہ کسی امیر آدمی کے داماد نہیں ہیں تو یہ اُن کی بدترین غلطی ہے۔ مادیت نے ہماری شخصیت کھوکھلی کردی ہے۔ بہت سی غریب بچیاں، جن کو اللہ تعالیٰ نے بے شمارخوبیوں سے نوازاہے، اپنے لیئے مناسب رشتہ کا انتظار ہی کرتی رہ جاتی ہیں۔ اُن کے والدین کے کردار کی رپورٹ چند لوگوں کی نظر میں بے معنی ہوتی ہے۔ بہت سے نوجوان انتہائی قابل ہونے کے باوجود بھی سسرال ایسا چاہتے ہیں جو سپورٹ کرے اور کرتا ہی رہے۔ چند نوجوان تو سسرال کی سپورٹ کے سہارے زندگی کاہر مرحلہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ شایداُن کو شریک حیات سے زیادہ لاٹھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل ہمارے نوجوانوں کی ایک کثیر تعدادسمجھتی ہے کہ شادی ایسی عورت سے کرنی چاہیئے جو کماتی ہو۔ عورت کے کام کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر رشتوں کی خوبصورتی خلوص میں ہے۔ رپورٹ اور سپورٹ کا چکر بہت سارے لوگوں سے انسانی جذبات چھین کر اُن کو ربورٹ بنا چکا ہے۔ جسم کی آسائش کی فکر نے ہمیں روح کی زیبائش سے غافل کردیا ہے۔ ایک مفکر نے کہا تھا ”آدمی صرف روٹی کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتا“۔ ہمارے بعض لوگ اس محاورے سے اتفاق کرتے ہوئے اتنا اضافہ کردیتے ہیں کہ روٹی کے ساتھ بوٹی بھی ہونی چاہیئے اور وہ بوٹی اگر مٹن کی ہو تو کیا کہنے۔

انسان کی شان وہ چند جذبات ہیں جنہیں انسانیت بھی کہا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کی سپورٹ کرنی چاہیئے مگر نیت بہترین ہونی چاہیئے۔ انسان اگر انسان ہے تو فرشتوں سے بہتر ہے۔ انسان اگر ربورٹ بن چکاہے تو اپنے مقام سے گر چکا ہے۔ زندہ رہنے کیلئے بے توقیر سمجھوتے کرچکا ہے۔ اُس کا خوبصورت ترین جذبہ مر چکا ہے۔ روح جسم سے پہلے بنائی گئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی روح کوسپورٹ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قیامت کے دن ہماری نیت کی رپورٹ اتنی خوبصورت ہوکہ ہمارے چہرے روشن ہوں۔آمین۔

(کالم نگار نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پنجاب حکومت کا حصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں