مینہ برستا رہے تیرے احسان کا ۔۔۔۔۔۔ تحریر، عبدالقادر مشتاق

مرشد کے ادب و احترام پر آجکل بہت زور دیا جاتا ہے۔ مرشد کا ادب و احترام سنگیوں پر فرض بھی ہوتا ہے۔ لیکن بات ادب و احترام سے آگے بھی بڑھنی چاہیے کیونکہ بات آگے بڑھنے سے ہی بڑھتی ہے۔ بات بڑھنے سے مراد سنگیوں کا مرشد سے فیض یاب ہونا ہے۔ اس کے دو پہلو سامنے آتے ہیں، ایک یہ کہ مرشد اپنے سنگی کو نظر میں رکھے، اس کی حفاظت کرے اور اس کو فیض عطا کرے۔ دوسرا پہلو یہ کہ سنگی مرشد کی نظر میں آنے کے لئے تگ و دو کرے، اس کی صحبت اختیار کرے اور فیض کا طالب ہو۔ یہ دونوں پہلو مرشد اور سنگی کے لئے ضروری ہوتے ہیں ۔ جس کاوش کے پیچھے کوئی محرک نہ ہو وہ اپنی منزل کو نہیں پہنچ پاتی۔ پیری مریدی یا مرشد مرید کے تصور کے پیچھے جو سب سے بڑا محرک ہوتا ہے وہ فیض ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرشد کس طرح کا فیض عطا کرتا ہے یا مرشد سے سنگی کو کس فیض کی توقع ہونی چاہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر بحث کرنا بہت ضروری ہے تاکہ سطحی پیری مریدی سے بات آگے بڑھ سکے۔مرشد اور سنگی کا تعلق باطنی ہوتا ہے۔ لہذا جس طرح کا تعلق ہو فیض بھی اسی طرح کا ہی ہونا چاہے۔ اس لئے سب سے پہلے تعلق کی نوعیت کا تعین کرنا ضروری ہے۔ اگر تو آپ کا مرشد کامل ہے تو پھر آپ کا تعلق بھی کامل ہو گا۔ اور اسی حساب سے وہ آپ کو فیض بھی عطا کرے گا۔ ہمارے مشاہدے میں دو طرح کے فیض آئے ہیں ۔ اول، دنیاوی فیض جو دنیا میں آپ کے کام آتا ہے۔ آپ بیمار تھے مرشد نے دعا کی آپ صحت یاب ہو گئے، آپ کا کاروبار نقصان میں جا رہا تھا مرشد نے دعا کی آپ کو فائدہ ہونا شروع ہو گیا، آپ کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی تھی مرشد نے دعا کی خدا نے اولاد عطا کر دی،

آپ مصائب میں گھرے ہوئے تھے مرشد نے دعا کی اللہ نے آپ کے لئے آسانیاں پیدا کر دیں۔ اس کو کہتے ہیں ناسوتی فیض یا دنیاوی فیض۔ دوسرا فیض ملاکوتی ہوتا ہے جس کا تعلق نفس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس میں تین طرح کے درجے ہیں اول، کشف الصدور، دوم کشف القبور، سوم کشف الحضور۔ کشف الصدور سینہ کی مخلوقات کو زندہ کرنے کا علم ہے۔ مرشد کامل کا کام کشف الصدور سے شروع ہوتا ہے۔ کشف القبور اہل ممات کا علم ہے۔ کشف الحضور ایک نظر میں حضور کی بارگاہ میں پہنچا دینا۔ جو مرشد قلب کو اللہ کے ذکر سے زندہ کر دے وہ ملاکوتی فیض ہوتا ہے۔ اس میں مرشد کی بیعت اس مقصد کے لئے کی جاتی ہے۔ اب اگر مرشد کامل شریعت ہے تو وہ اس حساب سے فیض عطا کرے گا اور کامل طریقت ہے تو اس کا فیض عطا کرنے کے اور اصول ہوں گے۔ شریعت اور طریقت میں فرق ہے۔ شریعت میں زکاتہ ڈھائی فیصد ہے اور طریقت میں صرف گھر والوں کا نان و نفقہ چھوڑ کے باقی سب کچھ خدا کی راہ میں تقسیم کرنا ہے۔ اس لئے کہتے ہیں کہ مرشد کا تعلق جسم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر آپ کی طاقت، آپ کا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا مرشد کے تابع نہیں ہے تو پھر آپ کی بیعت کس بات کی؟ اور اگر بیعت کے تقاضے آپ کا جسم پورا نہیں کرتا تو پھر فیض کیسے حاصل ہو گا۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ بیعت ایک دفعہ ہی ہوتی ہے بار بار بیعت نہیں ہوتی۔ حتی کہ اگر مرشد دنیا سے پردہ بھی فرما جائے تو اس کے سجادہ نشین کی بیعت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ مرشد جسمانی طور پر مرتا ہے لیکن اس کا فیض نہیں مرتا۔ دنیا میں جب مرشد کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو اگلے جہان چلا جاتا ہے لیکن اس کی روح بھی فیض عطا کرتی ہے۔ کچھ لوگ دنیا میں گلہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ ہم تو مرشد کے ہاتھ چوم چوم تھک گئے، درباروں کے چکر لگا لگا ہماری ایڑیاں گھس گئیں لیکن فیض نہیں ملا۔ ان سوالوں کے جوابات لینے سے پہلے آپ کو فیض کی نوعیت سے آگاہ ہونا پڑے گا۔ کیا آپ ناسوتی فیض کے ہی طالب ہیں یا پھر آپ ملاکوتی فیض چاہتے ہیں؟ اگر آپ کی طلب میں سچائی ہے اور آپ کو پھر بھی فیض نہیں عطا ہو رہا تو پھر مرشد پر نظرثانی کریں، آپ نے اپنے آپ کو غلط ہاتھوں میں دے دیا ہے، مرشد میں صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ آپ کو فیض عطا کر سکے۔ وہ مرشد کامل نہیں ہے۔ اس لئے مرشد کامل کی بیعت کرنا ضروری ہے تب ہی فیض نصیب ہو گا ورنہ نہ تو وہ آپ کی تربیت کر سکے گا اور نہ ہی آپ کا قلب زندہ ہو گا۔ اگر مرشد قلب زندہ کرنے کا باعث نہیں بن رہا تو وہ آپ کا خدا سے تعلق کیسے جوڑے گا۔ خدا اور بندے کے تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ قلب ہے۔ اس لئے بزرگان دین نے قلب کی صفائی پر بڑا زور دیا ہے۔ دل جب صاف ہو جاتا ہے تو اس میں خدا رہنا شروع کر دیتا ہے۔ جو قلب خدا کا گھر بن جائے وہاں فیوض و برکات کی بارشیں ہوتی ہیں ۔ حضرت سلطان باہو فرماتے ہیں کہ ” پیر ملیاں جے پیڑ نہ جاوے تاں اس نوں پیر کیہہ دھرنا ہو۔۔۔۔مرشد ملیاں ارشاد نہ من نوں، اوہ مرشد کی کرنا ہو”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں