سیاسی ہراسمنٹ! ……………. تحریر ، اورنگزیب اعوان

ہراسانی ایک ایسا لفظ ہے. جو اکثر و بیشتر سماعت کو سننے کو ملتا ہے. عام لوگوں کے نزدیک اس کا مفہوم خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ہے. مگر اس لفظ کی گہرائی میں جھانکا جائے. تو ہر شعبہ زندگی میں جہاں جہاں لوگوں کو نفسیاتی،فزیکلی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے. وہ سب ہراسمنٹ کے زمرے میں آتے ہیں. حکومت آج کل ملکمل طور پر اس فارمولا پر عمل پیرا ہے. وہ خود کو اقتدار میں لانے والوں پر آج کل ڈیل کے الزامات عائد کر رہی ہے. شاید اسے اندازہ ہو چکا ہے. کہ اگر مقتدر حلقہ نے اس سے بے رخی اختیار کر لی. تو اس کا سیاسی مستقبل تاریخ ہو جائے گا. جس طرح ایک فحاشہ عورت جو گندگی کی دلدل سے نکل کر شرفاء کی محفل میں پہنچنے کے لیے کسی مالدار اور شریف انسان کا سہارا تلاش کرتی ہے. اسے ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے. کہ کہی یہ شریف زدہ اسے چھوڑ کر نہ چلا جائے. اس صورت میں اس کا مستقبل ایک بار پھر سے وہی گندگی ہو گی. اس خوف کے پیش نظر وہ ہر وقت اس شریف زدہ کو ہراسگی کا شکار کرتی رہتی ہے. اس بات سے ڈرا دھمکا کر کہ اگر اس نے اس سے منہ موڑا. تو یہ دنیا کو اپنے ناجائز تعلقات کا بتا دے گی.

جس کی وجہ سے وہ شریف زدہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہوتا ہے. حکومت بھی آجکل مقتدر حلقہ کے ساتھ یہی روش اختیار کیے ہوئے ہیں. جب بھی مقتدر حلقہ ماضی کے حکمرانوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرتا ہے. حکومتی ترجمان شور برپا کر دیتے ہیں. کہ اگر آپ نے ان لوگوں سے روابط بڑھائے. تو ہم عوام کو اپنے ناجائز تعلقات کے بارے میں بتائے گے. کہ کس طرح سے آپ لوگوں نے ہمیں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کیا ہے. وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر مملکت برائے اطلاعات میاں فرخ حبیب، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور شہباز گل ان لوگوں میں سر فہرست ہیں. ان لوگوں کا کام دن رات فوج کو سیاسی طور پر بلیک میل کرنا ہے. کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھے. کہ افواج پاکستان پورے ملک کی افواج ہے. نہ کہ پاکستان تحریک انصاف کی. مگر اپنے ناجائز تعلقات پر اسے اس قدر مان ہے. کہ وہ اسے کسی دوسرے کے ساتھ شئیر نہیں کرنا چاہتی. یا اپنی بدنامی کے خوف سے وہ چاہتی ہے. کہ ان دونوں کے درمیان کوئی تیسرا فریق حائل نہ ہو. موجودہ سیاسی صورتحال میں اپوزیشن جماعتیں مکمل طور پر خاموش ہیں. مگر حکومتی ترجمان آئے روز کسی نہ کسی نئ ڈیل کا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں. جس کے جواب میں مسلح افواج کے ترجمان کو وضاحت دیتے ہوئے کہنا پڑتا ہے. کہ ہمیں سیاست سے دور رکھا جائے. عوام اور اپوزیشن جماعتیں تو مسلح افواج کو سیاست سے دور رکھنے کی خواہش مند ہیں. مگر حکومت ایسا نہیں چاہتی. وہ ہر صورت اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہے. کیونکہ اس کی بقا اسی میں ہے. کہ ہمارے ساتھ فوج ہے. یہ اسے دیکھا کر ہی تو حکومت کر رہی ہے. ورنہ اس کے پلے کچھ نہیں. اس کم عقل محبوبہ نے جس قدر فوج کو بدنام کیا ہے. اتنا یہ آج تک نہیں ہوئی تھی. اس کم عقل اور کم ظرف محبوبہ سے جس قدر ممکن ہو. جلد از جلد فوج کو اپنی جان چھوڑا لینی چاہیے. ورنہ اس کے اپنے پلے تو کچھ نہیں رہنا. اس نے ان کے پلے بھی کچھ نہیں رہنے دینا. اگر ان کے بقول ڈیل ہو رہی ہے. تو پھر اس ڈیل کے مقاصد و اغراض کیا ہیں. کیا ان سے اسٹیبلشمنٹ کا دل بھر گیا ہے. جو وہ کسی دوسرے کو موقع دینا چاہتی ہے. محبوبہ کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے. کہ عاشق کبھی کسی ایک محبوبہ کے پہلو سے لگ کر نہیں رہتا. اپنا مطلب نکلتے ہی وہ محبوبہ تبدیل کر لیتا ہے. اب حکومت جتنا مرضی سیاسی طور پر اسٹیبلشمنٹ کو ہراسمنٹ کا شکار کر لے. کچھ ہونے والا نہیں. اندر کھاتے جو کھیچڑی پک رہی ہے. وہ اب حکمرانوں کی رخصتی کی نوید سنانے والی ہے. حکمران جماعت کا ہر فرد عقل سے عاری ہے. وہ ایسے ایسے من گھڑت الزامات عائد کرتے ہیں. جن کے بارے میں ان کے پاس کوئی واضح ثبوت نہیں ہوتے . ستم ظرفی تو یہ ہے. کہ یہ جھوٹ پکڑے جانے پر نہ شرمندہ ہوتے ہیں. اور نہ ہی ندامت کا اظہار کرتے ہیں. ان کی سیاسی ہراسمنٹ سے اب ملکی اسٹیبلشمنٹ بھی تنگ آ چکی ہے. وہ ہر صورت اس بیماری سے جان چھڑانے کا پختہ ارادہ کر چکی ہے. اسی لیے حکمران جماعت کی طرف سے دن رات ڈیل کی صدا سننے کو مل رہی ہے. جس قدر یہ نالائق، ناتجربہ کار حکومت ثابت ہوئی ہے
ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی. اس کو اقتدار میں لانے والے بھی عوام سے آنکھیں چراتے پھر رہے ہیں.

عقل مند لوگ کہتے ہیں. کہ دوستی کرتے وقت نسل و حسب نسب دیکھ لینا چاہیے. مگر اس بار اسٹیبلشمنٹ ظاہری خوبصورتی کے جھانسے میں پھنس گئی تھی . جس کا خمیازہ یہ تو بھگت ہی رہی ہے. عوام کو بھی اس عذاب کی سزا مل رہی ہے. اسٹیبلشمنٹ کو جس قدر ممکن ہو. اس نااہل محبوبہ کی سیاسی ہراسمنٹ سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے. سیاسی ہراسمنٹ کا کھیل جتنا طول پکڑتا جائے گا ۔اتنا ہی اس ملک و قوم کے لیے زیر قتل ثابت ہو گا. پاکستان مسلم لیگ ن کے موجودہ صدر میاں محمد شہباز شریف ایک بار پھر سے کورونا مثبت آنے پر قرطینہ میں چلے گئے ہیں. ان کا قرطینہ میں جانا حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے. کیونکہ مقتدر حلقوں سے ان کی بات چیت فائنل راؤنڈ میں پہنچ چکی ہے. کسی بھی وقت بریکنگ نیوز آنے والی ہے. پاکستان تحریک انصاف کی ساری سیاسی جماعت ہائی چیک ہو سکتی ہے. میاں محمد شہباز شریف شروع دن سے ہی ملکی اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ شخصیت رہے ہے. انہیں متعدد بار وزارت عظمیٰ کی پیش کش کی گئی ہے. مگر انہوں نے ہر بار اپنے بڑے بھائی میاں محمد نواز شریف کی محبت اور احترام میں اس پیش کش کو رد کیا ہے. اب ملک و قوم کی بہتری کے پیش نظر اس پیش کش پر سنجیدگی سے غوروفکر کیا جا رہا ہے. عوام بھی اس منحوس حکومت سے مکمل طور پر بیزار ہو چکی ہے. وہ بھی جلد از جلد اس سے نجات کی متلاشی ہے.

رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی
دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں