بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت ، ملک بھر میں کتنے افراداحساس راشن پروگرام میں رجسٹرڈ؟

فیصل آباد(آن لائن)

پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگا ئی کی وجہ سے غربت کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، 2 کروڑ ا سے زائد فراد نے مہنگائی سے تنگ آکر حکومت سے احساس راشن پروگرام تحت مالی مدد کی اپیل کی ہے،گذشتہ دو سالوں میں بڑھتی ہوئی افراط زر خصوصاً اشیائے خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے بھی مزید لاکھوں افراد غربت کے قریب پہنچ گئے ہیں جبکہ مہنگائی کی وجہ سے تقریباً 40 لاکھ نئے لوگ غربت کا شکار بنے ہیں۔

آن لائن کے مطابق احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت حکومت کو فیصل آباد سمیت نلک بھر سے اب تک ۱یک کروڑ 90لاکھ کے قریب درخواستیں موصول ہوئی ہیں ان افراد نے حکومت سے کوکنگ آئل،گھی،اور دالیں خرید نے کیلئے 1000روپے ماہانہ سبسڈی حاصل کرنے کیلئے مالی مدد کی اپیل کی ہے،جبکہ حکومت کی جانب نے3نومبر2021 کو احساس راشن پروگرام کا اعلان کیا۔ اس پروگرام سے 2کروڑ خاندان مستفید ہوں گے، پاکستان میں متمول طبقہ ایک اندازے اپنی آمدن کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے لیکن نچلے متوسط اور غریب طبقے کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی آمدن کا 70 سے 80 فیصد حصہ خوراک پر ہی خرچ کرتی ہے۔ اس لیے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے نے اس طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے اور بیشتر کو مزید غربت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یعنی کہ آمدنی کم ہے اور مہنگائی 50 گنا تک زیادہ ہے۔ پچھلے دو سالوں میں بڑھتی ہوئی افراط زر خصوصاً اشیائے خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے بھی مزید لاکھوں افراد غربت کے قریب پہنچ گئے ہیں بجلی کی بل،کوکنگ آئل،گھی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے نچلے متوسط اور غریب طبقے کو پریشان کیا ہے، پاکستان میں 2018 میں 31 اعشاریہ 3 فیصد آبادی انتہائی غربت کی زندگی گزار رہی تھی جو 2021 میں بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی کہ کل 21 کروڑ آبادی میں سے 8 کروڑ سے زائد افراد ایسے ہیں جو زندگی کی ڈور سے جڑے رہنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ان مایوس کن اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں غربت کی شرح 31.4 فیصد، سندھ میں 45 فیصد، خیبر پختونخوا میں 49 فیصد اور بلوچستان میں خوفناک 71 فیصد ہے۔ پچھلے دو سالوں میں بڑھتی ہوئی افراط زر خصوصاً اشیائے خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے بھی مزید لاکھوں افراد غربت کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ماہرین معاشیات کے خیال میں صرف پچھلے دو سالوں کی افراط زر کی وجہ سے تقریباً 40 لاکھ نئے لوگ غربت کا شکار بنے ہیں، علاوہ ازیں ڈولتی ہوئی معیشت، ڈالر کی اونچی اڑان، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو لگام ڈالنے میں ناکامی جیسے عوامل غربت کی بھٹی کو ایندھن فراہم کرنے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں