پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرکے منجند ، ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی نہ ہو سکی، ذمہ دار کون؟

فیصل آباد(آن لائن)

وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے یکم مارچ سے پٹرولم مصنوعات میں 10 روپے کمی اور 30 جون تک قیمتیں برقرار رکھنے کے اعلان کے بعد بھی ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں کم نہ ہو نا انتظامیہ کے لئے لمحہ فکریہ، انتظامیہ کی ناہلی کی وجہ سے شہر بھرمقامی سطح پرکوئی سرکاری ٹرانسپورٹ نہیں، رکشہ والوں نے سٹاف بائی سٹاف کرایہ میں بھی دوگناہ اضافہ کردیا، مسا فروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ جارہاہے-

ڈویژنل، ضلعی انتظامیہ،سیکرٹری آرٹی اے،ٹریفک پولیس ٹرانسپورٹرز سے مبینہ طورپر ماہانہ کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں، نجی ٹرانسپورٹ کے اڈامالکان بھی ایک بڑا مافیا ہ ہے مافیا کے سامنے ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر خاموش اور بے بس ہے جبکہ نجی ٹرانسپورٹ کے اڈوں مالکان چھوٹے ٹرانسپورٹرز سے اڈافیس کی مد میں روانہ لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں، ضلعی انتظامیہ کی ناہلی کی وجہ سے سرکاری اڈے ویران اور خالی پڑے ہیں،

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی ٹرانسپورٹ کے اڈوں ختم کردیئے جائیں تو ٹرانسپورٹرز خود ہی کرایے کم کردیں گے آن لائن کے مطابق، نجی ٹرانسپورٹ کے مالکان ٹرانسپورٹرز کو لوٹنے کا انوکھاطریقہ اختیار کررکھا ہے ‘ شہر میں نجی اڈوں کے مالکان تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے اور زیاد تر خکومتی اراکین اسمبلی ہیں جس کی وجہ ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر خاموش ہے ‘ شہر اور گردونواح میں چلنے والی نجی ٹرانسپورٹ کے مالکان مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، مسافروں سے ویگن مالکان نے دگنا کرایہ وصول کیا جارہاہے، ایک سروے مطابق نجی ٹرانسپورٹ کے اڈا مالکان کی طرف سے ڈپٹی کمشنر، سیکرٹری آرٹی اے،سی ٹی او سمیت ضلعی انتظامیہ کو مبینہ طور پرماہانہ کروڑوں روپے رشورت دی جاتی ہے،

چھوٹے ٹرانسپورٹرزکا کہناہے کہ فیصل آباد میں حکومتی اراکین اسمبلی کے نجی ٹرانسپورٹ اڈوں پر آنیوالی ہر مسافر گاڑی سے اڈا فیس کی مد میں فی گیڑ ا تحصیل کی سطح ساڑھے پانچ سو سے لیکر ہزار روپے تک وصول کیا جاتا ہے جبکہ مین ٹرمینل ضلعی انتظامیہ کے زیر کنٹرول ٹرانسپورٹ اڈے سے صرف مسافگاڑی سے120روپے سرکاری فیس وصول کی جاتی ہے نجی اڈوں کے مالکان کی ملی بھگت سے یہاں پر بھی ضلعی انتظامیہ کے ناک تلے سرکاری اڈے پر ملازمین دو سو روپے اضافی وصول کررہے ہیں جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے آن لائن کے مطابق جی ٹی ایس چوک میں موجود ایک نجی ٹرانسپورٹ کا اڈا جوکہ حکومتی اراکین کی ذاتی ملکیت ہے جبکہ شہر دیگرمقامات پر نجی اڈے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اورممبران اسمبلی کے ہیں یہاں سے سمندری’ تاندلیانوالہ’ جڑانوالہ’ اوکاڑہ’ ڈجکوٹ’ ساہیوال’ستیانہ سمیت دیگر اضلاع کو جانیوالی ویگنوں اوربسوں سے ساڑھے پانچ سو سے لیکر پندرہ سوتک صرف اڈا فیس کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں۔جبکہ اس کے عقب میں واقع سرکاری مین ٹرمینل ضلعی انتظامیہ کا اڈا صرف تحصیل کی سطح پر جانیوالی ویگنوں سے120روپے سرکاری پرچی وصول کرتا ہے-

ویگن مالکان کا کہنا ہے کہ سی این جی مہنگی ‘ٹریفک پولیس کے چالان اور یہ نجی اڈوں کی فیس کی مد میں ہزاروں روپے روزانہ ادا کرناپڑتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری مجبوری ہے کہ کرایوں میں اضافہ کیاجائے اگر ہم ان کواڈا فیس ادا نہیں کرتے تو یہ یہاں پر رکھے ہوئے غنڈے ویگن ڈرائیوروں پر تشدد بھی کرتے ہیں اور گاڑی میں روڈ پر داخل نہیں ہونے دیتے جس کی وجہ سے اڈا مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور نجی اڈے پر گاڑی کھڑی کرنے پر مجبور کیاجاتا ہے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب فوری طور پر نوٹس لے اور نجی ٹرانسپورٹ اڈوں کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں