نواز شریف کا کلہ بہت مضبوط ہے! …………… تحریر ، افضال احمد تتلہ

ن لیگ کی حکومت ختم ہوئے کئی دن بیت چکے ہیں آنے والے انتخابات میں اپنی اپنی سیٹیں پکی کرنے والے مگر خود کو عوامی لیڈرز کہلوانے والے حضرات نئے آشیانوں کی طرف محو پرواز ہیں۔یہ مخصوص پنچھیوں کا ٹولہ ہے جو نئے نئے درختوں پر گھونسلے بنانے کے شوقین ہیں ان حضرات کے بارے میں “کرسی مل” کی اصلاح بھی استعمال ہوتی ہے ان کو صرف اپنی کرسی عزیز ہے کوئی پارٹی یا نظریہ ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا 2013 کے الیکشن میں جو نواز شریف کی چھتری تلے آنے کے لیے پھڑپھڑا رہے تھیں اب وہ یہاں سے اڑان بھر کر تبدیلی کے “بنیروں” پر بیٹھنے کے لیے پڑ تول رہے ہیں اور اس مقصد میں ان کرسی مل حضرات کی بڑی تعداد کامیاب بھی ہوچکی ہے خیر ان حالات پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ میں نے اپنی کتاب بینی کی عادت کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوہدری شجاعت حسین کی لکھی ہوئی کتاب “سچ تو ہے یہ” کیا مطالعہ بھی جاری رکھا ہوا تھا اس کتاب میں چوہدری شجاعت حسین نے یہاں یہ دعوٰہ کیا ہوا ہے کہ ہمارے مرہون منت ہی پنجاب میں صحافیوں کے لیے پہلی ہاؤسنگ اسکیم ,پریس کلب ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام سے ہربنس پورہ لاہور میں مکمل کی گئی اور تمام صحافیوں کو بلا امتیاز پلاٹ مہیا کیے گئے انہوں نے کہا کہ بعد میں اس طرز پر راولپنڈی اور ملتان میں بھی پریس کلب ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کی گئیں وہی چوہدری شجاعت حسین نے نواز شریف کے بارے جو باتیں لکھی ہوئی ہے اگر ان پر غور کریں تو پھر یہ سوال ذہین میں ضرور ابھرتا ہے کہ اس سطح کا بندہ اور وزارت عظمٰی؟ جیسے کہ چوہدری صاحب نے اپنی کتاب میں نواز شریف کے بارے میں لکھا ہے کہ نواز شریف کو وزیراعلی منتخب کرانے کے لیے مشترکہ مہم شروع ہوئی تو اس سلسلے کی پہلی میٹنگ سرگودھا میں ہمارے قریبی رشتہ دار چوہدری انور علی چیمہ مرحوم کے گھر رکھی گئی جہاں انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی مدعو کر رکھا تھا اس میٹنگ میں پہلے چوہدری انور علی چیمہ نے تقریر کی, پھر چوہدری پرویز الٰہی نے خطاب کیا لیکن جب نواز شریف کی باری آئی تو وہ گھبرا سے گئے اور پرویز الٰہی سے کہنے لگے “میں تقریر نہیں کر سکوں گا آپ ہی میری طرف سے تقریر کردیں” مگر جب ہم نے اصرار کیا کہ آپ وزیر اعلی بننے جارہے ہیں آپ کو تقریر کرنی چاہیے تو انہوں نے بمشکل ایک دو منٹ تقریر کی شاید یہ نواز شریف کی پہلی تقریر تھی جو انہوں نے عوامی نمائندوں کے کسی اجتماع میں کی تھی۔

سچ تو یہ ہے میں چوہدری شجاعت اپنے اور نواز شریف کے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ نواز شریف اور ہمارے اختلافات کی خبریں اخبارات میں آنے لگی تو جنرل ضیاءالحق نے نواز شریف کو اور ہمیں راولپنڈی بلایا اس روز ان کی باڈی لینگویج بتا رہی تھی کہ وہ سخت غصے میں ہیں۔میٹنگ شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی انہوں نے فیصلہ کن لہجہ میں نواز شریف سے کہا کہ پرویز الٰہی اور ان کے ساتھیوں کو فوراً دوبارہ کابینہ میں شامل کریں۔جنرل ضیاءالحق نے اتنے سخت لہجے میں یہ بات کی کہ نواز شریف کی آنکھوں میں نمی آگئی۔آپ جیسے جیسے کتاب پڑھتے جائیں گئیں آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ صوبہ پنجاب نے اگر کوئی ترقی کی ہے تو پرویز الہی کے دور حکومت میں ہی کی ہے۔نواز شریف کی جس طرح مخالفت کی گئی ہے میرے خیال کے مطابق اس کتاب کا نام سچ تو یہ ہے کی بجائے آدھا سچ رکھنا چاہیے تھا کیونکہ بطور انسان یہ کیسے ممکن ہے کہ چوہدری برادران سے کبھی بھی کوئی لرزش نہ ہوئی ہو مگر آپ پوری کتاب پڑھ لیں۔انہوں نے اپنی کوئی غلطی کھل کر تسلیم نہیں کی۔خیر نواز شریف کے بارے میں چوہدری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ جب نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی بات چل رہی تھی تو جنرل ضیاءالحق سے چوہدری پرویز الٰہی کی ایک ملاقات ہوئی جس میں جنرل ضیاءالحق نے کہا مجھے خود پنجاب کے حالات ٹھیک نہیں لگ رہے پنجاب اسمبلی میں نواز شریف اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں بقول چوہدری صاحب کے جنرل ضیاءالحق نے ہی انہیں نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے تیار کیا تھا۔مگر جب ہماری پوزیشن تگڑی ہوگی تو نواز شریف نے جنرل حمید گل سے بات کی جو اس وقت آئی ایس آئی ڈائریکٹر جنرل تھے اور جنرل ضیاءالحق کے بہت قریب تھے۔ جنرل حمید گل نے کسی نہ کسی طرح جنرل ضاءالحق کو یہ باور کروایا کہ نواز شریف کی جگہ اگر چوہدری کامیاب ہوگے تو یہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے ساتھ مل کر آپ کے لیے مشکل پیدا کریں گے اس بات کاجنرل حمید گل نے اعتراف بھی کیا تھا۔بہرحال اس کے بعد جنرل ضیاءالحق لاہور پہنچے اور نواز شریف کے لیے یہ مشہور جملہ کہا”نوازشریف کا کلہ بہت مضبوط ہے اسے میری عمر بھی لگ جائے “۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں