ضمیر فروشی اور مفاد پرستی! ……………… تحریر ، اورنگزیب اعوان

ضمیر فروشی اور مفاد پرستی! …………… یہ الفاظ اکثر و بیشتر ہماری سماعت کو سننے کو ملتے ہیں. ان کے معنی ہر انسان اپنی سوچ کے مطابق نکلتا ہے. پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ان کا عمل دخل بہت زیادہ ہے. آجکل ہر سیاسی جماعت ان الفاظ کی گردان آلانپتی نظر آتی ہے. وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پر تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں جمع کروا دی ہے. جس کے بعد سے ضمیر فروشی اور مفاد پرستی کا دھندہ عروج پر ہے. حکومت وقت کا جو رکن اسمبلی یا اتحادی اس کو چھوڑ کر اپوزیشن جماعتوں کی صفوں میں شمیولیت اختیار کر رہا ہے. حکومتی ارکان اسے ضمیر فروش کے لقب سے نواز رہے ہیں. جبکہ اپوزیشن اسے ضمیر کی بیداری کا نام دے رہی ہے. اسی طرح سے جو اراکین اپوزیشن کی صفوں سے نکل کر حکومتی اتحاد میں شمیولیت اختیار کر رہے ہیں. اپوزیشن انہیں مفاد پرست قرار دے رہی ہیں. اور حکومت وقت انہیں محب الوطن جیسے القابات سے نواز رہی ہے. پاکستان کی موجودہ سیاست نے عام آدمی کو چکرا کر رکھ دیا ہے. ایک سیاسی جماعت صبح کچھ بیان دیتی ہے. شام کو کچھ اور. اس سیاسی کشمکش میں عوام کی کسی کو پروا نہیں. سبھی اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کو بے چین ہیں. مگر کہہ یہی رہے ہیں. کہ ہم پاکستانی عوام کے مفاد میں سب کچھ کر رہے ہیں. اگر عوام کا انہیں ذرہ بھر بھی احساس ہوتا. تو اسے مہنگائی کی چکی میں نہ پسنے دیتے. آج روزمرہ زندگی کی اشیاء ضروریہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں. گھی، چینی، آٹا ،دالیں، چاول اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں. لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی کھانے کو پیسے نہیں. ایسے میں ہمارے حکمران اور اپوزیشن جماعتیں عہدوں کی بندر بانٹ میں لگی ہوئی ہیں.

بڑی سیاسی جماعتیں جلسہ جلسہ کا کھیل کھیلنے میں مصروف عمل ہیں. ان جلسوں پر ہونے والے اخراجات کو اگر عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے. تو کافی حد تک غریب عوام کو فائدہ ہو سکتا ہے. مگر شاید سیاسی جماعتوں کے نزدیک عوام محض اقتدار کے ایوانوں میں پہچنے کے لیے ایک سیڑھی ہے. جس پر پاؤں رکھ کر وہ اقتدار کے ایوان پر براجمان ہو جاتے ہیں. جیسے ہی انہیں حکومت سازی کا موقع مل جاتا ہے. یہ عوام کو بھول جاتے ہیں. ان پر برا وقت شروع ہوتا ہے. تو انہیں غریب عوام کی یاد ستانے لگتی ہے. بیچاری غریب اورمفلس عوام ہر بار ان کی باتوں میں آ جاتی ہے. موجودہ سیاسی صورتحال نے تمام سیاسی جماعتوں کے مکروہ چہرے عوام پر عیاں کر دیئے ہیں. سب سیاسی رہنما اپنے اپنے ذاتی مفادات کی تگ و دو میں مصروف عمل ہیں. عوام کو باور کروایا جا رہا ہے. کہ ہم سب آپ کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہے. کوئی وزرات اعلیٰ ،کوئی گورنر شپ و دیگر عہدوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں. ہر کسی نے اپنے اپنے ذاتی مطالبات کی فہرست بنا کر اپنی جیب میں رکھی ہوئی ہے. جیسے ہی حکومت یا اپوزیشن کی طرف سے کوئی بھی ان کے پاس آتا ہے. یہ اپنی جیب سے اپنے مطلوبہ مطالبات کی فہرست نکال کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں. دیکھتے ہیں یہ ذاتی مفادات کی جنگ کس جگہ جا کر رکتی ہے. حالیہ سیاسی صورتحال عجیب و غریب منظر پیش کر رہی ہے. کسی سیاسی جماعت کا پتہ نہیں چل رہا کہ اگلے لمحے اس نے کیا فیصلہ سازی کرنی ہے. سبھی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی بولی بول رہی ہیں. لگتا ہے. اس موجودہ سیاسی صورتحال میں تمام جماعتوں نے اپنے اپنے مطالبات منوا لینے ہیں. شاید سیاسی جماعتیں بھول جاتیں ہیں. کہ افراتفری میں کیے گئے معاہدات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی. اگر حکومت عدم اعتماد کی تحریک سے بچ جاتی ہے . تو کیا گارنٹی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے کیے گئے معاہدات پورے کرے گی . اسی طرح اپوزیشن اگر عدم اعتماد کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے. تو وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے کیے گئے معاہدات پر من وعن عمل پیرا ہو گی. کیونکہ حکومت اور اپوزیشن اس وقت دیگر سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہی ہیں. مجبوری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک جگہ اکٹھی بیٹھ نہیں سکتیں . ورنہ ان مفادات پرستوں کی پاکستانی سیاست میں کوئی جگہ نہیں. حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ان ضمیر فروشوں اور مفاد پرستوں کے مکروہ چہروں سے اچھی طرح سے آشنا ہو چکی ہیں . بس اینی اپنی انا کی جنگ میں ان کے ہاتھوں یرغمال ہو رہی ہیں. اللہ تعالیٰ اس حکومت اور اپوزیشن کو ہدایت دے. کہ وہ ان بلیک میلروں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی بجائے باہم مل جل کر تمام سیاسی مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں