پروفیسر محمد اویس لطیف مرحوم ……………………… ( تحریر، پروفیسر ریاض احمد قادری )


( تحریر، پروفیسر ریاض احمد قادری )

شعبہ اسلامیات کے پروفیسر محمد اویس لطیف مرحوم انتہائی شریف النفس، نفیس الطبع، ملنسار اور اعلیٰ اخلاق کے حامل تھے۔طلبہ و طالبات میں انتہائی مقبول اور ہر دلعزیز، بہترین سماجی کارکن،طلبہ و طالبات کے غمگسار، ہمدرد اور ہر مشکل میں مددگار تھے۔ انہوں نے سارے جہاں کے روگ، درد اور غم اپنے تنِ نازک میں پال رکھے تھے۔طلبہ و طالبات کی ضرورت کی ہر چیز ان کے کمرے میں موجود ہوتی۔ دھان پان شخصیت، دبلے پتلے، انتہائی پھر تیلے، جین اور خوبصورت شرٹ میں ملبوس،ہروقت متحرک و مستعد،چہرے پر سیاہ ریش، خوبصورت چشمہ، بڑھاپے کے باوجود نوجوانوں کی چستی اور پھرتیلا پن ان کا امتیاز تھا۔ اپنے تنِ نازک میں داخلہ کمیٹی، سیکورٹی کمیٹی،پرچیز کمیٹی، ڈسپلن کمیٹی اور نہ جانے کس کس کمیٹی کا غم ہروقت پالے رکھتے تھے۔ فانی حیات کے آخری سالوں میں کتنی ہی مہلک اور جان لیوا بیماریوں میں مبتلا رہے لیکن جونہی ذرا طبیعت سنبھلتی کالج آجاتے اور سارے کام کر نے لگتے۔ ان کے ہاتھوں میں وائرلیس اور موبائل فون ہروقت ہوتے۔پرنسپل آفس، مین گیٹ، وائس پرنسپل آفس، سیکورٹی ہیڈ کوارٹرز، مین برآمدہ غرض کالج کے فرنٹ پر ہروقت گھومتے پھرتے نظر آتے کبھی آرام سے تو وہ بیٹھتے ہی نہ تھے۔ ایک کمانڈو ، کی طرح ہروقت پریڈ کرتے نظر آتے ۔ ان کے ہوتے ہوئے کالج کو کسی قسم کی کوئی فکر نہیں تھی۔ ایڈمشن کمیٹی ہیڈ آفس میں بیٹھے کتنے ہی پریشر سیاسی و غیر سیاسی وہ اپنی نازک ذات پر برداشت کر جاتے۔ کتنی ہی دھمکیاں سن جاتے، کتنے ہی الٹی میٹم برداشت کر جاتے مگر کالج کے میرٹ پر حرف نہ آنے دیتے۔دشمن عناصر کے لئے انتہائی سخت ، اور کالج طلبہ و طالبات کے لئےہر وقت شفیق اور مسکراتا چہرہ۔ یہ انہی کا کمال تھا۔ نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو، ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم، رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن کی عملی تصویر، اقبال ؒ کے مردِ مومن کی جیتی جاگتی تصویر،

24 نومبر 2020 کو ان کی اچانک وفات کی خبر کالج پہنچی تو کالج میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ ہروقت سوگ کا سماں تھا کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ ہمارے اتنے مستعد اور پھرتیلے رفیق کار جناب پروفیسر محمد اویس لطیف ہمیں یوں اچانک دردِ جدائی دے جائیں گے۔
انا للہ و ان الیہ راجعون۔

جناب پروفیسر محمد اویس لطیف 24دسمبر 1964کو بٹالہ کالونی فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی جناب عبداللطیف پاکستان ائیر فورس میں تھے۔جناب محمد اویس لطیف دو بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ آپ نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ صابریہ سراجیہ ہائی سکول فوارہ چوک سے 1979 میں کیا۔ایف اے 1981 اور بی اے 1983 میں گورنمنٹ میونسپل ڈگری کالج عبداللہ پور فیصل آباد سے کیا۔ ایم اے اسلامیات 1986 میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے کیا۔31دسمبر 1987کو لیکچرر اسلامیات منتخب ہوئے اور گورنمنٹ اسلامیہ کالج چنیوٹ میں تعینات ہوئے۔یہاں ۵ سال سروس کی اور 31 دسمبر 1992 تک رہے۔پھر آپ کا تبادلہ گورنمنٹ ملت ڈگری کالج غلام محمد آباد ہو گیا جہاں آپ یکم جنوری 1993تا3 جنوری 1995 دو سال تک رہے۔پھر آپ کا تبادلہ آپ کی مادر علمی گورنمنٹ میونسپل ڈگری کالج ہو گیا جہاں آپ 4جنوری 1995 تا19جنوری 2006 تک لیکچرر اسلامیات رہے۔پھر آپ کی ترقی بطور اسسٹنٹ پروفیسر ہو گئی اور آپ 20 جنوری 2006کو گورنمنٹ گریجو ایٹ کالج سمن آباد جائن ہوئے۔ یہیں آپ کو ایسو سی ایٹ پروفیسر آف اسلامیات کی پوسٹ پر ترقی ملی اور آپ نے یہیں جائن کیا۔ یہاں آپ کو بے شمار ذمہ داریاں ملیں جن میں سیکرٹری ایڈمشن کمیٹی،ڈپٹی چیف سیکورٹی کمیٹی اور پرچیز کمیٹی وغیرہ شامل تھی۔

۔ اکتوبر1989 کو آپ کی شادی ہوئی اللہ تعالیٰ نے آپ کو 4 بچے عطا کئے۔گورنمنٹ کالج سمن آباد میں ایم فل اسلامیات شروع ہوا تو آپ نے اس کی پہلی کلاس میں داخلہ لیا اور اپنی کلاس کے سی آر بھی بنے اور بہت شوق سے اپنی مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے لگے۔ لیکن پھر بیماری میں مبتلا ہو گئے تو یہ کلاس بھی انہیں چھوڑنی پڑی ۔ شدید بیماری میں مبتلا ہو کر دوران سروس 24 نومبر 2020 اللہ کو پیارے ہو گئے۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کی نئی رہائش گاہ سٹی ہائوسنگ کالونی سرگو دھا روڈ ادا کی گئی۔ بے شمار کالجوں کے اساتذہ کرام، طلبہ اور آپ کے محبان نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

ان کی خدمات سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ وہ بہت سی خوبیوں کے حامل تھے۔وہ انتہائی خوبصورت لباس پہنتے۔ ہمیشہ نوجوانوں کی طرح پینٹ شرٹ میں ملبوس رہتے۔ یہ لباس انہیں سجتا بھی بہت تھا۔ مسکراتا چہرہ، ہنستی آنکھیں، خوبصورت اور دیدہ زیب ہیئر کٹ حسیں ریش مبارک ۔ کیا شاندار شخصیت تھی۔ اسی کلر کی گھڑی اسی کلر کا رومال، غرض میچنگ ان پر ختم تھی۔ ان کی گاڑی مہران میں بھی خوبصورت چیزیں موجود رہتیں۔ ان کا کمرہ نفاست کا مرقع ہوتا۔ ان کے کمرے میں بھی بڑی خوشبودار اور خوبصورت اشیا موجود رہتیں سردرد کی دوائی تو ہروقت ان کے کمرے سے مل جاتی۔وہ رخصت ہوئے تو اپنے ساتھ یہ ساری حسیں یادیں لے گئے۔

پیدا کہاں اب ایسے پراگندہ طبع لوگ
دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت کے اعلیٰ مقامات میں جگہ عطا فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں