پروفیسر جہاں زیب خان مرحوم و مغفور! ……………. ( تحریر: پروفیسر ریاض احمد قادری )

15 ستمبر2021 کو کالج پہنچے تو رفیق محترم جناب پروفیسر جہاں زیب خان صدر شعبہ تاریخ کے انتقال کی روح فرسا خبر ملی۔ انا للہ و انا لیہ راجعون۔ ان کی اچانک رحلت کی خبر سے کالج میں صفِ ماتم بچھ گئی اور ہر طرف سوگ کی فضا چھا گئی طلبہ و طالبات اور اساتذہ یہ خبر سن کر سکتے میں آگئے اور غم کے سمندر میں ڈوب گئے۔

جناب پروفیسر جہاں زیب خان ایک انجمن تھے۔ وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ، ایک انسٹی ٹیوٹ تھے۔ قانون ، ایجوکیشن اور تاریخ پر ایک اتھارٹی۔وہ انتہائی پڑھی لکھی شخصیت تھے ۔ بہت سے مضامین میں ماسٹرز اور قانون اور شرعی لا کے ماہر ۔ وہ جدوجہد مسلسل عزم اور تعلیم و تہذیب اور تدریس و تربیت کی ایک جیتی جاگتی صورت تھے۔ وہ ہروقت پڑھتے رہتے تھے اور کوئی نہ کوئی ڈگری حاصل کرتے رہتے تھے ۔ اپنے دست و بازو اور محنت پر یقین رکھتے تھے، کسی دوسرے کے سہارے پر زندگی گزارنے کے قائل نہیں تھے۔ان کی زندگی سب لوگوں کے لئے مثالی ہے انہوں نے زندگی کے ہر لمحے میں پڑھا ہے اور ترقی کی شاندار منازل طے کیں۔انتہائی بنیادی سروس سے شروع کر کے نہایت اعلیٰ مقامات تک رسائی اور ہر طرح کی پوسٹوں کا حصول جناب پروفیسر جہاں زیب خان کی زندگی کے سنہرے کارناموں میں شامل ہے۔وہ انتہائی ہنس مکھ، خوش اخلاق، ملنسار اور خوش مذاق و خوش طبیعت انسان تھے۔ بلا کے مہمان نواز تھے۔ مہمانوں کو کھانا کھلا کے نہایت خوشی محسوس کرتے تھے۔ طلبہ و طالبات کے ساتھ دوستانہ ماحول میں رہتے۔ بہت محبت کرتے۔ ہر ملنے والے کا دل اپنی محبت سے مو ہ لیتے تھے۔ وہ خوبیوں کا پہاڑ تھے۔ نہایت زندہ دل اور ہنس مکھ تھے۔ ہر طرح کا مذاق نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کر لیتے کبھی ناراض نہیں ہوتے تھے۔ ان کا حوصلہ، صبر، برداشت مثالی تھی۔ سیلف میڈ کی اعلیٰ ترین مثال تھے۔ سب عزت، شہرت، عظمت انہوں نے اپنی ذہانت اور شب وروز کی محنت سے کمائی۔ آہ جناب پروفیسر جہاں زیب خان۔ تجھے ہم کہاں کہاں یاد رکھیں لفظوں میں تیرا سراپا لکھنا ناممکن ہے ۔ تجھے اے زندگی لائوں کہاں سے۔ ابھی تو آپ نے زندگی کی اور بہاریں دیکھنا تھیں ۔

جناب پروفیسر جہاں زیب خا ن ممتاز ماہر تعلیم اور پرنسپل جناب خان تاج محمد خان کے گھر 24 جولائی 1965 کو پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم گورنمنٹ لوکل گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ لالہ موسیٰ میں پرنسپل تھے ۔آپکے کل 4بھائی اور 3بہنیں تھیں۔

جناب پروفیسر جہاں زیب خان نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ نیو ماڈل ہائی سکول غلام محمد آباد فیصل آباد سے 1979میں پاس کیا۔ ایف اے کا امتحان 1984 میں گورنمنٹ گورڈن کالج راولپنڈی سے پاس کیا جبکہ بی اے کا امتحان 1989 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پاس کیا۔ ایم اے تاریخ کا امتحان 1993 میں پنجاب یو نیورسٹی لاہور سے پاس کیا۔ایم ایس سی پاکستان سٹڈیز 2001میںعلامہ اقبال اوپن یو نیورسٹی اسلام آباد سے پاس کی۔ بی ایڈ کا متحان پنجاب کالج آف ایجو کیشن راولپنڈی سے 1993میں پاس کیا جبکہ ایل ایل بی کا امتحان پنجاب لا کالج راولپنڈی سے 1996میں پاس کیا۔ایم اے انگلش کا امتحان 2000 میں پنجاب یو نیورسٹی لاہور سے پاس کیا۔ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ڈپلومہ PGD DIPLOMA IN TEFEL بھی کیا اور خط و کتابت کورس اسلامک فار شریعہ انٹر نیشنل اسلامک اکیڈمی اسلام آباد سے 2006 میں پاس کیا۔ایم فل تاریخ کا امتحان پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پاس کیا۔پی ایچ ڈی تاریخ کا امتحان بہا الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سے پا س کیا۔

1995 میں آپ کی شادی ہوئی ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔ایک بیٹا کم سنی ہی میں انتقال کر گیا۔ ان کے بیٹوں کے نام محمد احمد جہاں زیب خان ( بی ایس ایگریکلچر ریسورس اکنامکس زرعی یونیورسٹی ) اور ناجد احمد خان ( پانچویں کلاس ) ہیں۔

لیکچرر تاریخ کی سروس حاصل کر نے سے پہلے بی اے کا امتحان کر نے کے بعد پہلی جاب میرٹ پر حاصل کی ۔ آپ 16نومبر 1987 تا31دسمبر1992میں وزارت داخلہ میں بطور ریسیپشنسٹ سروس حاصل کی اور ایل ڈی سی کلرک سے اپر ڈویژن کلر ک منسٹری آف فارن افیرز میں فرنٹ ڈیسک آفیسر رہے۔پھر آپ نے یکم جنوری 1993تا 18 فروری 1996بطور اسسٹنٹ اکائونٹس کی سروس اٹامک انرجی پاکستان میں کی ۔ اس کے بعد آپ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں آگئے –

1996 تا 2003 آپ ایڈہاک لیکچرر ان تاریخ مختلف کالجز میں اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ان میں گورنمنٹ کالج جنڈ اٹک،گورنمنٹ کالج ٹیکسلا، گورنمنٹ کالج سمندری، گورنمنٹ ملت ڈگری کالج غلام محمد آباد فیصل آباد شامل ہیں۔ایڈہاک لیکچرر شپ سے آپ اور آپ کے دوہزار کے قریب ساتھیوں کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا تو آپ نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ان سب کا مقدمہ نہایت متانت اور ذہانت سے لڑا۔ جس روز چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار احمد چودھری مشرف دور میں بحال ہوئے ان کا سب سے پہلا حکم یہی تھا کہ ایڈ ہاک لیکچررزاپنے تمام واجبات سمیت بحال کئے جائیں اس طرح آپ کے توسط سے ہزاروں گھروں کے چولہے جو ٹھنڈے ہو گئے تھے پھر سے جلنے لگے۔ اس حکم کی روشنی میں پرانے ایڈ ہاک لیکچررز بھی بحال ہو گئے ۔یکم جنوری 2003 کو آپ پنجاب پبلک سروس کمیشن لاہور کا امتحان پاس کرکے مستقل لیکچرر بنے اور آپ کی تقرری گورنمنٹ ملت ڈگری کالج غلام محمد آباد میں ہوئی۔یکم جنوری 2013کو آپ فیڈرل پبلک سروس کمیشن اسلام آباد کی طرف سے ڈائیرکٹ اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہوئے۔ اور اسلام آباد کے فیڈرل گورنمنٹ کالج میں تعینات ہوئے۔ وفاقی حکومت نے آپ کی انتظامی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے آپ کو ڈپٹی ڈائریکٹر ماڈل کالجز ( 04-05-2014 to 31-03-2015) ڈپٹی ڈائریکٹر کو آرڈی نیشن ( 04-06-2015 to 31-12-2015) ڈپٹی ڈائیرکٹر لیگل ( 04-06-2015 to10-03-2016) مقرر کیا ان تمام پوسٹوں پرآپ نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ ۱۱ مارچ 2016 کو آپ پنجاب پبلک سروس کمیشن لاہور کی طرف سے گریڈ ۱۹ میں ڈائیرکٹ ایسوسی ایٹ پروفیسر آف ہسٹری منتخب ہوئے تو آپ نے گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد جائن کیا۔ایک بار پھر حکومت پنجاب نے آپ کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے آپ کو 7 اگست 2018 کو ڈائیرکٹر کالجز راولپنڈی ڈویژن مقرر کیا۔ جہاں آپ 2020تک اپنے فرائض بحسن و خوبی سرانجام دیتے رہے اس دوران آپ نے پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج سمن آباد پروفیسر ڈاکٹر محمد عتیق خان شاہد اور ان کے ساتھیوں کو راولپنڈی کے مطالعاتی دورہ کے لئے مدعو کیا جہاں پروفیسر ڈاکٹر محمد عتیق خان شاہد نے مری کالج برائے خواتین میں سائنسی موضوعات پر تو سیعی لیکچرز دئے۔آپ نے اس دوران اپنی بہترین مہمان نوازی کا مظاہرہ فرمایا۔ آپ کے اسی ڈائیرکٹر شپ کے دور میں صوبائی وزیر ہائیر ایجو کیشن راجا یاسر ہمایوں کے حکم پر آپ کو کوہسار یونیورسٹی مری اور چکوال یونیورسٹی قا ئم کر نے والی کمیٹیوں میں شامل کیا گیا انہوں نے شب وروز محنت کر کے فزیبلٹی رپورٹ تیار کی اور یونیورسٹیوں کا انفرا سٹرکچربنایا۔اسی طرح وزیر اعظم ہائوس میں جو یونیورسٹی اور ریسرچ سنٹر قائم کیا جا رہا تھا اس کی بنیادی کمیٹی میں بھی پروفیسر جہاں زیب خان شامل تھے۔ آپ کی انہی خدمات کے اعتراف کے طور میں پنجاب گورنمنٹ نے آپ کو اعلیٰ تعریفی اور توصیفی سرٹیفیکیٹ سے نوازا۔جب آپ نے ڈائیرکٹر کا عہدہ چھوڑا تو 2020میں آپ دوبارہ گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف ہسٹری تعینات ہوئے۔ آپ کو صدر شعبہ بھی بنایا گیا۔ ان کے علاوہ آپ کالج کے لیگل ایڈوائزر، ممبر ڈسپلن کمیٹی، ممبر پرچیز کمیٹی،سپروائزر آفس کاریسپانڈیس،چیف پراکٹر، برسر،ایڈمشن کمیٹی، آفس انچارج اور انچارج کالج کرکٹ ٹیم رہے۔آپ کو سیر وسیاحت کا بہت شوق تھا۔ پاکستان کے صحت افزا پہاڑی مقامات کی سیر کے لئے اکثر نکلے رہتے۔ اپنی وفات سے ایک ہفتہ قبل بھی آپ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کے لئے گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر اچانک طبیعت خراب ہوئی اور آپ ہسپتال لے جایا گیا لیکن طبیعت سنبھل نہ سکی اور 14ستمبر 2021 کو دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال فرماگئے۔ آپ کی نماز جنازہ15 ستمبر 2021کو بڑے قبرستان غلام محمد آباد میں ادا کی گئی ہزاروں ماہرین تعلیم، پرنسپلز، اساتذہ کرام ، طلبہ ، عام شہریوں اور ان کے عزیز و اقارب نے شرکت کی۔ آپ کی تدفین بڑے قبرستان میں اشکبار آنکھوں اور آہوں اور سسکیوںمیں کی گئی

مٹی میں چراغ رکھ دئے ہیں اندر بھی زمیں کے روشنی ہرو

خدا شاہد بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں کے مصداق وہ بہت سی شاندار خوبیوں کامرقع تھے۔ ہروقت کام کام اور کام ان کا شعار تھا۔ مسلسل جدوجہد اور سرگرمی ان کی فطرت کا خاصہ تھا۔وہ یاروں کے یار، بچوں پر مہربان، کو لیگ کے ساتھ مودب عام ملاقاتیوں کے لئے نہایت خوش اخلاق، عجز و انکسار کا پیکر،خلوص کا منبع اور اخلاص کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ جناب پروفیسر جہاں زیب خان کی یادیں تازہ رہیں گی وہ تمام دلوں میں زندہ رہیں گے۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی بخشش و مغفرت فرمائے ۔ آمین

سب کہاں کچھ لالہ و گ میں نمایاں ہو گئیں
خک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں