آٹے کا 20 کلو کا تھیلہ 1350 روپے تک پہنچ گیا ، عام آدمی مزید پریشان ، انتظامیہ خاموش

فیصل آباد ، ثناء رئوف بھٹی

فیصل آباد میں مسلسل بڑھتی قیمتوں کے باعث آٹے کا تھیلہ عوام کے پینچ دور ہو گیا ، 20 کلو آٹے کا تھیلہ 1350 میں فروخت ہو رہا ہے ، گندم کی کٹائی شروع ہے لیکن گندم کی قیمتیں مسلسل بلند ہو کر 2450 تک پہنچ چکی ہے ، فلور ملزم مالکان ، آڑھتی سمیت عوام بھی پریشانی کا شکار ہو گئے –

رمضان المبارک کے بعد حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی سبسڈی ختم کردی ہے جبکہ محکمہ خوراک فیصل آباد کی جانب سے فلور ملز کو سرکاری گندم کا کوٹہ بھی اس وقت بند ہے جس کی وجہ سے فلور ملز مالکان اوپن مارکیٹ سے گندم خرید کر آٹا پسائی کر کے سپلائی کررہے ہیں – اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت اس وقت 2400 سے 2450 روپے فی من پہنچ چکی ہے اور فلور ملز مالکان ان نرخوں پر گندم خرید کر 10 کلو اور 20 کلو آٹے کا تھیلہ تیار کرکے مارکیٹ میں سپلائی کررہے ہیں اور گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث 20 کلو آٹے کا عام تھیلہ 1350 روپے جبکہ 20 کلو فائن آٹے کا تھیلہ 1450 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے جس کی وجہ عام شخص کا کچن بجٹ متاثر ہو گیا ہے –

محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے فیصل آباد کے لئے ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقرر کیا تھا اور اس وقت تک محکمہ خوراک کی جانب سے فیصل آباد میں 1 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید لی گئی ہے جبکہ باقی 30 ہزار میٹرک ٹن گندم آئندہ ایک ہفتے تک مکمل کر لی جائے گی جس کے بعد خریدی گئی گندم کی فزیکل اکائونٹنٹ سمیت دیگر امور انجام دیئے جائیں گے اور اس کے لئے کم از کم 2 ہفتوں کا وقت درکار ہوتا ہے اس کے بعد گندم کے ذخائر کی حفاظتی امور کو مکمل کرنا ہوتا ہے -اس صورتحال میں اگر پنجاب حکومت کی جانب سے فلور ملز کو گندم کے سرکاری کوٹہ کا اجراء جلد نہ کیا گیا تو آٹے کے تھیلے کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان موجود ہے –

محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے عمومی طور پر ستمبر اکتوبر میں فلور ملنگ سیکٹر کو سرکاری گندم کا کوٹہ جاری کیا جاتا ہے اور گندم خریداری سیزن کے دوران فلور ملز مالکان اوپن مارکیٹ سے اپنی مدد آپ کے تحت گندم خرید لیتے ہیں اور تین ماہ کے قریب اسی خریدی گئی گندم سے تیار کردہ آٹے کے تھیلے اوپن مارکیٹ میں سپلائی کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ خوراک پر سرکاری گندم کے اجراء کا دبائو کم رہتا ہے لیکن رواں سال تمام صورتحال اس کے برعکس ہے کہ محکمہ خوراک فیصل آباد ایک طرف تو 2200 روپے فی من گندم خرید رہا ہے جبکہ دوسری طرف فلور ملنگ سیکٹر کو گندم 2400 روپے من فروخت کی جارہی ہے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ پالیسی میں فلور ملز مالکان پر یہ قدغن بھی ہے وہ ایک مخصوص مقدار سے زیادہ گندم کی خریداری نہیں کر سکتے . گندم کی خریداری کے لئے فلور ملز مالکان کو متعلقہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر سے اجازت نامہ حاصل کرنا پڑے گا کہ اس کے پاس کتنے گودام ہیں اور اس کی فلور ملز کی پسائی کے مطابق گندم خریداری کرنا ہے اور پھر سروے کی تکمیل کے بعد فلور ملز مالکان کو اجازت حاصل ہو گی-

اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ اب نئی گندم بھی آ گئی ہے لیکن اس کے باوجود 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن اب آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک نیا عذاب بن چکی ہیں – محکمہ خوراک فیصل آباد کے آفیسر نے واضح کیا کہ گندم کی خریداری پنجاب حکومت کی ہدایت پر کی جارہی ہے اور مقرر کردہ ہدف حاصل کرنے تک گندم کی خریداری جاری رہے گی- انہوں نے مزید کہا کہ آٹے کے تھیلے کی قیمتوں کی روک تھام کے لئے ضلعی انتظامیہ سے آن بورڈ ہیں اور آٹے کے تھیلے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ضلعی حکومت کی ذمہ داری ہے- اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے بتایا کہ آٹے کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں اور منافع خوروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں