بے ڈھنگ سیاست! ………….. تحریر ، اورنگزیب اعوان

سیاست ایسا لفظ ہے. جس کی آج تک دنیا میں جامع اور متفق تعریف نہیں ہو سکی. کسی کی نظر میں سیاست انسانیت کی خدمت کا بہترین ذریعہ ہے. تو کوئی اس کو ذاتی مفادات کی جنگ سے تعبیر کرتا ہے. غرض ہر مکتبہ فکر اپنی سوچ اور نظریہ کے مطابق اس کی تشریح کرتا نظر آتا ہے. دنیا میں اس کے مختلف نظریات و طرز سیاست ہو سکتے ہیں. مگر سب کے طے کردہ اصول و قواعد ہیں. پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے. یہاں سیاست کا کوئی مقرر کردہ طریقہ رائج نہیں. جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون لاگو ہے. اس بے ڈھنگ طرز سیاست نے عوام کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا ہے. عوام کو سمجھ نہیں آتی. کہ حکومت کس سیاسی جماعت کی ہے. اور اپوزیشن میں کون ہے. حکومت بھی جلسے جلوس کر رہی ہے. اپوزیشن میں اس ڈگر پر گامزن نظر آتی ہے. حکومت اپنی نااہلی اور نالائقی کا ملبہ اپوزیشن پر ڈال رہی ہے. اور اپوزیشن ملک کی ابتر صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا رہی ہے. عوام کس کی بات پر یقین کرے. کوئی بھی اپنی ذمہ داری نبھانے کو تیار نہیں. ہر کوئی الزام تراشی پر لگا ہوا ہے. موجودہ سیاسی صورتحال کا مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے. کہ تمام سیاسی جماعتیں حکومت اور عوام اپوزیشن ہے. عوام ہی اپنے حق کے لیے صدا بلند کر رہی ہے. سیاسی جماعتیں تو اقتدار کا کھیل کھیلنے میں مگن ہیں. یہ عوام کو بیوقوف بنا رہی ہیں . جو اقتدار میں ہوتا ہے. وہ آپ کو باور کرواتا ہے. آپ کے تمام مسائل میں حل کرو گا. جو حکومت سے باہر ہوتا ہے. وہ عوام کو ان کی احساس محرومیوں سے آشنا کرواتا ہے. مگر ان عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہا. اگر ان سیاسی جماعتوں کی سیاست کا محور عوام ہوتی. تو کب کے عوامی مسائل حل ہو چکے ہوتے. کھوکھلے نعروں کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں. ان سیاسی جماعتوں نے عجیب سیاسی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے. عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے ان کے بنیادی حقوق کی بات کی جاتی ہے. عوام بھی اتنی معصوم ہے. کہ ہر بار ان کے جھانسے میں آ جاتی ہے. پاکستانی سیاست میں چہرے بدلتے ہیں. نظام وہی رہتا ہے. اتنے دلفریب نعرے لگائے جاتے ہیں. کہ عوام ہر بار دھوکہ کھا جاتی ہے. قومی اور بین الاقوامی مسائل کو اپنی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے. حکومت سے باہر ہو تو امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے. جب حکومت مل جاتی ہے. تو امریکہ سے اچھا دوست دنیا میں کوئی نہیں. آج کل نعرہ لگایا جا رہا ہے. کہ غلامی نہیں آزادی. جب ہم نے نیا پاکستان بنا لیا ہے. تو پھر آزادی کیسی. کیونکہ نئے پاکستان میں تو سب شہری آزاد ہیں.

ایک طرف ریاست مدینہ کے دعویدار بھی ہے. جو اس ملک کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے تھے. مگر ان کے رفقاء کار کو یہ قبول نہیں تھا. انہوں نے اس نعرہ کے برعکس کام کیا. یا یہ کہہ لے کہ یہ سب کھوکھلے نعرے اور بیان بازی محض عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے تھے. موجودہ حکومت بھی اسی روش پر گامزن ہے. کیثر الجماعتیں حکومت کا فائدہ کی بجائے نقصان زیادہ یو رہا ہے. کوئی بھی ذمہ داری سے کام نہیں کر رہا. وزیراعظم اور ان کی کابینہ لندن یاترا پر ہے. کیا حکومت سنبھالنے سے پہلے انہوں نے پلاننگ نہیں کی ہوئی تھی. جو اب لندن میں اکٹھے ہو کر حکومت کو درپیش مسائل پر مشاورت کرکے آیندہ کی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں. اگر اسی طرح سے مشاورتی اجلاس ہوتے رہے تو عوام کا اللہ ہی حافظ ہے. مشاورت کے نام پر بیرون ملک دورے کیے جا رہے ہیں. عوام مہنگائی اور بھوک سے مر رہی ہے. حکمران سیر و تفریح میں لگے ہوئے ہیں. وزیر خارجہ کسی بھی ملک کے دورے پر نہیں جا رہے. کیا اس طرح سے دنیا سے تعلقات استوار یو سکے گے. ہر گز نہیں. بقول حکومت کے اگر واقعہ ہی ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے. تو حکومت کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. جنگی بنیادوں پر حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی. اور ہر وزیر کو اپنی اپنی ذمہ داری کو بااحسن طریقہ سے نبھانا ہو گا. تبھی اس مشکل دور سے ملک کو نکلا جا سکتا ہے. اگر سب ایک دوسرے کو چکر دیکر آیندہ الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں. تو پھر ابھی ہی الیکشن کا اعلان کر دینا چاہیے. کیونکہ ایک سال بعد حالات اس سے بھی ابتر ہو سکتے ہیں. دلجمعی سے حالات سے لڑ کر ہی مشکلات پر قابو پایا جاسکتا. باتوں سےتو وقت ہی گزارا جاسکتا ہے. غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لیے ذلیل و رسوا کر رہے ہیں. حکمران آپس میں جلسے جلوس کھیل رہے ہیں. لگتا ہے. سیاسی جماعتوں سے فوج کا غیر جانبدار کردار برداشت نہیں ہو رہا. وہ فوج کی طرف سے بار بار اعلان کرنے کےکہ ہمیں سیاست سے دور رکھے. مگر ہر سیاسی جماعت اپنی تقریر میں فوج کو شامل کرتی ہے. لگتا ہے. ان سے حالات سنبھل نہیں رہے. اس لیے یہ اپنا گند فوج کے سر ڈالنا چاہتی ہیں . موجودہ دور میں ہر سیاسی جماعت ذلیل یو چکی ہے. اب یہ فوج کو بھی اس میں شامل کرنے ہر تلی ہوئی ہیں. اس بے ڈھنگ سیاست نے پاکستانی عوام کو ذہنی امراض میں مبتلا کر دیا ہے. اسے کچھ سمجھ نہیں آتی. کہ کیا کیا جائے. کس پر اعتبار کرے. سبھی تو اسے بیوقوف بنانے میں مصروف عمل ہیں. معصوم عوام ان کی بے ڈھنگی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہی ہے. دنیا میں دونمبر کام کے بھی کچھ قواعد ہوتے ہیں. مگر پاکستان میں تو سیاست دو نمبر کام سے بھی بدتر ہو گئی ہے. اس کے کوئی اصول نہیں. سب سیاست دان اپنی اپنی بانسری بجا رہے ہیں. پاکستان میں سیاست بھی سیاست کی نظر ہو کر رہ گئی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں