انا کے گھوڑے ! ……………. تحریر ، شفقت اللہ مشتاق

یہ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب انا کے گھوڑے جوش میں آتے ہیں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ چیختے ہیں چلاتے ہیں خوب شور شراباکرتے ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے “ڈھاکیں”مارتے ہیں اور آخر پر دولتیاں مار کر پشت پر کھڑے شخص کا نقصان بھی کر جاتے ہیں البتہ اس ساری صورتحال میں ان کے سموں سے ایسی مٹی اڑتی ہے کہ اکثریت کی تو مٹی پلید ہوجاتی ہے اور یوں اہم امور پرتو مٹی ہی پڑجاتی ہے۔ جملہ امور خطرناک حد تک پیچیدہ ہوجاتے ہیں اور پیچیدہ صورتحال میں انا کے گھوڑے بالآخر تھک ہار کے لام لیٹ ہوجاتے ہیں اسطرح ترقی کی گاڑی کا لیٹ ہونا بھی فطری بات ہے۔ گھوڑوں اور گاڑیوں کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور توانائی کے حصول کے لئے ٹھیک ٹھاک دولت چاہیئے جس کے لئے ظاہری اسباب کا ہونا بھی ضروری ہے جبکہ انا کے گھوڑے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اپنی ساری توانائیاں حرام کرچکے ہیں۔ ہمارے ہاں حلال اور حرام کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ البتہ استثنائی صورتحال میں کسی مسلمان بھائی کا حق کھا کر حلال اور حرام کی تمیز کو مکمل طور پر ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی ہم ختم کی چیزیں غریبوں میں تقسیم کرنے کی بجائے خود ہی ذوق شوق سے کھانے کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ کھانے کو تو ویسے ہی ترجیح دیتے ہیں اور کھا کر ڈکار بھی نہیں لیتے۔ اپنے ذاتی فائدے اور منفعت کے لئے بندے مارے بھی جا سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں حق مارنے اور بندے مارنے میں رتی سا فرق سمجھا جاتاہے۔ بندے ہی حق مارتے ہیں اور بندے ہی حق لے کر دیتے ہیں بندے بندے میں فرق ہوتا ہے۔تاہم بندہ بننا ضروری ہے لیکن اس کے لئے انا کے گھوڑے کی لگامییں کھینچ کر اور اس کو مکمل طور پر قابو میں لا کر اپنے آپ کو اشرف المخلوقات ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس سارے عمل کی تکمیل کے لئے شعور کی دنیا کو جگانا پڑتا ہے اور اس بےثبات دنیا کو آنکھیں کھول کر دیکھنا پڑتا ہے۔ آو پہلے اپنی اور پھر دوسروں کی آنکھیں کھولتے ہیں. کاش ہم اپنی مرضی سے آنکھیں کھول سکتے ہوتے-

مزے کی بات ہے میں خود ایک دفعہ انا کے گھوڑے پر چڑھ گیا اور اس کو ایسی ایہڑھی لگائی کہ پھر مجھے خبر نہیں میں کہاں کہاں تک پہنچا۔ بلکہ آسمان پہ چڑھ گیا اور آسمان کو سر پر اٹھا لیا۔ نیچے سب چیزیں حقیر لگنا شروع ہو گئیں پہلے تو نیچے والوں نے بھی مجھے غور سے دیکھا اور پھر انہوں نے بھی مجھے کسی قابل سمجھنا چھوڑ دیا۔ مجھے ان کی اس بے اعتنائی پر بڑا تعجب ہوا اور یوں میرے دماغ کے غبارے سے رعونت کی ساری ہوا خارج ہو گئی اور میں اپنی اوقات میں آگیا۔ میں ہوں پانی کا بلبلا۔ پانی خشک ہو جائے تو زمینیں بنجر اور دریا سوکھ جاتے ہیں۔ پیڑ کتنے سنگ دل ہیں سوکھے ہوئے پتوں کو گرا دیتے ہیں اور سوکھے ہوئے درخت آگ میں جلا دیئے جاتے ہیں۔ اکڑ کر کھڑے ہوئے درخت بے ثمر ہوتے ہیں اور اکڑ کر چلنے والوں کو “چک “پڑ جاتی ہے۔ ہاں جھکی ہوئی شاخیں پھلوں سے لدا لد بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ انا کاہے کی۔ انجام مٹی اور پورے جسم پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور بالآخر انسان قصہ پارینہ ہو جاتا ہے۔ جو انا کے بھوت کو جلاتا ہے وہی ذی روح نگینہ ہوجاتا ہے۔ اور کائنات کے لئے کارآمد اور مفید ثابت ہوتا ہے۔ اندر کی دنیا میں جھانکنے کی ضرورت ہے اور اس میں منفی اور مثبت قوتوں میں فرق کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وقت کی نزاکت کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ انسان یک سو ہوجائے اور انا کے گھوڑے سے اتر کر زمینی حقائق کا ادراک کرنا شروع کردے۔ شروع شروع میں اسکو عجیب سا لگے گا لوگ بھی اس کو عجیب نظروں سے دیکھیں گے بلکہ بعض تو اس کو مشکوک نظروں سے بھی دیکھیں گے اگر اس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا شروع کردی تو اس کے اندر کا خوف رفو ہوجائیگا اور پھر یہ سر چڑھ کے بات کریگا۔ منفی سوچ رکھنےوالے اس سے کنی کترائیں گے اور مثبت سوچ کے حامل لوگ اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔ یہ بڑا ہی نازک وقت ہوگا انسان پھر انا کے گھوڑے پر بھی چڑھ سکتا ہے۔ ہوش سے کام لینا ہوگا اور ناکامی کی صورت میں سازش کا گمان بھی ہو سکتا ہے اور سازش کو خاک میں ملانے کے لئے خاک ہونا پڑتا ہے۔ الزام کو ثابت کرنے کے لئے کوسوں میل کا سفر طے کرنا ہوگا۔ غلط فہمی کا بھی امکان ہوتا ہے اور اگر ایسا ثابت ہو جائے تو منہ چھپانے کے لئے جگہ جگہ خوار ہونا پڑتا ہے۔ حقائق چھپانے سے انصاف کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ منصف پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ریاست نے بھی قانون کی عملداری میں انصاف کرنا ہے اور قانون کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے چند گھڑیوں کے مہمان ہوتے ہیں۔مہمان اور میزبان کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رہنی چاہیئے۔ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہیئیں۔ ایک دوسرے کو دوش دینے سے بات ایک نیا رخ اختیار کرسکتی ہے اور یہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

ہمارےرویوں نے ہمیں بحیثیت قوم زوال پذیر کردیا ہے۔ جاگیردارانہ سوچ نے ہمارے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک ریڑھی والا خریدار کو چیز بھی مہنگی بیچے گا اور ساتھ بدتمیزی بھی کرے گا۔ بڑا دکاندار تو خیر اپنی مالی استعداد اور معاشرتی اثرورسوخ کی بدولت بدمعاش سرمایہ دار بن چکا ہے اور وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا ہے۔ مزارع بھی مالک زمین کی آنکھوں میں مٹی جھونکنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا ہے۔ زمیندار اپنی نام نہاد چودھراہٹ قائم رکھنے کے لئے غریب کاشتکار کو گاجر مولی سمجھتا ہے۔ کلرک فائل کی طاقت سے بادشاہ بن گیا ہے۔ افسر تو خیر بادشاہوں کا بھی بادشاہ ہوتا ہے اوپر سے دروازے پر چوبدار اول تو کوئی پر نہیں مار سکتا بصورت دیگر کارسرکار میں مداخلت قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔ ڈاکٹر اور استاد مقدس پیشوں کو تجارت کے سانچے میں ڈھال کر مالا مال ہو چکے ہیں۔ طالب علم اور مریض مجبور محض۔ہم تو کچھ کہہ بھی نہیں سکتے البتہ حسب ضرورت کبھی روڈ بلاک کر کے دیکھیں گے۔ اپوزیشن طلوع سحر دیکھنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے جلاو گھراو، توڑ پھوڑ، جلسے جلوس، اباتبا، گالی گلوچ وغیرہ وغیرہ اور پھر ارباب اقتدار۔ہے کسی مائی کے لال کی جرات کہ وہ کسی منتخب مائی یا منتخب لعل کی طرف دیکھ سکے ہاں البتہ ان کی طرفداری کرکے اچھے خاصے فائدے لئے جا سکتے ہیں۔ اور کچھ اصحاب ادب و احترام کے غلافوں میں محفوظ و مامون ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں بات کرنا تو دور کی بات ہے سوچنا بھی توہین کے مترادف ہے۔ یہ ہیں ہم سب اور ہم سب اس امید سے ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ ہم مکمل طور پر بہرے اور اندھے ہو چکے ہیں اور ہماری ایک دوسرے پر بالکل تک نہیں پڑرہی ہے۔ اس کی شاید یہ وجہ ہے کہ ہم سب ٹپوسی مار کر انا کے گھوڑوں پر چڑھ چکے ہیں اور اب پاگلوں کی طرح میدان انائیت میں سر پٹ دوڑ رہے ہیں۔ کاش ہم کبھی اپنائیت میں مذکورہ گھوڑوں سے چھلانگ لگا کر اتر پڑتے تو ہم سب کے درمیانی فاصلے ختم ہو جاتے اور ہم ایک بھی ہوجاتے اور نیک بھی ہو جاتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں