پاکستان کے تیسرے بڑے شہرفیصل آباد کا ریلوے اسٹیشن کاکرپشن کا گڑھ بن گیا، کیا طریقہ کار؟؟

فیصل آباد(آن لائن)

پاکستان کے تیسرے بڑے شہرفیصل آباد کا ریلوے اسٹیشن کاکرپشن کا گڑھ بن گیا، ریلوے انتظامیہ کی ملی بھگت ٹھیکیدار وں کی لوٹ مار، ایک بار پھر ریلوے انتظامیہ کی ملی بھگت سے ریلوے اسٹیشن پر قائم غیر قانونی پارکنگ ا سٹینڈ کاٹھیکا دیدیا گیا، ٹھیکیدار نے پارکنگ فیسوں میں دوگناہ اضافہ کردیا، پارکنگ سمیت ریلوے گودموں ساتھ ساتھ ریلوے اراضی کی لیز، کھانے پینے کی اشیاء کے اسٹال کی مد میں کروڑوں روپے کی کرپشن، شہریوں تاجروں اور مسافروں سرپاء احتجاج، نئے وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق سے ریلوے اسٹیشن پر ہونے والی کرپشن کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ –

آن لائن کے مطابق گذشتہ ساڑھے تین سالوں سے پاکستان کے تیسرے بڑے شہرفیصل آبادکے ریلوے اسٹیشن پر ریلوے انتظامیہ کی ملی بھگت سے شہریوں اور تاجروں کو لوٹنے کاسلسلہ جاری ہے، ریلوے انتظامیہ اعلی افسران سابق حکومتی اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ ملی کر کرپشن کرلی تھی شہر یوں اور تاجروں کے احتجاج اور شکایات پر ڈی ایس ریلوے لاہور نے نوٹس لیتے ہوئے قائم غیر قانونی پارکنگ سٹینڈ اور ٹول پلازہ کے بیرل اور پختہ عمارت کو مسمار کردیا اور اس کارروائی کے دوران کارسرکار میں مداخلت پر ٹھیکیدار سمیت اس کے 20ساتھ کے خلا ف مقدمہ درج کروایا تھا، جس پر ڈی ایس ریلوے لاہور تبدیل کیا گیا نئے ڈی ایس ریلوے نے سیاسی شخصیات کے دوباؤ پر بغیرکسی نیلامی کے ریلوے اسٹیشن پر قائم غیر قانونی پارکنگ ا سٹینڈ اور ٹول پلازہ کا کنٹرول تحریک انصاف کے رہنما و سابق یوسی چیئرمین عتیق المعرف لکی شاہ کے حوالے کردیا ہے یہاں پر انہوں نے موٹرسائیکلوں اور رکشہ پر آنے والے شہریوں اور مسافروں سے ریلوے اسٹیشن کے داخلہ حدود پر پارکنگ فیس اورٹول ٹیکس وصول کرنے کا سلسلہ شروع کر دیاہے بتایا گیا کہ فیصل آباد ریلوے اسٹشن پر پانچ ہزار کے قریب روزانہ موٹرسائیکلیں،کاریں اور رکشے وغیر مسافروں کو لینے اور چھوڑے آتے ہیں موٹر سائیکل سے 10روپے اور کار،رکشہ وغیرہ سے20سے 30وصول کئے جارہے ہیں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی پارکنگ فری کردی گئی تھی مگر نئی حکومت کے آتے ہی گذشتہ روز ایک بار پھر طویل عرصہ بعد کے پار کنگ کا نیا ٹھیکہ ریلوے انتظامیہ نے دیدیا ہے ٹھیکیدار نے آتے ہی پارکنگ فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کردیا۔ جس پر شہریوں،تاجروں اور مسافروں کو مسائل کا سامنا ہے پارکنگ فیسوں میں ا ضافہ کے بعد موٹرسائیکل اور رکشہ 30 روپے کار50روپے ویگن 100روپے ٹرک اور لوڈ مژدہ وغیر200روپے کردیا گیا ہے فیسوں میں اضافہ پر شہریوں اورتاجر برادری سرپاء احتجاج ہے اور ٹھیکیدار اورریلوے انتظامیہ پر برہم ہورہے ہیں –

شہریوں کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کے آتے ہی مسافروں کو ریلیف دینے کی بجائے انہیں لوٹنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا شہری مہنگائی سے پہلے ہی تنگ ہیں سابق حکومت نے پہلے ٹرینوں کے کرائے میں اضافہ کیا تھا اب نئی حکومت کے آتے ریلوے انتظامیہ کی ملی بھگت سے پارکنگ فیسوں میں اضافہ کر دیا گیا شہریوں کا کہنا تھا پہلے مسافروں کے ساتھ آنے والوں کیلئے ڈرپ لائن فری تھی اب وہ بھی ختم کردی گئی ہے ٹھیکیدار انتظامیہ کی ملی بھگت سے شہریوں تاجروں اور مسافروں کو دونوں ہاتھو ں سے لوٹ رہے ہیں، جبکہ پارکنگ سمیت ریلوے گودموں ساتھ ساتھ اراضی کی لیز، کھانے پینے کی اشیاء کے اسٹال کی مد میں ریلوے انتظامیہ اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کی کرپشن ہورہی ہے شہریوں تاجروں اور مسافروں نے نئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سے مطالبہ کیا ریلوے اسٹیشن ہونے والی کرپشن کا نوٹس لیں اور اعلیٰ سطح تحقیقات کروائی جائے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں