عدلیہ سیاست کا محور ! ……………… تحریر ، اورنگزیب اعوان

پاکستانی سیاست میں کامیابی کے لیے ہمیشہ سے کندھوں کا استعمال کیا گیا ہے. کبھی عوام، کبھی اسٹیبلشمنٹ تو کبھی عدلیہ ان کندھوں کا کردار ادا کرتی ہے. پاکستانی سیاست دان اپائج ہوتے ہیں. وہ بیساکھیوں کے بغیر کھڑے نہیں ہو سکتے. مگر ستم ظرفی کہ ہر بار اپنی ناکامیوں کا ملبہ ان بیساکھیوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے. مگر جس وقت یہ عارضی سہارے ان کو کھڑا کرتے ہیں. اس وقت یہ ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں. جیسے ہی انہیں اقتدار کے ایوانوں سے رخصت کیا جاتا ہے. انہیں جمہوری روایات یاد آنے لگتی ہیں. ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے متعدد بار براہ راست ملکی سیاست میں مداخلت کی ہے. جس کی وجہ سے اس کی ساخت عوام میں گرتی رہی. اس نے اپنی ساخت کو بحال رکھنے کے لیے متعدد بار سنجیدہ کوشش کی. مگر ہر بار سیاسی جماعتوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ ملکی سیاست میں مداخلت کرے. سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی نالائقی کی وجہ سے ہی اسٹیبلشمنٹ نے سیاست میں مداخلت کی. عدلیہ نے بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کیا ہے. کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کو کندھا دینے کے لیے عدلیہ ہمہ تن وقت کھڑی دیکھائی دیتی ہے. ملک میں جب جب مارشل لاء کا نفاذ ہوا. عدلیہ نے اس کو تحفظ فراہم کیا. وہ اس کے جواز میں نظریہ ضرورت کو اپنے دفاع کے لیے پیش کرتی ہے. یہ نظریہ ضرورت بھی کسی انسان نے تصادم سے بچنے کے لیے ایجاد کیا تھا. اس نظریہ نے ہمیشہ ہی طاقت ور کو تحفظ فراہم کیا ہے. دوسرے الفاظ میں اسے نظریہ ضرورت کی بجائے نظریہ طاقت کہہ سکتے ہیں. پاکستان میں ایک طویل جدوجہد کے بعد دستور تو معرض وجود میں آگیا. مگر اس پر عمل درآمد کرنے کو کوئی تیار نہیں. ہر کوئی اپنی اپنی سوچ کے مطابق ملکی قوانین کی تشریح کرتا نظر آتا ہے. قومی اسمبلی 342 ارکان پر مشتمل ایوان ہے. اس ایوان میں ماہر قانون دان، نامور انجنئیر و ڈاکٹر جو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشستوں پر جیت کر اس ایوان کا حصہ بنتے ہیں. انہیں ملکی قانون سازی کی تشکیل میں معاونت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے. اتنے ارکان اسمبلی کے باوجود قانون کی تشکیل میں کچھ قدغن رہ جاتیں ہیں. جن کو دور کرنے کے لیے آئین اجازت دیتا ہے. بہترین آئین وہی شمار ہوتا ہے. جو لچکدار ہو. اس کے باوجود بھی ارکان اسمبلی کسی متفق نقطہ پر یکجا نہ ہوسکے. یا قانون کی زبان میں کچھ خامی ہو. تو اس کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا جا سکتا ہے.

عدالت عظمیٰ اس قانون کی مناسب تشریح کر سکتی ہے. ناکہ نئی قانون سازی. موجودہ دور میں اسٹیبلشمنٹ نے ملکی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی ہے. کیونکہ وہ اس گندی سیاست سے اپنا دامن بچنا چاہتی ہے. اس کا یہ احسن اقدام ہے. اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے. مگر کچھ سازشی لوگوں سے اسٹیبلشمنٹ کا غیر جانبدار کردار برداشت نہیں ہو رہا. وہ مسلسل اس کی کردار کشی کر رہے ہیں. اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانبداری کو دیکھتے ہوئے. اس وقت پاکستانی سیاست کا محور عدلیہ بنی ہوئی ہے. ہر کوئی عدلیہ سے اپنی پسند کا فیصلہ چاہتا ہے. عدالت عظمیٰ، اسلام آباد ہائی کورٹ، لاھور ہائی کورٹ غرض ہر جگہ حکومت کے خلاف سابق حکومت فریق بنی ہوئی ہے. وہ چاہتے ہیں. کہ ماضی کی طرح عدلیہ سے اپنے سیاسی مخالفین کو ناایل کروا دے. مگر اس بار ایسا ہوتا نظر نہیں آتا. کیونکہ موجودہ عدلیہ سیاسی دباؤ کے بغیر اپنا کام کر رہی ہے. ایک نام نہاد لیڈر اپنے جلسوں میں عدالت عظمیٰ کی کردار کشی کرتے ہوئے کہتا کہ عدالت رات کو کیوں کھلی. اس سے کوئی پوچھے کہ تم نے رات کو آئین کشنی کیوں کی. اگر تم رات کے اندھیرے میں ملکی قانون پر شب خون مار سکتے ہو تو اس کے تحفظ کے لیے آئینی ادارے اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل ہوتے ہیں. پاکستان تحریک انصاف نے سیاست کو سیاست کی بجائے اپنی زندگی اور موت سے تعبیر کر لیا ہے. یہ ملکی اداروں اور اپنے سیاسی مخالفین کی تذلیل میں مصروف عمل ہے. سیاست میں دھمکیوں سے کام نہیں چلتا. سیاست فہیم و فراست کا نام ہے. عمران خان کو سیاست کی اقدار سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری سے سیکھنے کی ضرورت ہے. اس وقت جس تحمل اور بردباری کا مظاہرہ آصف علی زرداری کر رہے ہیں. ان کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستانی سیاست کے بے تاج بادشاہ ہے. ان کے چہرے پر پریشانی کا ایک بھی شکن نہیں. وہ ہر وقت مسکراتے ریتے ہیں. انہیں سیاست کے کھیل پر مکمل عبور حاصل ہے. وہ اس کو مکمل سکون اور اطمینان سے کھیل رہے ہیں. عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی میں ان کا کلیدی کردار ہے. انہوں نے وسیع قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. اپنے سیاسی فریقین کو بھی اپنے سینے سے لگایا. جس کے دور رس نتائج برآمد ہوگے. اس کے برعکس عمران خان اپنے سابق اتحادیوں کے بارے میں انتہائی غلیظ زبان استعمال کر رہے ہیں. ان کی سیاست بچوں والی ہے. وہ ہر جگہ اپنی من مانی چاہتے ہیں. اگر کہی ان کی بات نہ مانی جائے. تو ملکی اداروں پر چڑھی کر دیتے ہیں. یہ کھیل اب نہیں چلے گا. اب ادارے آپ سے بلیک میل نہیں ہو گے. تحریک عدم اعتماد کو ناکام کرنے کے لیے ایک صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ آف پاکستان کو بھیجا گیا. کہ وہ آرٹیکل تریسٹھ الف کی تشریح کرے. جس کے مطابق پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے رکن اسمبلی کو کتنے عرصہ کے لیے نااہل کیا جاسکتا ہے. جس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے طویل سماعت کی مختلف سیاسی جماعتوں کے وکلاء کی رائے لی. گزشتہ روز اس پر لاجر بینج نے تین دو سے اپنا فیصلہ دیا. عدالت عظمیٰ کے لاجر بینج کے معزز ججز نے ابھی فیصلہ پڑھنا شروع ہی کیا تھا. کہ کچھ میڈیا ہاوسز جو عمران خان کی محبت میں اتنے گرویدہ ہو چکے ہیں. کہ انہوں نے فوری حکومت کی معزولی کا اعلان کر دیا. یہ میڈیا ہاوسز عوام میں بے یقینی پیدا کرتے ہیں. عدالت عظمیٰ اور قومی اسمبلی نے جس قانونی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے طویل جدوجہد کی. یہ میڈیا ہاوسز ایک منٹ میں مطلوبہ نتیجہ پر پہنچ گئے. عدالت عظمیٰ کو اپنا وقت ضائع کیے بغیر انہیں بلا کر ان کی رائے سن کر فیصلہ صادر کر دینا چاہیے تھا. خدارا میڈیا کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے. اگر عوام ان کی بات سنتے اور اس پریقین کرتے ہیں. تو اسے عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہچانی چاہیے. اسے قانونی ماہرین کی آراء لینی چاہیے اور فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے . کہ عدلیہ نے کیا کہا ہے. یا اس نے کس طرف اشارہ کیا ہے. عدلیہ کو بھی کوئی ایسا فعل سرانجام نہیں دینا چاہیے جو آئین کے متصادم ہو. آئین پاکستان میں ووٹ دینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے. جس سے اسے کوئی نہیں روک سکتا. عدم اعتماد تحریک سے قبل جب حکومت نے عدالت عظمیٰ میں کیس دائر کیا تھا. کہ منحرف ارکان کو ووٹ ڈالنے سے روکا جائے. جس پر عدالت عظمیٰ نے کہا تھا. کہ مخرف ارکان ووٹ ڈالے گے اور ان کے ووٹ کو شمار بھی کیا جائے گا. بعد میں ان پر آرٹیکل تریسٹھ الف کا اطلاق ہو گا. اب عدالت عظمیٰ اپنے موقف سے انحراف کرتے ہوئی کہتی ہے. کہ منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہیں ہو گے. یہ آئین کی روح سے متصادم رائے ہے. کل کو کوئی بھی امیدوار کھڑا یو کر کہہ دے گا. کہ اس کے حلقہ انتخاب میں فلاں فلاں علاقہ اس کے خلاف ووٹ دینا چاہتا ہے. اسے ووٹ ڈالنے سے روکا جائے.

یہ عدالت عظمیٰ نے کس قسم کی تشریح کی ہے. جو قانون کے طالب علم کی سمجھ سے بالاتر ہے. ساتھ ہی کہہ دیا ہے. کہ پارلیمنٹ اس پر موثر قانون سازی کرے. تو عدالت عظمیٰ سے سوال بنتا ہے. کہ آپ نے پھر ملک میں سیاسی بحران کس قانون کے تحت پیدا کیا ہے. آپ صدارتی ریفرنس کو یہ کہہ کر بھی واپس بھیج سکتے تھے. کہ اس کی مناسب تشریح کا فورم پارلیمنٹ ہے. ہمارے معاشرے میں خود نمائی اس قدر سرایت کر چکی ہے. کہ ہم کسی بھی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے. یہ جانے بغیر کہ اس کے ملک پر کیا اثرات مراتب ہو گے. عدلیہ کو بھی اپنی ساخت کا خیال رکھنا ہوگا. سیاست دان اپنے گندے کپڑے عدلیہ میں دھونے کی کوشش کر رہے ہیں. عدلیہ کی ذمہ داری بنتی ہے. کہ ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے. اس وقت ملکی سیاست عدلیہ کے رحم کرم پر ہے. وہ چاہے تو ملک میں سیاسی استحکام قائم کر دے. چاہے تو عدم استحکام کی صورت حال پیدا کر دے. سیاسی کشمکش کی وجہ سے ملک معاشی مشکلات سے دوچار ہے. سارے مسائل کا حل ملک میں سیاسی استحکام پر منحصر ہے . عدلیہ کو ہر ایسی درخواست کو خارج کر دینا چاہیے. جس کا مقصد ملک میں سیاسی انتشار پیدا کرنا ہو. عوام کی نظریں عدلیہ کی جانب مرکوز ہیں. کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے میں عدلیہ کیا کردار ادا کرتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں