اکھاڑا ……………….. تحریر ، شفقت اللہ مشتاق

بچپن سے ہی مجھے اکھاڑے دیکھنے کا بڑا شوق تھا اور اپنے شوق کی تکمیل کے لئے میں وہاں پہنچ جاتا جہاں اکھاڑا ہوتا اور اللہ کا فضل ہے کہ ہمارے اکھاڑے ہوتے ہی رہتے ہیں اور کوئی نہ کوئی پہلوان اکھاڑے میں داخل ہو کر اپنے فن کامظاہرہ کرتا ہی رہتا ہے۔ فن کا بعض اوقات مذاق بھی اڑایا جاتا ہے اور پہلوان اپنی اوقات میں آجاتا ہے۔ فن فنکار تخلیق کرتا ہے اور فنکار موقعہ محل کے مطابق اداکاری کرکے داد سمیٹتا ہے۔ ویسے ہمارے ہاں پیسے سمیٹنے کا رجحان بھی بہت پایا جاتا ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر،کبھی سیاست کے نام پر اور کبھی کاروبار کے نام پر۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہم نے سیاست اور مذہب کو بھی کاروبار سمجھ لیا ہے اور اسی لئے ہم مذکورہ شعبہ جات میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ سیاست اور مذہب کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دین سیاست سے علیحدہ ہو جائے تو چنگیزی رہ جاتی ہے۔ چنگیز خان ڈانگ سوٹے سے حکومت کرنے کے فلسفے کا قائل ہے اور ترلوں سے عددی اکثریت اقلیت میں بدل جاتی ہے اور یاری کی کچی تند ایک ہی جھٹکے میں ٹوٹ جاتی ہے اور بندہ روڈوں پر آجاتا ہے۔ شور شرابا، پکڑ دھکڑ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل۔ جدھر دیکھو رکاوٹیں ہی رکاوٹیں۔ اوپر دیکھنے سے گرنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے اور نیچے دیکھ کر چلنا ہم نے سیکھا ہی نہیں۔ سارے بچپن سے ہی تھوڑا اڑنا شروع کردیتے ہیں۔ کچھ ٹریننگ لیتے ہیں۔ کچھ دیکھا دیکھی اڑنے لگتے ہیں اور کچھ تسخیر کائنات کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے اڑتے ہیں اور ان میں سے اکثر ہوائی قوتوں کے عدم تعاون کی بدولت فوری پرواز منسوخ کر کے اپنا اگلا لائحہ عمل مخفی رکھتے ہیں تاکہ پر اسرار خزانے کی حقیقت عیاں نہ ہوجائے اور یوں ہم سب کو اپنے ہمراز کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ رازوں پر پردے ہی پڑے رہنے چاہیئیں ورنہ ہم ایک دوسرے کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ پیسہ بہت بڑی طاقت ہے اور ہمارا روپیہ تو بالکل ہی ڈی ویلیو ہو گیا ہے۔ کاش ہم منہ دکھائی ہی وصول کر لیتے تو ہماری مالی حالت کے بہتر ہونے کا شدید امکان تھا۔ ہم تو حسب وعدہ مکان بھی نہیں بنا سکے ہاں البتہ ہم نے سب کو انسان بنانے کامصمم ارادہ کر رکھا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نسیان کے مرض میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اقتدار کا مرض تو ہمیں پہلے ہی لاحق ہو چکا ہے اور اس مرض کا علاج کرنے والے جملہ معالج واصل بالحق ہو چکے ہیں۔اندر اور باہر کی ایک دلچسپ کہانی ہے اور ہم اندر رہ کر اس کہانی سے سبق سیکھتے ہیں اور باہر آکر اقتدار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ کہانی کب ختم ہوگی۔ شاید اس کا کوئی انجام نہیں اور ہم اپنے انجام سے بھی بالکل بے فکر ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں ذکر کر فکر نہ کر۔

ذکر چھڑ گیا ہے اقتدار کا اور اقتدار کی دھینگا مشتی میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ جو ہونا ہے ہوجائے اگر میرا نہیں ہوتا تو کسی اور کا بھی نہیں ہو سکتا۔ ہم اور ہمارا ملک لازم و ملزوم اور اسلام آباد کے سارے راستے مسدود ہو چکے ہیں اور صلائے عام ہے کہ انہی راستوں پہ چل کر اگر آسکو تو آو۔ ہم ویسے تو ننگے پاوں بھی چلنا جانتے ہیں اور اس وقت قوم کے پاوں ویسے بھی ننگے ہوچکے ہیں اور قوم کے نونہال مکمل طور پر مقروض ہو چکے ہیں۔ ہمارا سفر جاری ہے اور جاری رہے گا خواہ ہمیں اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑجائے۔ قوم کیا کہتی ہے اس بات کا فیصلہ انتخابات کریں گے اور ان کا انعقاد اس وقت قوم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مسئلے فہم وفراست اور تدبر سے حل کرنے چاہیئیں اور اس کے لئے قربانی بھی دینا پڑتی ہے اور ہم قربانی کے بکرے تھوڑا ہیں۔ ہمارے پاس وقت بھی تھوڑا ہے کیونکہ ہمیں کسی وقت بھی بلاوا آسکتا ہے اور ہم اس سے پہلے اقتدار کا جھوٹا لینا چاہتے ہیں کیونکہ ابھی ہم جھوٹے لے لے کر تھکے نہیں ہیں۔ ایلوپیتھک ادویات کا یہ بھی کمال ہے کہ یہ انسان کو آخری دم تک تازہ دم رکھتی ہیں اور مزید یہ کہ ہم دم کروا کر آگے بڑھنے پر بھی پورا یقین رکھتے ہیں۔ہم نے اس ملک کو آگے بڑھانے کی قسم کھا رکھی ہے اور اگر ہم نے یا ہمارے مقلدین نے چنگا چوکھا کھا لیا توکفارہ بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ اندر کی آگ کو باہر منتقل کرنے والے رحم کھائیں اور اقتدار کی آگ کو پیار اور محبت سے گل گلزار بنائیں نہیں تو احتساب کے چھاننے سے سب کو گزرنا پڑے گا۔ یہاں کا احتساب مذاق اور ڈرامہ ہو سکتا ہے لیکن اگلے جہاں کا احتساب ایسا شکنجہ ہے جس سے کوئی نہیں بچ سکتا لہذا معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھ کر مستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ اس ملک کا ہر بچہ غربت اور افلاس کے جن بھوت سے بچ جائے اور ہم نعروں سے آزاد ہو کر عملی جدوجہد کا آغاز کریں۔ اکھاڑے دیکھ دیکھ کر مجھ جیسے سارے نوجوان بوڑھے ہو گئے ہیں اور اب ہم اپنے ملک کی سیاست کو اکھاڑہ نہ ہی بنائیں تو بہتر ہے سنجیدگی کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کریں اور ملکی تعمیر وترقی کا جھومر اپنے مستقبل کے ماتھے پر سجائیں۔ مالی ہی گلشن کی آبیاری کا ضامن ہوتا ہے اور اس کے لئے وفاداری بشرط استواری کے مچلکے جمع کروا کر سرخرو ہونا پڑتا ہے۔

آج ہمیں بھی اکھاڑے میں اترنا ہوگا لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم مستقل مزاجی اور حب الوطنی کا لنگوٹ پہن کر تیار ہو جائیں اور ایمپائر کی سیٹی کا انتظار کریں اور یہ بات ذہن نشین رہے کہ اکھاڑے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور اصولوں کی پاسداری کے لئے اخلاقیات کو کبھی بھی بالائے طاق نہیں رکھا جا سکتا۔ مدمقابل پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس نے بھی دیس کی مٹی سے اپنے جسم کو خوبصورت بنا کر فاول کے سارے امکانات ختم کرنے ہیں تاکہ عوام اس اکھاڑے کو دیکھ کر خوش بھی ہوں اور مستفید بھی ہوں۔ کھیل شروع ہوا چاہتا ہے۔ ہمہ تن گوش۔ ہوش سے کام لینا ہوگا۔ ادارے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے پابند ہیں اور ان کو اپنے اپنے مدار میں ہی رہ کر کام کرنا ہوگا تاکہ چیزیں گڈمڈ نہ ہو جائیں اور قوم کو غیر یقینی کی کیفیت سے نکالا جا سکے۔ سکھ سکون اور امن سے معیشت کے پودے کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ قرضوں شرضوں سے ایڈہاک ازم کے تسلسل کو برقرار تو رکھا جا سکتا ہے مگر شومئی قسمت یہ کلمویا ایڈہاک ازم ہمارے جوڑوں میں بیٹھ گیا ہے اور اس وقت ہماری قوم کے جسم کا جوڑ جوڑ درد کررہا ہے اور ہم سب بے چینی کا شکار ہیں۔ اس وقت ہم سب کو مل بیٹھ کر سوچنا ہو گا اور سوچ سوچ کر اور پھونک پھونک کر پاوں رکھنا ہوگا اور وہ بھی صحیح جگہ پر رکھنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں