آواز سگاں! …………………………. تحریر ، شفقت اللہ مشتاق

میرے ایک بھلامانس دوست نے فون پر میری خیریت معلوم کی اور ساتھ ہی فرمایا کہ آپ نے ایک دفعہ مجھے ایک کتے کا کہا تھا اور میں ابھی تک اس کتے کی تلاش میں ہوں۔ میں نے مزید ایک شرط یہ بھی ٹھہرادی کی مجھے ایسا کتا چاہیئے جو مجھ پر ہی نہ بھونکنا شروع ہوجائے۔ پھر مجھے یاد آیا کچھ کتے تو چپ چپیتے پڑ جاتے ہیں اول تو زخمی کردیتے ہیں نہیں تو کپڑے تو پھاڑ ہی دیتے ہیں یوں کتے انسان کو ننگا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ کتوں کے بھوکنے سے فقیروں کا رزق کم نہیں ہوتا البتہ فقیروں کو کتوں کے بھونکنے کا کھٹکا ضرور لگا رہتا ہے۔ دروازے کھٹکھٹانا ویسے بھی فقیر کا کام ہے تاکہ اہل خانہ سر صدقہ دے کر محفوظ ہو جائیں۔ آجکل کے فقیر دروازے تک پہنچنے کی تکلیف ہی نہیں کرتے جہاں کسی کو دیکھا صدا لگادی اور اگر مراد نہ ملی تو پیچھے ہی پڑ گئے۔ اب کتے اور فقیروں میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ بہرحال ہر منفی کاایک مثبت پہلو بھی ہوتا ہے۔ ایسے کتے اور فقیر بھی میں نے دیکھے ہیں جو کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے وہ اپنی موج میں رہتے ہیں اور بعض کتے اور فقیر دنیا دار ہوتے ہیں جو موج میلا کرتے ہیں –

کتوں کا بھی ایک دور تھا جرائم پیشہ لوگ ان سے ڈرتے تھے اور اشرافیہ ان کی موجودگی میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب غربت کی وجہ سے چھوٹی موٹی چیزیں چوری کرنا معمول تھا۔ پھر دھونس دھاندلی اور بدمعاشی کا دور شروع ہوگیا اور مجرم لوگ بھی فہم وفراست سے کام کرنے لگے تو انہوں نے ان کتوں کو ریچھ سے لڑا دیا۔ اس طرح ریچھ کتے کی لڑائی میلوں ٹھیلوں کی اہم آئٹم بن گئی۔ اور پھر کتوں کی مزید شامت آئی اور کتے مکاو پروگرام شروع ہو گیا پھر تو بلدیہ کے ملازم اور کتے۔ مسکین کتے تو جھٹ میں ڈھیر ہوجاتے تھے لیکن سارے کتے تھوڑا مسکین تھے کچھ تو بلدیہ کے عملے کو بھی گیڑا دے جاتے تھےاور کچھ سے ملازم مذکور ویسے ہی ڈر جاتے تھے کہ کہیں ان پربھونکنا نہ شروع کردیں اور ان کے خلاف شرح شکایت میں اضافہ نہ ہو جائے۔ یوں بلدیہ کتے تلف کرنے میں ناکام ہو گئی۔ یہ ساری مہم آوارہ کتوں کے خلاف ہوتی تھی۔ خاص کتوں کی طرف تو کسی کو دیکھنے کی بھی جرات نہیں ہوتی تھی وہ تو شدید سردیوں میں بھی گرم بستروں میں سوتے ہیں گرمیوں میں ایئر کنڈیشن کمروں میں نیند کے مزے لوٹتے ہیں،باداموں،مربوں اور فروٹ چاٹوں سے ان کی خدمت کی جاتی ہے۔ بعض مالکان تو ان کو ہم بستری کے شرف سے بھی نوازتے ہیں۔ یقیننا کتے کتے میں فرق ہوتا ہے۔

شاعر بڑے ہی حساس ہوتے ہیں اور وہ بھی اپنی موج کے لوگ ہوتے ہیں موج میں آتے ہیں تو کتوں کی شہ خرچیاں اور موج مستیاں ان کو پریشان کر دیتی ہیں اور وہ ایسے کتوں کے خلاف خوب آواز اٹھاتے ہیں اور کتوں پر اربوں روپے خرچ کرنے والوں کو دعوت فکر دیتے ہیں پھرکچھ تو مذکورہ شاہ خرچ سارے شاعروں کو بھی دعوت پر بلالیتے ہیں اور ایک عظیم الشان مشاعرے کا بندوبست کرکے ادب پرستی کا تمغہ اپنی چھاتی پر سجا لیتے ہیں۔ اس کے علی الرغم کچھ شاعر کتوں کے ذریعے خدا تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی لئے بلھے شاہ کو کتوں کی رات کو جاگنے والی صفت نے ہلا کے رکھ دیا اور اس نے اسی بنیاد پر انسان کی خوب کلاس لی۔ کتے کی وفاداری شاعری اور تصوف کے مضامین بن گئے۔ یوں کتوں پر رشک بھی کیا جانے لگا۔ اصحاب کہف کا کتا آج تک زبان زد خاص و عام بناہوا ہے۔ اشفاق احمد نے بھی کتے کے ایک واقعہ سے بہت بڑا سبق سیکھا ہے فرماتے ہیں کہ مجھے کافی دیر سے اس بات کی سمجھ نہیں لگ رہی تھی کہ اللہ تعالٰی انسان کو تکلیفوں کے عمل سے کیوں گزارتا ہے۔ وہ ایک ڈنگر ڈاکٹر کے پاس گئے تو وہاں ایک کتے کی کہانی سے ان کو اس بات کی حکمت کا پتہ چلا۔ بات کچھ یوں تھی کہ ایک انگریز میم ایک دن اپنا کتا ڈاکٹر کے پاس لائی اور اسے شکایت کی کہ وہ بڑی ہی اس کی خاطرمدارت کرتی ہے لیکن کچھ دنوں سے بیمار بیمار لگتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے میم سے کہا کتا ایک رات میرے حوالے کیا جائے اور اگلے دن واپس کردیا جائے گا۔ سو میم کتا چھوڑ کر چلی گئی اور ڈاکٹر صاحب نے کتے کو اس ہدایت کے ساتھ اپنے ملازم کے حوالے کر دیا کہ وہ اس کو جانوروں کے باڑے میں باندھے گا اور ہر گھنٹے بعد اس کی ٹکا کر لتر پریڈ کرے گا۔ اگلے روز میم کے آنے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور پھر میم کو واپس کیا جائیگا۔ جب کتا میم کے سامنے لایا گیا تو وہ دوڑ کر میم کے ساتھ لپٹ گیا اور میم کو اس کے ایسے علاج پر بڑا ہی تعجب ہوا جس سے کتا کا مزاج ٹھیک ہو چکاتھا۔ اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ وہاں سے مجھ پر عیاں ہوا کہ راغب الی اللہ ہونے کے لئے انسان کی زندگی میں تکلیفیں اور پریشانیاں کتنی ضروری ہیں۔ دیکھنے دیکھنے والے پہ منحصر ہے۔ غور و فکر کرنے سے انسان خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ مخلوقات کی تخلیق، اس کے خدوخال، رہن سہن معاشرت،طور طریقے، رنگ ڈھنگ وغیرہ وغیرہ ہم سب کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کوئی تو ہے۔ کوئی کی تلاش اہل ذکروفکر و دانش کو کرنا ہے۔ ارباب اقتدار الجھ کے رہے جاتے ہیں کتوں کو نہلاتے ہیں،بہلاتے ہیں، چوریاں کھلاتے ہیں بلکہ اپنے ہم جنسوں کا حصہ بھی انہیں ہی کھلا دیتے ہیں اور بالآخر یہی کتے ان کو بھونکتے ہیں اور مخصوص حالات میں ان کو کاٹ کھاتے ہیں۔ دعا کریں کتا باولا نہ ہو جائے ایسی صورت میں تو کئی انسانوں کا سر لے جاتا ہے۔ ہندوستان میں تو بے شمار لوگوں نے سر کے خطاب لے کر انگریزوں کے کتے نہلائے۔ “کتا انگریز کا” ہمارے ہاں ضرب المثل بھی رہا ہے۔ دیہات میں جب کسی نے کسی چودھری کی بے عزتی کرنا ہوتی تھی تو اکثر دل ہی دل میں کہتا تھا کتا “انگریز کا”۔خیر انگریزوں کے کتوں نے حکمرانی کی اور وہ بھی دو طرح کی۔ انگریز کے دل پر اور عوام کے سر پر۔ بیچاری عوام اپنے کندھوں پر سوار کر کے لاتی ہے اور پھر ان کے سروں پر حکمرانی کا خواب پورا کر کے ببانگ دہل عوام سے ہی یہ نعرہ لگوایا جاتا ہے یہ عوام کی حکومت ہے اور کسی کو عوام کے استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی البتہ اگر ایسا کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو ہم خود اس کام کے لئے کافی ہیں۔ آبادی زیادہ ہو گئی ہے اس کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ آوارہ کتے تلف کر دیئے جائیں۔ کاش ہم آوار،بدقماش، بدمعاش،بدچلن،بدطینت اور بدفطرت انسانوں کو تلف کرنے کی مہم چلاتے تو شاید آج پوری دنیا امن کا گہوارہ بن جاتی۔سوچیں ذرا سوچیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں