سوشل میڈیا ، مایوسی اور ڈاکٹر عامر لیاقت! ……… تحریر ، شفقت اللہ مشتاق

ویسے تو مایوسی گناہ ہے لیکن مایوسی کی چادر نے فی الحال ہمارے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے. ہر کوئی مایوس دکھائی دیتا ہے. کوئی حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہے. کوئی اداروں کی،کوئی امریکہ اوراس کے یاروں کی، کوئی دوستوں یاروں کی، کوئی اپنے ہی ستاروں کی، کوئی اپنے پرستاروں کی اور کوئی اپنے آپ سے ہی مایوس ہے۔ اپنے آپ سے مایوسی کی صورت میں انسان دل چھوڑ جاتا ہے اور پھر دل کمبخت اس کو بھی چھوڑ جاتا ہے. اس طرح ہر کسی کو ہر چیز چھوڑ چھاڑ کر اگلے سفر پر جانا پڑتا ہے. مایوسی کا ماحول غم واندوہ کے ماحول میں تبدیل ہو جاتا ہے. آہ وبقا,رونا دھونا, وین شین اور پھر آخری نماز ادا کرکے پورے ادب و احترام سے زمین کے حوالے کرکے مٹی ڈال دی جاتی ہے. کاش یہ مایوسی کی ہوا نہ چلتی تو کئی گھروں میں صف ماتم نہ بچھتا. حالات سے مایوس حضرات نماز کے لئے صف بندی کر لیتے اور اللہ اکبر کہہ دیتے تو ان کی دنیاوی معاملات سے توجہ ہٹائی جا سکتی تھی. لیکن امام مقتدی کی صفوں میں گھس گئے ہیں اور اس بات کا اوہلہ میڈیا نے اتاردیا ہے. اوپر سے ویڈیوز کی منڈی لگی ہوئی ہے. مال نایاب ہے گاہگ بالکل باخبر ہیں. قیمت کی ادائیگی کا کوئی مسئلہ نہیں. باقی بڑے بڑے مسئلے ہم نے مصلحت کے غلاف میں لپیٹ کر تاق نسیاں کی زینت بنا دیتے ہیں اور مصالحت کے سارے دروازے ہم نے بند کر دیئے ہیں.اب بند گلی اگئی ہے. کوئی ہے جو اچانک وارد ہو اور بند گلی کھول کر راستہ بنائے. حکمت اور دانائی کے راستے کھولنے سے ہی مایوسی کے راستے بند ہوتے ہیں. ہوشیاری اور چابکدستی بڑی ضروری ہے. بصورت دیگر کثرت ازواج نے آج کل ہر شخص کی مت مار رکھی ہے اور اکثرو بیشتر تو بندہ ہی مار دیتی ہے. میڈیا اورانٹرنیٹ کا دور ہے اور پھر ادھر ادھر دیکھنے کا دور دورا ہے. ہم چیزوں کو شروع شروع میں ایزی لیتے ہیں اور جب معاملات پیچیدہ ہوجاتے ہیں تو پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہوتا ہے. چیزیں کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہیں اور اندر کی دنیا میں طوفان برپا ہو جاتا ہے یہی طوفان مایوسی کو جنم دیتا ہے اور یوں بریکنگ نیوزاور اس کے نتیجے میں تبصرے. بات کے بتنگڑ بن جاتے ہیں. اصل بات ویسے ہی چھپ جاتی ہے اور معقول لوگوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملتی. قبر کی جگہ تو ہر کسی کو ملنی ہی ہے. پاوں پھیلا کر سونے میں ہی فائدہ ہے. نہیں تو ساری رات کی نیند اڑ جاتی ہے.

عامر لیاقت حسین کی اچانک موت نے بہر حال ہم سب کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بیوی ایک ہی اچھی نہیں تو رولے ای رولے۔ شوبز کی دنیا کا ایک اپنا ماحول ہے۔ مذہبی راہنما کی حیثیت سے عورتوں کی راہنمائی کرنے کے لئے ان سے شادیاں رچانے کے اپنے مسئلے مسائل ہیں۔ سیاستدان یقیینا شیشے کے گھر میں رہتے ہیں اور ان کو اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہیئے کہ اب ویڈیو بنانے کی فیکٹریاں بن چکی ہیں اور ویڈیو تھوک کے حساب سے بن رہی ہیں اور اگر ایک بھی ویڈیو منظر عام پر آجائے تو بےچینی، اضطراب، بدنامی،رسوائی اور پھرمایوسی جس کا انجام کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سٹڈی کے لئے عامر لیاقت حسین کیس ملاحظہ ہو۔ ڈاکٹر صاحب کا آخری پیغام سن کر پتہ چلا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا تھا کہ کسی کا راز تلاش نہ کرو اور اگر راز کا پتہ چل جائے تو فاش نہ کرو۔ جاتے جاتے ڈاکٹر مذکور کیا پیغام دے گئے ہیں آج کے پر فتن سوشل میڈیا کے دور میں ہم سارے ایک دوسرے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور “شبیر کی آنکھ” دوسروں کے عیب تلاش کرنے میں برسرپیکار ہے۔ بر سرمنبر کوئی بات ہو رہی ہے اور اندر خانے کچھ اور آٹا گوندھا جارہا ہے۔ مذہب کے نام پر تھوک کے حساب سے چینل بن گئے ہیں اور فرقہ بندی کو خوب پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ اصلاح کے نام پر کردار کشی تو کی ہی جارہی ہے اخلاقیات کی بھی خود کشی ہو رہی ہے۔ انسانیت کی تذلیل اور تضحیک فیس بکی دانشوروں کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔ جو جو جس جس کے دل میں آتا ہے کہے جا رہا ہے اور ہر حساس آدمی یہ سارا کچھ سن کر دنیا سے جا رہا ہے۔

اس ساری صورتحال پر دل خون کے آنسو روتا ہے اور جذبات کا بھی خون ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ اپنے دشمنوں کو مارنے کے لئے بڑا کچھ کرتے تھے اور آخر پر سازش بے نقاب ہونے پر قانون کی گرفت میں آجاتے تھے۔ اب تو آپ کو سوشل میڈیا کے استعمال کا طریقہ معلوم ہونا چاہیئے آپ کا دشمن اول تو جیتے جی مر جائے گا نہیں تو کسی کو منہ دکھانے قابل نہیں رہے گا۔ آپ کی سازش کامیاب اور آپ کے خلاف کوئی انسدادی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ اگر بھل چک کے کسی نے نوٹس دے ہی دیا تو آزادی رائے کے علمبردار اچانک جاگ جائینگے اور پھر تو پورے سوشل میڈیا پر آگ لگ جائیگی۔ اصل بات ختم اور اب آگ پر پانی ڈالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بات کو طول دینے کا کوئی فائدہ نہیں اور ویسے بھی اداروں کی در گزر پالیسی کی وجہ سے ہم سب فائدے اٹھا چکے ہیں بلکہ اب تو ہم انہی اداروں کو آنکھیں بھی نکال رہے ہیں۔ شاید اب پولیس مقابلے کی ضرورت ہے اور وہ پولیس مقابلہ جس میں نقصان دونوں طرف سے ہونے کا قوی امکان ہے۔ امکان کو اگر رد کئے جانے کی کوشش کی گئی تو مکان کو شدید خطرہ لاحق ہے اور حق تو ہے کہ متحارب قوتیں وقت کی نزاکت کا احساس کریں اور مکان کو محفوظ بنائیں ہم سب کے لئے مکان اہم ہے اور انسان ہونے کا ثبوت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ڈپریشن ہم سب کو لے دے جائے گا۔ ویسے ہم لینے دینے کے عادی ہیں اور کچھ لے دے کر اپنا کام نکلوا لیتے ہیں لیکن مایوسی وہ دیمک ہے جو اندر ہی اندر سے چاٹ جاتی ہیں اور کئی سال بعد احساس ہوتا ہے کہ بہت بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ تبدیلی لانے کے لئے اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑتا ہے اور میں مایوسی کا شکار ہوں میرے اعصاب جواب دے گئے ہیں میں بولے جا رہا ہوں۔ میں کیا بول رہا ہوں یہ تو مجھے خود معلوم نہیں۔ معلوم اور علم کا ایک ہی مادہ ہے جبکہ علم کا حصول بہت مشکل ہے اس کے لئے چین کا سفر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ہم سارا دن سوشل میڈیا سے وابستہ ہو کر امید بہار رکھتے ہیں۔ زور زور سے چیخنے چلانے کی ضرورت ہے تاکہ معصوم عوام کی توجہ سوشل میڈیا سے ہٹا کر اصل حقائق کی طرف مبذول کروائی جائے۔ اور ان پر یہ واضح کیا جائے کہ ایک دوسرے کے پیچھے پڑنے کے کوئی نمبر نہیں ہیں بلکہ ہر کوئی اپنے پیچھے پڑے اور اس دنیا کو خوبصورت بنانے میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔ اللہ کی طرف دیکھے۔ غیر اللہ کی طرف دیکھنے سے مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ آو امید کی شمع جلاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں