سول ہسپتال فیصل آباد کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ ٹھپ ، مریض اذیت کا شکار

فیصل آباد ، ثناء رئوف بھٹی

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال () کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ ایک سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا ، ٹھیکیدار کروڑوں روپے مالیت کی سولر پلیٹس ہسپتال کی چھت پر نصب کر کے غائب ہو چکا ہے جبکہ موسم گرما میں بجلی کی بندش اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ہسپتال میں داخل مریضوں اذیت کا شکار ہیں ، ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے سولر انرجی منصوبے کے حوالے سے مسلسل خاموشی کا اظہار کیا جارہا ہے-

فیصل آباد کے دوسرے بڑے سرکاری ہسپتال ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں ایک سال قبل بجلی کے متبادل سولر انرجی منصوبہ تشکیل دیا گیا جس کی پنجاب حکومت کی جانب سے منظوری دیتے ہوئے 340 ملینز روپے کے فنڈز بھی جاری کردئیے گئے- منصوبہ پر عملی اقدامات کرتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار کی جانب سے ہسپتال کی چھت پر سولر پلیٹس کی تنصیب کی گئی جس کے بعد منصوبہ کا افتتاح بھی صوبائی وزیر کی جانب سے کیا گیا تھا- منصوبے کے کنٹریکٹر کی جانب سے کئی ماہ قبل ملینز روپے مالیت کی سولر پلیٹس کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کی ایمرجنسی بلاک سمیت دیگر وارڈز کی چھتوں پر نصب کر دیا گیا لیکن اس کے بعد بغیر کسی وجہ کے ٹھیکیدار نے منصوبے پر کام ادھورا چھوڑ دیا اور آج تک واپس نہ آیا جس کی وجہ سے ملینز روپے کا پراجیکٹ تعطل کا شکار ہے جس سے ملینز روپے کے نقصانات کا خدشہ بھی ہے-

فیصل آباد کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال ضلع کا دوسرا بڑا سرکاری ہسپتال ہے جہاں پر روزانہ 800 سے زائد مریض آئوٹ ڈور وارڈ میں علاج معالجے کے لئے آتے ہیں جبکہ 250 سے زائد مریض ایمرجنسی وارڈز میں لائے جاتے ہیں اسی طرح مختلف شعبوں کے وارڈز میں بھی 1000 کے قریب مریض داخل رہتے ہیں لیکن موسم گرما میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اس کے متبادل انتظامات بھی مناسب طریقے سے نہیں کیے جارہے جس کی وجہ سے ہسپتال کا رخ کرنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا شکار ہیں ، ایک طرف وہ بیماری کا مقابلہ کررہے ہیں تو دوسری جانب شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی بندش کے بعد لوڈشیڈنگ کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں-

سابق پنجاب حکومت کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال کو بجلی کے متبادل انتظامات کے لئے سولر انرجی پر منتقل کرنے کے لئے عملی اقدامات شروع کئے گئے تاکہ سولر انرجی کے انتظامات سے ایک طرف مریضوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل ہو جائے گی تو دوسری جانب بجلی کی مد میں لاکھوں روپے ماہانہ بچت ممکن ہو سکے گی لیکن ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود متعلقہ ٹھیکیدار کی جانب سے سولر پلیٹس کی تنصیب کے باوجود ان کے کنکشنز کئے گئے ہیں نہ ہی ان کی تنصیب سائنسی انداز میں کی گئی ہے جس کی وجہ اب سولر پلیٹ اکھڑنے لگی ہیں – اس صورتحال میں حکومت کا 340 ملین روپے لاگت کا منصوبہ ٹھپ ہو کررہ گیا ہے جس سے اب تک اخراجات کی مد میں ملینز روپے کے ضیاع کا خدشہ ہے اسی طرح مریضوں کو بجلی کی بندش کا اذیت کا سامنا ابھی اور کرنا پڑے گا –

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز انتظامیہ نے اپنے موقف میں بتایا کہ ہسپتال کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ سابق پنجاب حکومت کا تھا اور انہوں نے ہی ٹھیکیدار ہائیر کیا تھا اس میں ہسپتال انتظامیہ کا کوئی کردار نہیں تھا ، ہم نے اپنی رپورٹ پنجاب حکومت کو ارسال کردی گئی جس میں منصوبے کے حوالے سے تفصیلات کا اندراج کر دیا گیا ہے اب نئی پنجاب حکومت اس بارے کیا فیصلہ کرتی ہے چند روز میں پتہ چل جائے گا –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں