پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ۔۔۔۔ ایک چیلنج! ………… ( تحریر: عبدالقادر مشتاق )

پاکستان پیپلز پارٹی کا پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی بڑا اہم کردار رہا ہے۔ اس پارٹی کے پلیٹ فارم سے ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو جیسی قد آور شخصیات پاکستان کی سیاست میں آئیں اور دنیائے عالم میں پاکستان کے مفادات کے محافظ بن گئے۔ اس پارٹی نے پاکستان کو دستور دیا اور دستور میں ہمیشہ ایسی ترامیم متعارف کروائیں جس سے ملک میں جمہوری روایات کو فروغ ملا، صوبائی خودمختاری کے دروازے کھلے۔ اس سلسلے میں اٹھارویں ترمیم قابل ذکر ہے۔ جس کے تحت مرکز سے اختیارات لے کر صوبوں کے حوالے کیے گئے۔ جس پر پیپلز پارٹی کو خراج تحسین بھی ملا اور تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ نقاد نے کہا کہ صوبوں میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ احسن طریقے سے معاملات کو چلا سکیں۔ اسی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبائی ہایر ایجوکیشن کمیشن کا قیام بھی عمل میں آیا۔ جس کے نتیجے میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کردار منظر عام پر آیا۔ ڈاکٹر نظام الدین نے بطور چیرمین اس کی باگ ڈور سنبھالی اور اس کی سمت متعین کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان کے جانے کے بعد یہ ادارہ پنجاب میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی نظام میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔ جون 2022 میں حکومت پنجاب نے ڈاکٹر شاہد منیر واس چانسلر یونیورسٹی آف جھنگ کو چیرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن لگا دیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد منیر سے میری پہلی ملاقات یونیورسٹی آف جھنگ میں ایک سیمینار میں ہوی۔ ان کی صلاحیتوں کا بڑا معترف ہوں اس لیے کہ انہوں چند سالوں میں یونیورسٹی آف جھنگ کو جس طرح تعمیر کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے خوبصورت عمارتیں تعمیر کروائیں، طلبہ و طالبات کو اعتماد دیا جس سے ادارہ ہذا میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا، تعلیمی پروگرام شروع کیے، محنتی اور قابل اساتذہ کو تعینات کیا۔ ان کی ان خدمات کو دیکھتے ہوئے گورنمنٹ آف پنجاب نے ان کو ایک بہت ہی مشکل ذمہ داری دی ہے۔ مرے ہوئے ہاتھی میں روح پھونکنے کا کام ہے۔ ڈاکٹر شاہد منیر صاحب سے بہت ساری امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں کیونکہ ان کی بصارت اور بصیرت انہیں ناکام نہیں ہونے دے گی۔

سب سے پہلے انہیں تعلیمی اداروں اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان موجود خلیج کو ختم کرنا ہو گا تاکہ اعتماد کی فضا قائم ہو سکے۔کیونکہ سارے کام اعتماد سے ہی ہوتے ہیں۔ اعتماد قائم کرنے میں وقت لگتا ہے۔ وقت بہت کم ہے اور کم وقت میں بہت سے کام ڈاکٹر شاہد منیر صاحب کو کرنے ہیں۔ قومی و بین الاقوامی سیمنار اور کانفرنسوں کے انعقاد کے لئے فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہے، نوجوانوں کے لئے بین الاقوامی سکالرشپ متعارف کروانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لا سکیں، بین الاقوامی اساتذہ کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں پڑھانے کے لئے پالیسی متعارف کروائی جائے، ٹیچر ٹریننگ پروگرام شروع کیا جائے، ٹیرولنگ گرانٹس کا نظام از سر نو شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی سکالرز بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں، صوبائی سطح پر یونیورسٹیوں اور کالجزز کی رینکنگ کروانے کے لیے ایک معیار مقرر کیا جاے، ریسرچ کو فروغ دینے کے لیے کالجز میں ریسرچ جرنلز شروع کیے جائیں،ہر سال بیسٹ ٹیچر، بیسٹ ایڈمنسٹریٹر، بہت ریسرچر کا ایوارڈ متعارف کروایا جائے، تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر ادارہ تصنیف و تالیف کو متحرک کیا جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں ہونے والی ریسرچ لائبریری کی الماریوں سے نکل کر کتابوں کی شکل میں عام لوگوں تک پہنچ سکے، اساتذہ کو ریسرچ گرانٹس دیں جائیں تاکہ معاشرے کو پیش آنے والے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے، ہر سال اچھی کتابوں کو ایوارڈ دیے جائیں، سول سوسائٹی کو تعلیمی اداروں کے ساتھ جوڑنے کے لیے ایم او یوز کو عملی شکل دی جانی چاہیے،پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لئے پالیسی متعارف کروائی جائے تاکہ پاکستانی ادارے بین الاقوامی اور قومی طلبہ و طالبات کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں، صوبائی سطح پر ایک ریسرچ فورم قائم کیا جائے جس کی سال میں دو میٹنگ ضرور ہونی چاہیے، صوبائی واس چانسلرز کمیٹی بنائی جاے جو تعلیمی اداروں کے مسائل اور ترقی کے بارے میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کو مطلع رکھے، ہر ماہ ایک نیوز پیپر جاری کیا جائے جو تعلیمی اداروں میں ہونے والی ترقی کو عوام کے سامنے لا سکے۔

کالجز میں پرنسپل کی تعیناتی کے لئے پی ایچ ڈی کی شرط عائد کی جائے تاکہ گورنمنٹ کالجز میں بھی ریسرچ کو فروغ مل سکے اور یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات کا رش تھوڑا کم ہو سکے،ان سارے معاملات کو عملی شکل دینے کے لئے اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ہایر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان بھی اعتماد کی فضا قائم رہے۔ وہ ایک دوسرے کو ناکام کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی معاونت کریں تاکہ تعلیمی معیار بہتر ہو سکے۔ بیورو کریسی اور تعلیمی ماہرین میں ہم آہنگی ہونا ضروری ہے۔ ڈاکٹر شاہد منیر صاحب زیرک انسان ہیں اور معاملات کو بہتر چلانے کی استطاعت رکھتے ہیں اس لئے امید واثق ہے کہ آنے والے دنوں میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک نئی رمق اور دمق کے ساتھ تعلیمی نظام میں طلوع آفتاب ثابت ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں