عمران رضا عباسی اور انتہائی قدم ! ………. تحریر، شفقت اللہ مشتاق

اللہ خیر کرے نہ جانے ہمیں کس کی نظر لگ گئی ہے۔ ہر روز ایک نیا واقعہ اور وہ بھی اس نوعیت کا ہوتا ہےکہ سارا ملک ہی غم میں ڈوب جاتا ہے۔ اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔ دل مغموم اور آنکھیں پرنم ۔ اس ساری صورتحال سے سارا معاشرہ مجموعی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر یہ انہونے واقعات رونما کیوں ہو رہے ہیں اور ان سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے۔ شاید ہم یہ دونوں کام کرنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ ہمارے اندر چور ہے اور اس اندر کے چور نے ہماری باہر کی دنیا اجیرن کردی ہے۔ ویسے تو ہم سب بھائی بھائی ہیں لیکن فلسفہ مواخات سے مکمل طور پر ناواقف ہیں ہاں البتہ برادران یوسف کو ہم نے پڑھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم مرنے مارنے پرتلے ہوئے ہیں۔ معاشرتی رویوں نے ہمارے درمیان کوچ موچ کی دیواریں کھینچ دی ہیں اور ہم سب تنہا تنہا رہنے پر مجبور ہیں بلکہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر بدظن اور مایوس ہوچکے ہیں۔ پورا معاشرہ تصنع،بناوٹ اور چکربازی کے امراض کا شکار ہو چکا ہے۔ ہر شخص اپنے ہی ہم جنس کو شکار کرکے اپنے آپ کا لوہا منوانا چاہتا ہے۔ بھیڑ کو بھیڑیا اٹھانے کے چکر میں ہے۔ کوئی مار خور بن گیا ہے تو کوئی حرام خور۔ ہاں البتہ اس پرفتن دور میں حساس لوگ چکرا کے رہ گئے ہیں بلکہ ان کو ان کے اپنوں کے رویوں نے ہی ماردیا ہے۔ کاش کوئی ان کو بتائے کہ یہ دنیا ہے جس کو صوفی شاعرسلطان باہو نے حیض پلیدی قرار دیا تھا۔ یہاں جینے کے لئے سر اٹھا کر چلنا پڑتا ہے۔ زندگی کے دن پورے کرنے کے لئے پورے دنوں کا اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اعصابی جنگ ہے میاں! اعصاب مضبوط رکھنا شرط اول ہے۔ اور اول آنے کے لئے ہٹ دھرم ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے پکے پیڈے بن جاو اور آگے بڑھنے کے لئے پیچھے مت دیکھو۔ آگے پیچھے کے چکر میں انسان تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔ منجدھار اس کا مقدر بن جاتا ہے اور وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ویسے ہم سب مجبور بھی ہیں مہجور بھی۔ اس ساری صورتحال میں خود اعتمادی ہی ہمارا آخری سہارا ہے۔ جبکہ سارے انسان اس دولت سے مالامال نہیں ہوتے۔ ہم کم وقت میں زیادہ سے زیادہ سفر طے کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے پاس رخت سفر بھی نہیں ہے اور میر کارواں خود ڈبل مائنڈڈ ہے۔ خاموش اے دل ورنہ دل آزاری تیرا مقدر ہے۔مزاجوں کی نفاست اور شائستگی کا فقدان ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کا نہ ہمارے پاس وقت ہے اور نہ ہم اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ آہ کس کو آواز دیں دور دور تک کوئی مونس و غمخوار نہیں ہے۔

چند روز قبل عمران رضا عباسی کی ناگہانی موت سے ہم سب پر سکتہ طاری ہو گیا۔ یقین مانیں میں تو حیران اور ششدر رہ گیا اور اس سوچ میں کھو گیا کہ کیا راتوں رات ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ ہاں رات بڑی خوفناک ہوتی ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ خدا بخشے ان کی اچانک موت نے پورے معاشرے کو مجموعی طور پر اور سارے افسروں کو خصوصی طور پر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایسا کرنے پر کیوں مجبور ہوئے۔ ویسے بھی تو ہم بات کی کھال اتارتےہیں اور آخر پر ہر چیز کو کھوہ کھاتے ڈال دیتے ہیں تاکہ ہم میں سے کسی کی رسوائی نہ ہو اور ہم سب ایک دوسرے کی نظروں میں سرخرو ہو جائیں۔ میری طرح سب واقفان حال جانتے ہیں کہ عمران عباسی اپنی انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرکے مجسٹریٹ درجہ اول بھرتی ہو گئے۔ ڈیوولیشن کے نظام نے ان کو محض ریونیو افسر بنا دیا۔ خوب سے خوب تر کی تلاش میں انہوں نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس جوائن کرلی۔ اسلام آباد کا چکر لگایا اور لاہور آکر اس دنیا کو مستقل خیر آباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔ بہت بڑا فیصلہ بلکہ بہت ہی بڑا فیصلہ اور ایسا فیصلہ کرنے کے لئے دنیا والوں سے مکمل طور پر مایوس ہونا پڑتا ہے۔ ویسے تو دنیا والے بھی اپنے ڈھنگ کے لوگ ہیں وہ اپنا نفع نقصان دیکھتے ہیں اور دنیا کی منڈی کا اپنا اتار چڑھاو ہے۔ یہاں یوسف اٹی کے مول بھی بک سکتا ہے اور قید خانے سے آزاد ہوکر مسند نشین بھی ہو سکتا ہے۔ کاش یہ راز زندگی حساس لوگوں کو بتا دیا جاتا تو ان کو احساس ہو جاتا کہ یہاں کسی بات کو دل پر لگانے کوئی ضرورت نہیں۔ بات کو دل پر لگا لیا جائے تو ہارٹ فیل کی صورت میں انسان زندگی جیسی دولت سے محروم ہوجاتا ہے اور اگر دماغ پر لگا لے تو اس کو پنکھے سے جھولنا پڑتا ہے۔ میری ذاتی طور پران سے بے شمار ملاقاتیں رہیں۔ گھنٹہ گھنٹہ فون پر بھی کھلی گپ شپ ہوتی رہی۔ مختلف موضوعات ہمارے معاشرتی، اقتصادی اور معاشی مسائل۔ سول سروس میں فرقہ بندی اور سٹرکچرل تبدیلیاں۔ مذہبی ہم آہنگی اور شریعت، طریقت،معرفت اور دیگر بے شمار موضوعات۔

مجھے ان سے دوران گفتگو ہمیشہ اپنی کم علمی کا احساس ہوا۔ پختہ سوچ، بیدار مغز، روشن خیال، فہم و فراست، صاف گوئی، پاکیزہ سوچ اور کچھ کرنے کا جذبہ اور ہمت۔ میں سمجھتا ہوں شاید وہ اسی لئے کیا سے کیا ہوگئے اور بالآخر رات کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اپنے ہی ہم وطنوں سے مایوس ہو گئے۔ کیوں ہوئے اس کا اندازہ تو شاید ہر افسر کو بخوبی ہوتا ہے ہاں البتہ اس بات کا کسی کو شعوری احساس نہیں ہوتا۔ کوئی بھی شخص جب کسی ذمہ دار عہدہ پر متمکن ہوتا ہے تو اس کو ہمارا معاشرہ خوب ہوا دیتا ہے اور جب اسی شخص کا معاشرے سے پالا پڑتا ہے تو اس کی جھٹ میں ہوا نکال دی جاتی ہے۔ اقربا پروری، سفارش کا کلچر، میرٹ کی دھجیاں اڑنا، مروجہ نظام کی مصلحتیں، ڈاہڈے کا زور اور انصاف کا شور اور اس بات کا احساس کہ عملی زندگی کی موٹر وے میں دانستہ زگ زیگ بنائے گئے ہیں تاکہ گاڑی کے ڈرائیور کو حسب ضرورت روک کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا جا سکے۔ بار بار رکنے سے کوفت تو ہوتی ہے اور کوفت ڈپریشن اور پھر شیزو فرینیا جیسی امراض کو جنم دیتی ہے۔ کاش ہمارا معاشرہ کچھ اصول طے کر لیتا تو کوئی بھی افراط تفریط کا شکار نہ ہوتا۔ کوئی بڑی بڑی امیدیں نہ لگاتا۔ کوئی کسی کا راستہ نہ روکتا اور روک ٹوک کے سارے دروازے بند ہو جاتے۔ کوئی اپنی اچھی تعیناتی کے لئے دائیں بائیں نہ دیکھتا تو کوئی بھی لوگوں کے رویوں سے دل برداشتہ ہو کر خود کشی کرنے پر مجبور نہ ہوتا۔ اے آدم کی اولاد! سوچنے کی ضرورت ہے اور آنکھ کھول کر دیکھنے اور دوسروں کی آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ تجھ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تو احساس کمتری کے خول سے نکل اور احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کر تاکہ ایسے حساس لوگوں کو زمانے کی شورشوں سے بچایا جا سکے اور اے حوا کے بیٹے اگر تیرے لئے ایسا نظام وضع کرنا ممکن نہ ہے تو کم از کم یہ بیانیہ ہی بنا دے کہ ہم سب کو ہٹ دھرم ہو جانا چاہیئے۔ مختصرا تاحال یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ عمران رضا عباسی نے نظام کی خرابیوں اور معاشرتی رویوں سے دل برداشتہ ہو کر خود ہی اپنا خون کیا ہے۔ اب پورے معاشرے پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش کرے تاکہ عمران عباسی کی موت کے بارے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں