معاشی خود مختاری و استحکام ! …………… تحریر ، اورنگزیب اعوان

قیام پاکستان سے لیکر آج تک معاشی خود مختاری و استحکام کا خواب آنکھوں میں سجائے عوام حکمرانوں کی طرف دیکھ رہی ہیں. ہر دور حکومت میں بلند و بالا دعوئے کیے جاتے ہیں. کہ ہماری معاشی پالیسیوں کی بدولت ملک بہت جلد بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے سے نکل جائے گا. مگر یہ ایک ایسا سہانا سپنا ہے. جس نے کبھی حقیت کا روپ نہیں دھارا. جو بھی حکومت برسر اقتدار یوتی ہے.وہ عوام کو یقین دہانی کرواتی ہے. کہ اس کی موجودہ معاشی پالیسی کے ثمرات کی بدولت ملک بیرونی قرضوں کی دلدل سے نجات حاصل کر لے گا.مگر بعد میں آنے والی حکومت کا موقف بالکل اس کے برعکس ہوتا ہے. بقول اس کے سابق حکومت قومی خزانہ کو خالی کر گئی ہے. ہمارے پاس تو ملک چلانے کے لیے بھی پیسہ نہیں . اس لیے مجبوری میں ہمیں بیرونی دنیا سے قرضہ لینا پڑے گا. جس کی وجہ سے وقتی طور پر عوام کو مالی مشکلات برداشت کرنا پڑے گی. یہ بات سن سن کر عوام کو یقین ہو چکا ہے. کہ ملکی معیشت کبھی بھی درست سمت نہیں جا سکتی. شاید اس میں ہمارے حکمرانوں کی نااہلی کا عمل دخل زیادہ ہے. ملک پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے. اس کے باوجود یہ ترقی کی منازل طے نہیں کر پا رہا. یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے. اس ملک میں ذہین اور قابل لوگوں کی کمی نہیں. ہمارے سامنے ایسی ان گنت مثالیں موجود ہیں. کہ ایک عام سے انسان نے خالی ہاتھ چھوٹے سے کاروبار کا آغاز کیا. اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں میں اس نے ترقی کی لازوال داستان راقم کر دی. یہ ان لوگوں کی خداداد صلاحیتیں ہوتیں ہیں. جن کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ مشکلات سے لڑ کر اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں. جس کا انہوں نے خواب دیکھا ہوتا ہے. تو پھر کیا وجہ ہے. کہ ملک پاکستان ترقی نہیں کر پا رہا. انفرادی طور پر تو افراد ترقی کی منازل طے کر لیتے ہیں. مگر بحیثیت مجموعی قوم ترقی کا ایک زینہ بھی طے نہیں کر پاتے. شاید ہم اپنی ذات کے لیے بہتر طور پر لڑتے ہیں. اور دوسروں کی بہتری اور مفاد میں ہم وہ دلچسپی نہیں دیکھاتے جو کہ دیکھانی چاہیے. یہی وہ قباحت ہے. جو ملک کو زوال کی طرف دھکیل رہی ہے. جس دن ہم نے یک جان ہو کر ایک قوم کی حیثیت سے معاشی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کا پختہ عزم کر لیا. دنیا کی کوئی طاقت ہمیں معاشی ترقی سے نہیں روک سکتی. سابق وزیراعظم عمران خان آجکل بھاشن دیتے پھر رہے ہیں. کہ انہیں حکومت سے بیرونی سازش کے تحت بے دخل کیا گیا ہے. ان کی اس بات کو ایک لمحہ کے لیے درست تسلیم کر لیا جائے. تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے خلاف بیرونی سازش کیوں کی گئی.

کیا عالمی طاقتوں کو ان کے کسی فعل سے اختلاف تھا. اگر ایسا تھا. تو انہوں نے اس سے بروقت افواج پاکستان اور عوام کو آگاہ کیوں نہیں کیا. یہ آج جس امریکہ پر الزام لگا رہے ہیں. اسی ملک میں کچھ عرصہ قبل ایک جلسہ کیا تھا. جسے امریکہ کی تاریخ کا ایک بڑا جلسہ قرار دیا گیا بقول ان کے کہ تیس سے چالیس ہزار لوگ موجود تھے. واپسی پر انہوں نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر کہا تھا. کہ آج میں امریکہ سے ورلڈ کپ جیت کر آیا ہو. ان کا استقبال بھی ایسے فقید المثال طریقہ سے کیا گیا تھا. کہ واقع ہی یہ بہت بڑی کامیابی سمیٹ کر آئے ہیں. ان کا کہنا تھا. کہ امریکہ نے مقبوضہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دے دیا ہے. اب بہت جلد مقبوضہ کشمیر آزاد ہو گا. پھر انہیں آنکھوں نے وہ منظر دیکھا کہ انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کی الگ حیثیت کو ختم کر کے اس پر اپنا تسلط قائم کر لیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی نسل کشی شروع کر دی.. جو آج تک تھم نہیں پائی. ورلڈ کپ جیت آنے والے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ ہار کر آگئے. مگر عوام کو کچھ اور ہی بتاتے رہے پھر روس کا دورہ کیا. یہ جانتے ہوئے بھی کہ روس بھارت کے بہت قریب ہے. اس نے بھارت کے خلاف ہمارا ساتھ کبھی نہیں دینا. ان کے اس اقدام پر یورپ امریکہ سمیت اکثر اسلامی ممالک نے بھی تنقید کی. کیونکہ کافی عرصہ سے روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے. دورہ روس کا مطلب دنیا کو واضح پیغام دینا تھا. کہ ہم روس کے موقف کے ساتھ ہے. یہ ایک حماقت تھی. کیونکہ روس اس وقت ہمیں کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں. وہ تو خود عالمی پابندیوں کی زرد میں ہے. اس پر ایک اور ستم ظرقی آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا معاہدہ تھا. جس کی روح سے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہونا یقنی عمل ہے. ان کے دورہ روس کے منفی اثرات برپا ہوئے ہیں. ملا کچھ نہیں الٹا کھو بہت کچھ دیا ہے. عالمی دنیا ہمیں امن دشمن کی نظروں سے دیکھ رہی ہے. ایسے میں روس سے تیل کا معاہدہ امن پسند اقوام کی نظروں میں ہمیں اور زیادہ مشکوک بنا دے گا. معاشی ترقی دنیا کو ناراض کر کے نہیں ملتی. اس کے لیے اقوام عالم سے برادرانہ تعلقات قائم کرنا ہوتے ہیں. تاکہ ملکی برآمدات بڑھنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بے پناہ اضافہ ہو سکے . عوام کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو ملک میں سرمایہ کاری پر رضا مند کرے. اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے. اس طرح عام آدمی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوگے. اور اس کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا. جب عام آدمی کی ماہانہ آمدن میں اضافہ ہوگا. تو لامحال طور پر مہنگائی میں بھی کمی دیکھنے کو ملے گی. ملکی سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے. باہم مل جل کر معاشی پالیسی تشکیل دینا ہوگی. جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ پائے. بعض اوقات کسی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے کڑوی گولی نگلنا پڑتی ہے. کیونکہ یہ وقتی تکلیف مستقل آرام کی علامت ہوتی ہے. موجودہ حکومت بھی معاشی استحکام کے لیے مشکل ترین فیصلہ جات کر رہی ہے. اللہ کرے اس کے مثبت اثرات برآمد ہو. ورنہ یہ بھی ایک ٹیکا ہی ہوگا جو عوام کو لگایا جائے گا. ہر صورت میں عوام ہی مرتی ہے. عوام کو تو ہمارے سیاستدانوں نے تجربہ گاہ سمجھ رکھا ہے.جو بھی آتا ہے وہ اس پر تجربات کرنا شروع کر دیتا ہے. پانچ سال کی تکمیل پر سیاستدان ہاتھ جھاڑ کر گھر چلے جاتے ہیں. مگر ان کے غلط فیصلوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے. مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام کو مزید امتحان میں مت ڈالے. سرمایہ دار طبقہ پر ٹیکسز کی بھرمار بھی مہنگائی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی. جب سرمایہ دار پر ٹیکس کی مد میں اضافہ کیا جائے گا. تو وہ اپنی تیار کردہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دے گا. جس کا بوجھ بالواسطہ طور پر عام انسان کو ہی برداشت کرنا پڑے گا. عوام اس وقتی نقصان کو برداشت کر سکتی ہے اگر اسے یقین ہو. کہ ہماری معاشی پالیسیوں کی بدولت ملک ترقی کی منازل طے کر پائے گا. کہی یہ حکومت بھی عوام کو لالی پاپ پر ہی نہ ٹھرکا دیں.. پاکستانی عوام ہر قربانی دینے کو تیار ہے. مگر اس کی قربانی کا صلہ بھی تو اسے ملے. خدارا تمام لوگ اپنی اپنی ذاتی انا اور مفاد کو پس پشت ڈال کر ایک سوچ کے تحت آگے بڑھے. جس کا واحد مقصد ملک کو معاشی خود مختاری و استحکام کی راہ پر گامزن کرنا ہو. وزیراعظم شہباز شریف کے ماضی پر نظر ڈالے تو پتہ چلتا ہے. کہ انہوں نے جس منصوبہ کو بھی شروع کیا. اسے انتہائی قلیل عرصہ میں پایہ تکمیل کو پہنچایا. ان کی محنت اور لگن میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں. اب انہوں نے معاشی مشکلات میں گھیرے پاکستان کی قیادت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے. تو ان سے قوی امید ہے. کہ یہ شب و روز کی محنت سے ملک پاکستان کو معاشی بد حالی سے نکال کر ترقی کی منازل کی طرف گامزن کرے گے. انشاءاللہ بہت جلد ملک پاکستان دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں شمار ہو گا. ہمارے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں. بس کام کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے. افواج پاکستان بھی موجودہ معاشی مشکلات میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے. اور وہ اس ملک کو معاشی استحکام کی طرف لیجانے میں پیش پیش ہے. اسی طرح دیگر ملکی ادارے بھی اس مشکل گھڑی میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں. قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے ریتے ہیں.

جو گبھرا جاتیں ہیں. وہ اہنا وجود کھو دیتی ہیں. اور جو ان مشکلات کے سامنے ڈٹ جاتیں ہیں. وہ ترقی کی منازل طے کر لیتی ہیں. قوم کے موجودہ اتحاد کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے. کہ انشاء اللہ بہت جلد پاکستان کو دنیا کی ترقی یافتہ معیشت کے طور پر دیکھا جائے گا. ہمیں اب بیرونی قرضوں کی بجائے اپنے ملکی وسائل پر انحصار کرنا ہو گا. تبھی معاشی استحکام اور خود مختاری کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں